سترہ رمضان، یوم الفرقان - عادل سہیل ظفر

سب سے پہلے تو یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون کِسی دِن کی، کِسی شخصیت کی یا کِسی واقعے کی کسی بھی طور کوئی یادگار، کوئی سالگرہ وغیرہ منانے کے لیے نہیں، اور نہ ہی کوئی بلکہ رمضان مبارک میں ہونے والے ایک عظیم واقعے کی بِناء پر اپنے اِیمان اور عمل کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔ سترہ 17 رمضان مُبارک وہ دِن ہے جِس دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے صِرف تین سو تیرہ مجاہدین کے ساتھ اپنی جانیں اور مال سب ہی کچھ لے کر اللہ کے دِین کی فتح کے لیے، اللہ کے، اور اللہ کے دِین دُشمنوں کے ساتھ کفر و اِسلام کی پہلی جنگ لڑی۔

باطل کے خلاف یہ پہلا جہاد تھا۔ اِس دِن اللہ تعالیٰ نے حق کو باطل پر فتح عطاء فرما کر حق اور باطل میں واضح فرق کر دِیا، اِسی لیے اِس دِن کو اللہ تعالیٰ نے" یوم الفرقان " کہا اور اِس جِہاد میں کفر اور باطل کا لعنتی سردار"ابو جہل" قتل ہوا۔ یہ بد بخت جہنمی شخص ہمارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو گالیاں نکالتا تھا، نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے دو اِیمان والے، سچے اور عملی محبانء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم " معاذ بن عمرو ومعوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما "نے اِسے قتل و خون کی آندھی میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا۔

یہ "ابو جہل" وہ کافر تھا، جِس کے بارے اللہ جلّ جلالہُ نے اپنے غیض و غضب کا، اور اُسے جہنم میں داخل کرنے کا اعلان فرمایا، سورت العلق (96)/آیات 10تا 18کا مطالعہ فرمائیے، یہ آیات اِسی کافر ابو جہل کے بارے میں نازل فرمائی گئی تھیں۔

یہ بد بخت ابو جہل، اللہ تعالیٰ کا، اُس کے دِین کا اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اتنا بڑا دُشمن تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ کافروں کا لشکر یہ جنگ کیے بغیر واپس جانے پر آمادہ تھا، بلکہ ایک گروہ واپس بھی چلا گیا تھا، لیکن اِس بد بخت نے باقی لوگوں کو پھر سے جنگ پر آمادہ کیا اور اپنے لیے جہنم میں ٹھکانہ پکا کر لیا۔

یہ کوئی معمولی سا جھگڑا نہیں تھا، کافروں کی طرف سے ایک بھاری اور اپنے دور کے بہترین اسلحے سے لیس فوج مُسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ اُن پر ٹوٹی پڑی تھی، اور اُن کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور اُن کے جان نثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین روزے رکھ کر لڑتے رہے۔ یہ تھا اللہ سے مُحبت کا عملی ثبوت، اِیمان کا عملی ثبوت، مُسلمانی کا عملی ثبوت!

ہم میں سے شاید ہی اب کسی کو یہ پتہ ہو کہ قران کریم بھی رمضان میں نازل فرمایا گیا، اور رمضان کے دِن روزہ کے ذریعے، اور رمضان کی راتیں تراویح اور قیام اللیل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش پانے کے اوقات ہیں۔ لیکن اب اِن کو طرح طرح "رمضان شوز " دیکھنے والے اوقات بنا دِیا گیا ہے۔ اِس لیے آج ہم مُسلمانوں کا یہ حال ہے کہ رمضان کریم کے روزوں سے جان چھڑوانے کے لیے اپنے معمول کے عام سے بلا مشقت کاموں کو بھی عُذر بنانے کے لیے فتوے اور بہانے تلاش کرتے ہیں۔ اور جو ہماری خواہش کے مُطابق فتویٰ دے دے اُسے فوراً "مذہبی سکالر " ہونے کی سند جاری کر دیتے ہیں، خاص طور پر ہمارا میڈیا اِس قِسم کے مذہبی سکالرز کی ٖفصلوں کی کاشت کاری میں بہت متحرک ہے۔

اِس میڈیا کی "برکات و کرامات " کے نتائج کی وجہ سے ہی اب ہمارے"اسلامی جمہوریہ پاکستان " میں معاشرتی انحطاط کا یہ عالَم ہو چکا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا گناہ اور بدکاری نہ ہوتی ہو جِس کی بِناء پر سابقہ اُمتوں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل ہوئے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سابقہ اُمتوں سے کہیں زیادہ اور کہیں بڑھ کر علی الاعلان وہ سب گناہ ہمارے معاشرے میں کیے جاتے ہیں، لواطت، ناپ تول میں کمی، مِلاوٹ، بد دیانتی، زنا، شراب نوشی، شراب کی خرید و فروخت، بے پردگی، بے حیائی، کفر و شرک پر مشتمل عقائد اور اُن عقائد پر مبنی خود ساختہ عِبادات، اللہ عزّ و جلّ کے احکام کا اِنکار، اُن کا مذاق اُڑایا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور اعمال کا اِنکار اور اُن کا مذاق اُڑایا جانا، غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت والا ہر کام ہی کیا جا رہا ہے۔

افسوس صد افسوس کہ ہمارے "اِسلامی جمہوریہ پاکستان " میں اب بہت سے ایسے "آزادی رائے " اور "حریت اختیار" کے علمبردار پیدا کر دیے گئے ہیں جو اپنے آپ کو دِین، اخلاقیات، اِنسانیت غرضیکہ ہر قِسم کی پابندیوں اور اقدار سے آزاد کیے ہوئے ہیں، اور اِسی گمراہی پر دُوسروں کو بھی لانا چاہتے ہیں۔

ہمارے اندر اب بھی بہت سے ابو جہل ہیں، جنہیں اُن کے ماننے والے ابو الحکم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہمیں اِن لوگوں کی، اور اِن کی دسیسہ سازیوں اور بظاہر علم والی لیکن درحقیقت جہالت اور کفر پر مبنی باتوں کا خوب اندازہ ہی نہیں بلکہ عِلم ہونا چاہیے۔

یاد رکھیے، اگر ہم لوگ ابھی سے ہی اپنے درمیان داخل کیے گئے، بنائے گئے، ابو جہلوں کی پہچان کر کے اُن کی مکاریوں کو آشکار نہیں کریں گے تو ہماری آنے والی نسلوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو اللہ پاک کے، اُس کے دِین کے، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ایک رسمی سی، کچھ تعارفی خانہ جات پُر کرنے والے کاروائی کےعِلاوہ اور کچھ نہیں سمجھیں گے، اور اُن کی شخصیات میں اللہ عزّ و جلّ کے، اُس کے دِین کے، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مخالفت کرنا محض ایک اِنسانی حق ہو گا، اور وہ اپنے اللہ کے دِین حق کی فتح و نصرت کے لیے کچھ کرنے والے نہ ہوں گے، جِس کا یقینی انجام آخرت کی تباہی اور اُس سے پہلے دُنیا میں بھی ذِلت اور غلامی ہو گی، جِس کی بہت سے مثالیں آج کے مُسلمانوں میں دِکھائی دے رہی ہیں۔

فَاعْتَبِرُوا یا أُولِی الْأَبْصَارِ ، پس عِبرت حاصل، اے بصیرت والو!

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */