قطر اور مغربی دنیا - شوکت علی

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے پاک تو ہے ہی لیکن ہزار ہا تجربات سے بھی ثابت ہو چکی ہے اس لیے اس پر یقین نہ کرنا محض ایمان کی کمزوری ہو سکتا ہے اور کچھ نہیں۔

امریکا اور دوسری طاقتیں قطر کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی رہیں اور جیسے ہی ان کے مفادات پورے ہوئے، قطر کے خلاف ایک منظم تحریک کا آغاز ہو گیا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلمانوں ہی کو قطر کے خلاف استعمال کرنے کی ترکیب بنائی گئی اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی مل گئی ہے۔

عرب اسلامی و امریکی مشترکہ اجلاس کے بعد سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک کھل کر قطر کے مخالف ہو چکے ہیں اور اپنے سفارتی تعلقات تک ختم کر چکے ہیں اور اب خلیج میں کشیدگی ایک نیا موڑ لے چکی ہے۔

امریکا سمیت جنگی ہتھیار بنانے اور برآمد کرنے والے زیادہ تر بڑے ممالک کی معیشت کا بڑا دارومدار انہی سازوسامان کی برآمد پر ہے۔ جنگی ہتھیار اور اسلحے کی برآمد کا انحصار بلاشبہ دنیا کے حالات پر ہوتا ہے اور ان ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہم "مارکیٹوں" میں جنگ کی فضاء پیدا کرتے رہیں۔ اس لیے انہوں نے قدرتی وسائل سے مالامال اسلامی دنیا کے قلب کو ہدف پر رکھا ہوا ہے۔

ماضی میں وہ افغانستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنے دشمن روس کا قلع قمع کر چکے ہیں، فلسطین و کشمیر جیسے سلگتے ہوئے مسائل سے صرف نظر کرکے عراق، لیبیا، شام و ایران میں نئے محاذ کھول کر دھڑا دھڑ اسلحہ بیچ چکے ہیں۔ اب آخر کار بے شمار مادی و مالی وسائل کے مالک اور سب سے امیر مسلم ملک قطر کو میدان جنگ بنا کر اسلحے کی فروخت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس نئی منڈی میں پہلی فروخت سعودی عرب کو سینکڑوں ارب ڈالرز کے اسلحے کے معاہدے کے ذریعے ہو بھی چکی ہے۔ یہ قدم جہاں مسلم اکثریتی خلیجی ممالک میں نئی کشیدگی کا دروازہ کھول سکتا ہے وہیں تیسری عالمی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ لیکن یہ عبرت کا مقام ہے ان ممالک کے لیے بھی جو مغرب کی کاسہ لیسی کرتے ہیں اور جب انہیں ضرورت ہوتی ہے تو پشت پر کوئی نہیں ہوتا۔