ملک بیتی - ضیغم قدیر

آج شہر بھر کی سڑکیں چمک رہی تھیں۔ وہ حیران تھا کہ آخر آج اتنی صفائی کیوں ہے؟ حالانکہ روز یہیں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہوتے ہیں لیکن آج تو ان کا نام و نشان نہیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ آج حکمران جماعت کے سیاسی رہنما آ رہے ہیں اس لیے ایسے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس نے سوچا چلو آج لیڈر کو ہی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کیسے ہیں؟

پھر وہ بھی اس جلسے کی طرف چل دیا جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ وہ بھی کسی نہ کسی طرح آگے بڑھتا گیا تاکہ اس لیڈر کو باآسانی سن سکے۔ لیڈر آئے، فیتہ کاٹا جو کسی سستی بس سروس کا تھا۔ اس کے بعد دعووں کی ایک طویل فہرست پر مشتمل تقریر کی اور حکومت کو عوام کا خیر خواہ ظاہر کیا۔ وہ تقریر سن کر بہت متاثر ہوا اور حقیقت میں رہنما کو اپنا خیر خواہ سمجھنے لگا۔

چند ماہ بعد اس کی بہن پر گرم دودھ گر پڑا، وہ بری طرح جھلس گئے۔ وہ اسے لے کر سرکاری ہسپتال پہنچا جہاں ڈاکٹروں نے کہا کہ بچی کو سرجری کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے اخراجات سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔

"یہ سرکاری ہسپتال نہیں؟ یہاں تو علاج مفت ہونا چاہیے!"

"ہسپتال کا فنڈ سستی بس سروس میں لگا دیا گیا ہے، اس لیے اس کا علاج بغیر پیسوں کے نہیں ہو سکتا۔" جواب ملا جو صرف جواب نہ تھا بلکہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط تھے۔ مکمل علاج نہ ہونے کی وجہ سے بالآخر اس کی بہن انتقال کرگئی اور وہ سوچتا رہ گیا کہ کیا کسی کی جان سستی بس سروس سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟ کیا وہ لیڈر جو صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہ کرے، عوام کا خیر خواہ ہو سکتا ہے؟