کیا ہم دورِ جاہلیت میں ہیں؟ - شازیہ طاہر

چند دن قبل ایک وڈیو موصول ہوئی، مقصد غالباً یہی تھا کہ اسے دیکھ کر کچھ تحریر کروں لیکن رمضان المبارک کی مصروفیات کی وجہ سے اس طرف توجہ نہ کی۔ آج دوبارہ اس ویڈیو پر نظر پڑی تو دیکھنے اور پھر لکھنے پر مجبور ہو گئی۔ یہ کسی ٹی وی چینل کی " رمضان نشریات" کی وڈیو تھی۔ اگرچہ اس موضوع پر بہت سے نامور لکھاریوں کی طرف سے کافی کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اس کار خیر میں جتنا حصہ ڈالا جائے کم ہے۔

مذکورہ وڈیو میں افطار سے قبل کی ایک چینل کی نشریات ہے، جس میں ایک " مشہورومعروف" میزبان ساحر لودھی چار نوجوان لڑکیوں کو ایک ٹاسک دے رہا تھا کہ میں اس پورے سیٹ پر آگے آگے دوڑ لگاتا ہوں اور اگر تم لوگ مجھے پکڑ لیو تو فلاں فلاں انعام تمہارا ہوا۔ پھر اس کے بعد وہ اچھل کود اور پکڑن پکڑائی شروع ہو گئی۔ میزبان آگے آگے دوڑ رہا ہے اور ہر لڑکی اپنی باری پر اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ کبھی سیٹ پر اور کبھی اوپر نیچے لوگوں کے بیچ میں سے بھاگتے ہوئے کئی منٹ کی "جدوجہد" کے بعد بالآخر ایک لڑکی نے یہ معرکہ سر کر ہی لیا اور انعام کی حقدار ٹھہری۔ یعنی بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا ہے، ایک مسلمان عورت اور مرد کی دوڑ اور وہ بھی رمضان کے نام پر ۔ الامان الحفیظ!

یہ اور اس جیسی بہت سی وڈیو کلپس آپ سب کی نظروں سے گزری ہوں گی کہ سارا سال ناچ گانے والے رمضان میں پاک پوتر ہو کر ہم سب کو دین سکھانے آجاتے ہیں۔ یہ مجرے باز رمضان کی فضیلت اور اہمیت بتاتی نظر آتی ہیں۔ یہ ہے میڈیا کی نظر میں ہماری اور دین کی اہمیت؟ کیا 20 کروڑ اہلِ ایمان میں سے کوئی ایک نمائندہ بھی ایسا نہیں ہے جو سرکاری سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائے؟ یا کسی عدالت میں کوئی پیمرا یا میڈیا مالکان کے خلاف کیس دائر کرے کہ کس طرح اس بے حیائی اور غل غپاڑے کے ذریعے سرِ عام اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات و احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور شعائرِ اسلام کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے؟ کیا ہم سب گونگے، بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں۔ یا ہمارے دلوں پر قفل پڑ چکے ہیں؟

ہمارا حال تو اس وقت یہ ہو چکا ہے کہ بحثیت مجموعی ہم ایمان کے کمزور ترین درجے سے بھی کمتر سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں برائی کو دل سے ہی برائی سمجھا جائے۔

جب ہمیں کوئی جسمانی بیماری آن گھیرتی ہے تو ہم کسی نیم حکیم کی بجائے مستند حکیم یا ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں لیکن روح کی بیماری دور کرنے کے لیے گھر گھر میں صبح شام سحری اور اور افطاری میں ان پیسے کے پجاری فنکاروں جن کو دین کی الف بے بھی پتہ نہیں ہوتی، کے ذریعے ہم روح کو " سیراب" کر رہے ہیں۔ جن میں زیادہ ترکو شاید نام نہاد سیاست دانوں کی طرح پہلا کلمہ بھی نہ آتا ہو۔۔ کیا یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے؟ یقیناً ایسا ہی ہے۔

اہلِ ایمان کو اللہ کی یاد سے دور کرنے اور خصوصاً اس ماہ مقدس میں عبادات سے محروم رکھنے کا یہ طریقہ آج سے نہیں دور جاہلیت سے ہی چلا آرہا ہے۔۔عکاظ میلے کا نام تو آپ سب نے سنا ہی ہو گا یہ میلہ حج کے دنوں میں قریش منعقد کیا کرتے تھے۔ جہاں مردوزن کا مخلوط اجتماع ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ میلے ٹھیلے لگانا، دکانیں سجانا اور اس سے بھی بڑھ کر حاجیوں کو مختلف لالچ اور ترغیبات دے کراپنی طرف متوجہ کرنا اور اپنے دام میں پھنسانا ہوتا تھا تاکہ ان کی توجہ عبادات کی طرف کم سے کم کی جا سکے۔

قریش نے حج جیسی عظیم ترین عبادت کو بجائے اللہ کی عبادت کے اپنے دنیاوی فائدے کے لیے صرف کمائی، تجارت اور نفع کا ذریعہ بنا لیا تھا اور یہی حال آج مختلف اشیاء بیچنے والی کمپنیوں اور میڈیا مالکان کا ہے جو پورا سال انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب یہ مہینہ آئے اور وہ اپنی دکانیں سجا کر مسلمانوں کو انعام و اکرام کا لالچ دے کر اس مہینے کی اصل روح سے دور کرسکیں اور اپنے گرو شیطان کو راضی کر سکیں جو خود تو زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے لیکن اس کے چیلے کسی طور بھی اس کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ ان ٹی وی چینلوں کے ذریعے ماہِ رمضان کو جس طرح سے کمرشلائز کیا گیا ہے اور اس مقدس مہینے کا تقدس پامال کرنے جتنا کردار اس دجالی میڈیا نے کیا ہے اور جس قدر تیزی سے کر رہا ہے، خدانخواستہ وہ دن دور نہیں جب رمضان کا مہینہ محض لہو و لعب اور کھیل تماشہ بن کر رہ جائے گا۔

اللہ ہدایت دے ہمارے میڈیا مالکان کو جنہوں نے اپنی نشریات میں لوگوں کی توجہ قرآن اور عبادات سے ہٹا کر ان کا ایمان داؤ پر لگا دیا ہے۔

رسول کریم ﷺنے حضرت جبرائیل ؑ کی ایک دعا پر کہ جس شخص کو رمضان شریف کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے، اس پر لعنت ہو، آمین کہی تھی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں غفلت برتنے والوں کے لیے کتنی سخت وعید ہے اس میں۔

آئیے آج اور ابھی یہ عہد کریں کہ رحمتوں اور برکتوں والے اس مہینے کو قیمتی بنائیں گے اور ان فضول اور واہیات نشریات کو دیکھ کر اور انہیں پروموٹ کر کے اللہ کی ناراضگی کا باعث نہ بنیں گے۔

سحر اور افطار کے وقت جو اچھل کود اور غل غپاڑا ہوتا ہے، ایسے میں اللہ کی برکتیں اور رحمتیں کہاں سے آئیں گی؟ جس طرح سب نے فروٹ بائیکاٹ کی مہم میں حصہ ڈالا اور اپنا پیسہ بچایا اسی طرح اپنے ایمان کو بچانے اور اس مہینے میں اپنی مغفرت کو یقینی بنانے کے لیے ان چینلوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