ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ - محمد طیب سکھیرا

مشرق وسطیٰ انقلابی اور فیصلہ کن تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ نئی صف بندیاں ہورہی ہیں، پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں۔ اسلام پسندوں اور استعماری اتحادیوں میں خلیج نمایاں ہورہی ہے۔ آئیے ان تبدیلیوں پر بات کرتے ہیں اور حالیہ خلیجی مقاطعے کی ان گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں:

سب سے پہلے ہمیں خلیج میں امریکی کردار کو سمجھنا ہوگا۔ آل سعود اور امریکہ کی دوستی 70 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ 1945 ء میں شاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر روزویلٹ کے درمیان تیل کے بدلے سعودی تحفظ کا امریکی معاہدہ طے پایا۔ اس پورے عرصے میں امریکہ سعودی عرب کے تحفظ کے نام پر سعودی وسائل اور خطے میں سعودی اثررسوخ کا بے دریغ استعمال کرتا رہا۔ حالیہ عرصے میں امریکی کانگریس کی سعودی مخالف قرارداد کے بعد یہ تعلقات تناؤ کا شکار تھے ۔ جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد جوش و خروش دیکھنے میں آرہا ہے۔

اس دورے میں امریکہ اور سعودی عرب کے مابین اسلحہ فراہمی کا 125 ارب ڈالر کا خطیر معاہدہ طے پایا ، جو سعودی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ اس دورے کے چند ہی دن بعد خلیج میں بائیکاٹ کا یہ کھیل شروع ہوگیا، بالفاظ دیگر دورے کے ثمرات واضح ہونا شروع ہوگئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ فرماتے ہیں کہ "خلیجی ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کرکے بہت اچھا کیا ، یہی کہنے تو ہم سعودی عرب آئے تھے کہ دہشت گردی کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔ قطر کو دہشت گردوں کی امداد لازماً بند کرنا ہوگی۔"

امریکی خارجہ پالیسی کی دورخی کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں کہ اس بیان کے فورا بعد پینٹاگون نے بیان داغا کہ "ہمارے قطر کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق جاری ہیں اور قطر کے العدید ائیربیس میں امریکی آپریشنز کو کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں ہے "

یہاں آگے بڑھنے سے پہلے امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ یاد رکھیں امریکہ کبھی بھی اپنا پورا وزن ایک پلڑے میں نہیں ڈالتا

بلکہ وہ جانبین کو ہلّا شیری دیتا رہتا ہے اوران سے اپنے مقاصد پورے کرتا ہے۔

یہ دورخی امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ رہا ہے ۔ ہنری کسنجر جو 1970 سے 1977 تک امریکی وزیر خارجہ رہے، کے تاریخی الفاظ ملاحظہ فرمائیں " اگر آپ امریکہ کے دشمن ہیں تو آپ خطرے میں ہیں اور اگر دوست ہیں تو انتہائی خطرے میں ہیں ۔" یہی خارجہ پالیسی امریکہ کی پہچان ہے۔ نوم چومسکی جو مشہور امریکی دانشور ہیں انہوں نے اپنی کتابوں میں جابجا اس امریکی منافقت کو واضح کیا ہے۔

اب آتے ہیں اس سارے کھیل میں سعودی عرب کے کردار پر۔ وہ سعودی عرب جو چند دن پہلے تک 'ابو ایوانکا' (یعنی ٹرمپ) کی میزبانی پر فخر کرتے نہیں تھک رہا تھا ، اب اس میزبانی کی قیمت چکاتے نظر آ رہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کو ہمارے (یعنی خلیجی ممالک کے ) ساتھ تعلقات کے لیے اخوان و حماس کو چھوڑنا ہوگا۔

