علمائے حق اور علمائے سوء - بلال شوکت آزاد

ویسے یہ دنیا یہ کائنات اور اللہ کا سارا نظامِ قدرت ہی علم کا بہت گہرا سمندر ہے، جو جتنی طلب رکھتا ہے اللہ اس کو اتنے ہی علم سے فیضیاب کرتا ہے۔ جس نے اس دنیا کے جس علم میں محنت اور مشقت کی اس نے اس کی معراج پا لی اور وہ اپنا نام تاریخ میں اچھے یا برے لفظوں میں درج کروا گیا۔

مغربی اقوام نے علم کو مادیت اور اس کی تحقیق کا جز سمجھا اور وہ دنیاوی علوم میں یکتائے روزگار ہو کر دنیا میں عزت اور قدرومنزلت کے مزے لوٹنے لگے کہ اللہ کے ہاں کافر یا غیر مسلم کی جنت یہی دنیا ہے جبکہ مسلمان کی جنت تو اللہ نے الگ مزین کی ہے۔

مسلمان کو اللہ نے دنیاوی علوم کا راستہ تو دیا مگر انبیاء بالخصوص آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ و تبع تابعین کی روش اور الہامی علم کی دولت سے بھی نوازا۔ لیکن علم کی کمی جس طرح انسان کو عمل سے روکتی ہے اور وہ کم علمی کی وجہ سے درست فعل انجام نہیں دے پاتا۔ اسی طرح علم کی زیادتی بھی انسان سے عمل چھین لیتی ہے اور پیچھے فقط رہ جاتی ہے پر مغز تحقیق اور مناظروں کی محفلیں۔

علم نہ ہو تو انسان خاموشی اختیار کر لیتا ہے لیکن اس کے لیے عقل ہونا ضروری ہے۔ عقل سے عاری کم علم انسان کی زبان فتنوں کو جنم دیتی ہے، خواہ وہ علوم دینیہ سے متعلق ہو یا علم دنیا کے۔

لیکن کیا علم حاصل کرکے بڑے بڑے القابات کو ناموں کے ساتھ جوڑ کر، معاشرے میں مذہب و روحانیت کے ٹھیکیدار بن کر، عمل سے کوسوں دور صرف بحث و مباحثے، تفرقے بازی،مناظروں اور تقریر و وعظ کی فصل بو کردین و دنیا کو کوئی مثبت پیغام دے رہے ہیں؟

کیا وہ ہر سزا سے مستثنیٰ ہیں جو دوسروں پر تھوپ کر وہ دن رات فتووں کی فیکٹری چلا رہے ہیں؟

کیا ہیں وہ پیرا میٹرز جو علمائے حق اور علمائے سوء میں واضح فرق کی لکیر کھینچ کر دونوں کو الگ کرتے ہیں؟

درحقیت علمائے حق کا کردار اجلا اور صاف ہوتا ہے۔ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے متصادم نہ کوئی بات کرتے ہیں اور نہ ہی ایسی تعلیمات کی تائید و تقلید کرتے ہیں۔ انہیں اپنے علم پر کوئی تفاخر نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کے بندوں میں عاجز اور متقی کے طور پر مقبول ہوتے ہیں۔ فتنہ و فساد کو مٹانے والے، علم کی ترویج و تبلیغ کا سہارا لینے والے، تفرقہ بازی و ریاکاری سے کوسوں دور، اہل شرکت و بدعت کی تردید و اصلاح کرنے والے، دین و دنیا کے علم میں مسابقت ختم کرکے معتدل راستہ دکھانے والے، سچائی اور علم سے محبت ان کا شیوہ، حسن و اخلاق میں بہترین، گفتار و کردار دونوں کے غازی، انسانیت کی قسم کرنے والے، اس آیت کا مجسم چہرہ کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا" ، جہاد و قتال فی سبیل اللہ اور فساد فی الدنیا کا فرق سمجھنے والے، ان کی دوستی کا معیار اللہ اور اس کے رسول سے محبت، ان کی دشمنی کا معیار بھی اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی سے جڑا ہوا، الغزض علمائے حق کا کردار ہی ان کے علم و عمل کی گواہی ہے اور ان کی ذات سے پھوٹتا امن و آشتی کا دریا ہی معاشرے کو ان کی پہچان کروانے کے لیے کافی ہوگا۔

ان کے مقابلے میں علمائے سوء بالکل الٹ چہرہ پیش کرتے نظر آئیں گے، علم تو خوب رکھیں گے لیکن عمل سے عاری، محض گفتار کے غازی، ذات بذات خود ایک چلتا پھرتا فتنہ، تفرقہ بازی اور بدعات و اختراعات کے دھنی، فساد و جہاد کا فرق نہ جاننے والے، علمائے حق کی کسی ایک خوبی کے بھی مالک نہ ہوں گے۔

ایسے علماء کے بارے میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سخت وعیدیں ہیں۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ قَالُوا یا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ قَالَ وَادٍ فِی جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ یوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قُلْنَا یا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ یدْخُلُهُ قَالَ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ (ترمذی،باب ماجاء فی الریاء والسمعۃ،حدیث نمبر۲۳۰۵)

ترجمہ: جُبّ الْحزن سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرو۔ ـــ صحابہ کرامؓ نے پوچھا جُبّ الْحزن کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی ہے جس سے روزانہ سو مرتبہ خود جہنم پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا اے رسول اللہ! اس میں کون جائیں گے؟ فرمایا اپنے عملوں کی ریا اورنمود کرنے والے قاری جائیں گے۔

حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں کہ حضرت بکر بن خنیس نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ 700 مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ اس وادی میں ایک کنواں ہے(جب الحزن)اس سے یہ وادی اورجہنم روزانہ 700 مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ پھر اس کنویں میں ایک سانپ ہے جس سے یہ وادی،جہنم اور وہ کنواں پناہ مانگتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے نافرمان قاریوں کو ڈالا جائے گا، تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! بت پرستوں سے بھی پہلے ہمیں اس میں ڈالا جارہا ہے؟ تو انہیں کہا جائے گا عالم جاہل کے برابر نہیں ہے۔

یہاں مراد ان علماء اورقراء سے ہے جو دین کا علم رکھنے کے باوجود خدا کے نافرمان اور علم کو دنیا کے کمانے کا ذریعہ بنانے والے، ظالم حکمرانوں کی حمایت کرنے اور ان سے حاجتیں مانگنے والے ہوں گے۔

یہ احادیث دونوں طرح کے علمائے سوء مطلب دنیاوی علوم اور دنیوی علوم کے علماء پر ثبت ہوتی ہے۔ علم کا فتنہ اس کا غرور ہے۔ جس کسی کا علم عملی ہوگا اور وہ غرور وتفاخر سے پاک ہوگا، وہ جنت کا حقدار ہوگا بصورت دیگر انجام جہنم کا وہ خانہ ہوگا جس سے جہنم کے دیگر حلقے تک اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

اللہ ہمیں علمائے حق کی صحبت سے نوازے جبکہ علمائے سوء کے فتنے سے دور رکھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com