موت اور تقدیر - عزیزہ انجم

یہی گھر تھا اور یہی کمرہ ، یہ 120 گز کا ون یونٹ بنگلہ تھا۔ سیڑھیاں اندر سے ہونے کی وجہ سے لاؤنج پتلا اور تنگ ہو گیا تھا۔دیوار پر لگے ریک پر میڈیکل کی کتابیں رکھی تھیں ۔ میری دوست قرة العین کہہ رہی تھیں کہ دیوار کی طرف کرسی پر بیٹھتے ہوئے ڈر رہتا ہے کہیں اٹھتے وقت سر دیوار سے نہ لگ جائے ۔ کھانے کی میز پر بریانی اور نہاری تھی۔وہ انتہائی محبت سے، اصرار سے اور لینے کا کہہ رہی تھیں۔وہ تھیں بھی بہت خوش اخلاق اور میری بیٹی کی نظر میں خوش لباس اور سلیقہ مند بھی۔مسکراہٹ کی کرن ان کے چہرے پہ اجالا کیے رہتی۔

ہم نے کھانا کھایا۔قرة ساتھ لگے چولہے پر سبز چائے بنا رہی تھیں۔ہم نے باہر ان کے شوہر کا شکریہ ادا کیا۔ دعوت پر بلائے جانے کے دعائیہ الفاظ کہے اور انہیں اپنے گھر مدعو کیا۔ ڈاکٹر صاحب ریزرو طبیعت کے مالک تھے ہمارے گھر کبھی نہیں آئے۔

اب یہی گھر تھا، یہی پتلا اور تھوڑا تنگ لاؤنج اور میں قرة کے لئے ہونے والی دعائے مغفرت میں شریک تھی۔قرة کے دماغ کی شریانوں میں خون کا ٹکڑا جم گیا تھا اور نازک آپریشن کے دوران وہ چل بسیں۔

اپنے دوستوں میں میں واحد تھی جس نے انہیں آئی سی یو میں بےجان دیکھا اور ڈاکٹر صاحب نے سوالیہ نظروں کو جواب دیا کہ زندگی کی کوئی امید نہیں۔

نجانے نیک لوگوں کی موت پر باوجود دل کے غم سے بھر جانے کے اس درجہ ملال نہیں ہوتا۔یوں لگتا ہے کوئی اچھا بچہ امتحان کا پرچہ دے کر واپس گیا ہے اور اس کے ساتھ اچھا ہی معاملہ ہو گا۔قرة ایک قابل ڈاکٹر عبادت گزار رحم دل اور خوش اخلاق مومنہ خاتون تھیں ۔

میری ہی ایک دوست کی بہن، جو شادی کے چند سالوں بعد دو چھوٹے بچوں کے ساتھ شوہر سے محروم ہو گئی تھیں۔ میرے ہی سلسلے پر وہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں دو بچوں کے ساتھ داخل ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہم دماغ بدل سکتے ہیں؟

یہی گھر تھا یہی تنگ اور پتلا لاؤنج، جہاں ڈاکٹر صاحب نے ہمیں کھانے پر بلایا تھا۔ وہی دیوار کہ جس کی وجہ سے ڈر لگتا تھا کہ اٹھتے وقت سر نہ ٹکرا جائے۔ وہی بریانی، جسے انہوں نے کھانے پر اصرار کیا تھے لیکن اب نوالے میرے حلق میں اٹک رہے تھے۔ ہم باہر آئے، ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا، ان کے لیے دعائیہ الفاظ ادا کیے اور اپنے گھر مدعو کیا۔ لیکن شاید اب وہ ہمارے گھر کبھی نہ آئیں۔

یہ انسانی تقدیر ، ہم میں سے کسی کو نہیں معلوم وہ کب تک زمین کے اوپر رہے گا اور کب زمین کے نیچے ہوگا۔

ٹیگز

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.