یوں لگتا ہے کہ سعودی حکام خطے میں امریکی پالیسی کے نفاذ میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں ۔ یہاں تک کہ 90 سالہ بزرگ عالم دین شیخ یوسف قرضاوی حفظہ اللہ، جو عالم اسلام کے بڑے فقیہ اور عالم ہیں، سعودی عرب نے انہیں اخوان سے تعلق کے الزام کے تحت دہشت گرد قرار دے کر ان کی " مجمع الفقہ الاسلامی جدہ " کی رکنیت بھی ختم کردی ہے۔ دوسری طرف قطر نے خلیجی ممالک کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں کسی تبدیلی کو رد کردیا ہے اور معاملے کے سفارت حل پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بائیکاٹ کا قطری عوام پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ہم اپنی ضروریات متبادل ذرائع سے پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس قضیے میں کویت شروع سے غیر جانبدار ہے اور امیر کویت نے اپنی مصالحتی کوششوں کا آغاز کررکھا ہے ۔ کویتی وزیر خارجہ امارات اور ریاض سے ہو آئے ہیں لیکن بظاہر اماراتی و سعودی سخت شرائط کے باعث یہ مصالحتی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔

شام کے قضیے میں ترکی خلیجی ممالک کے ساتھ نہ صرف اتحادی ہے بلکہ شام کے معاملے کا اہم کردارہے ۔ مشرق وسطیٰ میں تاریخی کردار رکھنے کے باعث ترکی اس قضیے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ چونکہ قضیہ شام اور اسلام پسندوں سے قربت کے حوالے سے ترک و قطر موقف میں یکسانیت پائی ہے ۔ اس لئے ترکی نے اس قضیے میں اپنا سارا وزن قطر کے پلڑے میں ڈال دیا ہے ، یہاں تک کہترک پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے قطر میں ترک فوج بھیجنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اسے خلیج میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس تمام قضیے کا ایک کردار روس ہے جو خلیجی ممالک میں نہ صرف اپنا بلاک بنانے کے لیے سرگرم ہے بلکہ وہ خلیج کے شامی علاقے میں اپنے مضبوط بری و بحری اڈے بناچکا ہے۔ کل ہی روسی دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ قطری وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی ہفتہ 10 جون کو ماسکو کا دورہ کریں گے ۔ جہاں وہ روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کریں گے اور اس ملاقات میں عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تنازعات پر بات کریں گے۔ اس خبر سے آپ خطے میں روسی دلچسپی کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ روس اس خطے میں کروٹ لیتے حالات کا کس طرح بغور جائزہ لے رہا ہے اور خطے میں اپنا بھرپورکردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسی طرح ایران بھی اس قضیے کا ایک بنیادی کردار ہے، جو خلیجی ممالک کی اس لڑائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نے قطر کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی تین بندرگاہوں کے استعمال کی پیشکش کردی ہے لیکن قطر محتاط ہے۔ وہ ایران کی کسی پیشکش کا مثبت جواب دے کر خلیجی ممالک کو کسی نئے بہانے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔ قطری وزیر خارجہ کے مطابق ہم نے اس پیشکش پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ معاملہ عسکری حل کی طرف جاتا نظر آتا ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ اس معاملے میں ترکی کے کودنے اور قطر میں ترک افواج کی کی تعیناتی کی قرارداد سے عسکری حل فی الحال خارج از امکان نظر آتا ہے۔ ویسے بھی سعودی عرب و امارات یمن کی جنگ میں پچھلے دو سال سے اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ مزید کسی عسکری مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

سچ یہ ہے کہ خلیج میں اسلام پسندوں اور استعمار کے کارپردازوں میں خلیج واضح ہوتی جارہی ہے ۔ جو کل تک مسلمانوں کی فلاح کا نام لیتے نہیں تھکتے تھے وہی آج اغیار کے ایجنڈے کے نفاذ کا دم بھرتے نہیں تھکتے اور اسلام اور مسلمانوں کی حمایت پر شرمندہ شرمندہ سے نظر آتے ہیں اس قضیے کا واحد حل یہی ہے کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ اپنے آپسی جھگڑے بغیر کسی بیرونی مداخلت کے حل کرنے کی کوشش کریں اور بیرونی ثالثی کی پیشکشوں کو یکلخت مسترد کردیں کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھریلو مسائل میں بیرونی ثالثی و مداخلت معاملات میں مزید اشتعال کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے یاد رکھیں امریکہ ہو یا روس، دونوں کے اس خطے میں اپنے اپنے مفادات ہیں اور ریت یہی ہے کہ ثالث ذاتی مفادات کی قربانی نہیں دیا کرتے۔