عجیب شخص ہے سایہ مانگتا ہے - ڈاکٹر عثمان غنی

فطرت کی تربیت پروردگار کی طرف سے ہوتی ہے اس کو بدلنا یقیناً آسان نہیں ہوتا۔ انسان کو اس سے کما حقہ آگاہی فراہم کر دی جاتی ہے اور شناسائی بھی، گزرتے لمحات کے ساتھ یہ منظر انسان کے رگ و ریشہ میں سما جاتا ہ۔ فطری عادات پر لبیک کہنا وقت کی ضرورت بنا رہتا ہے اس سے راہ فرار ممکن نہیں ہو پاتی۔ یہی مخصوص عادات پھرکسی عمل کی صورت میں نمایاں ہوتی ہیں، اس کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں، ماحول فطری بھی ہوتا ہے، معاشرتی بھی، معاشرتی ماحول کو ترتیب دینے کا تعلق افرا دکے رویوں، عادات، کلچر وثقافت سے جڑا رہتا ہے، لمحات شادمانی کے ہوں یا غم و یاس کے، انسان کے اندر پھوٹتے ہیں، ہجر ووصال کے لمحات انسان کی ا ندرونی کیفیات سے اپنا وجود پاتے ہیں۔ ان پر چھاپ کسی مخصوص بیرونی منظر کی بھی ہو سکتی ہے یہی لمحات معاشرے کے دامن پر انمٹ نقوش ثبت کر دیتے ہیں بقول جواں مرگ شاعر شکیب جلالی

اس لیے تو ہوا رو پڑی، درختوں میں
ابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رُت بدلنے لگی

ماحول پر اگندہ ہے۔ گرو غبار کی چادر، ہمارے زمینی ماحول کواپنی لپیٹ میں لیے بیٹھی ہے، زمینی وفضائی ماحول میں آلودگی کا عنصر مشترکہ طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔ سیاسی ماحول میں بھی اس سے یکسانیت نظرآتی ہے جو پانامہ زدہ ہو چکا، پانامہ کو کرپشن کا استعارہ سمجھا جا رہا ہے، مگر اس کی قسمت کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، بہر حال رونق خوب لگی ہوئی ہے، سیاسی پارٹیوں کے مختلف لوگ اپنی اپنی عدالتیں لگائے بیٹھے ہیں جو بغیر گواہوں اور شواہد کے اپنی من مرضی کے فیصلے قوم کے اذہان پر تھونپ رہے ہیں۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ آج دنیا میں کمرشل ازم کا راج ہے، پاکستان ایسے ملک میں آبادی میں برق رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے مردم شماری کے نتائج سامنے آنے پر ہی فیصلہ ہو پائے گا کہ ملک کی کل آبادی کتنی ہے۔ 22کروڑ والا ہندسہ بھی شاید چھوٹا پڑ جائے۔ جنگلا ت کا غیر قانونی کٹاؤ بہت تیزی سے موسمی خدو حال کو متاثر کر رہا ہے، جنگلات کے دامن کو چاک کر کے نئی بستیاں ترتیب دی جارہی ہیں، زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے، بارشوں میں کمی واقعہ ہو رہی ہے، گلیشیئر پگھلتے جا رہے ہیں۔ سیلاب آنے کی ایک وجہ جنگلات کا کٹاؤ بھی ہے، جنگلات قدرت کا انسانی مخلوق کو انعام ہیں جو زمین کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی قائم رہتی ہے، ماحولیاتی آلودگی سے بچاتے ہیں، صرف سایہ یا پھل فراہم نہیں کرتے، ایندھن کا بھی ذریعہ ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ چرند پرند کا مسکن درخت ہیں، زمین کی رونق محفل انہیں کے دم سے ہے زمینی ماحول سے ہی فضائی ماحول وجود پاتا ہے، اس کا تعلق آپس میں ایسا ہی ہے جو انسان کا اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول سے تعلق ہے، درختوں کی بے ہنگم کٹاؤ کی وجہ سے فضائی ماحول تیزی سے متاثر ہو رہا ہے، گاڑیوں کا دھواں، ایئر کنڈیشنرز کا بے جا استعمال اور ان سے نکلنے والے کمیکلز کلورو فلورو کا ربن زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کا باعث بن رہے ہیں۔ زمین کو مضر شعاعوں سے بچانے والی سطح اوزون (Ozone) میں سوراخ ہونے کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں مختلف انواع کی آلودگی کا غبار چار سو پھیلا نظرآتا ہے مگر اس کی روک تھام کے لیے حکومت کے پاس کرنے کے لیے کچھ نہیں، الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بلند و بالا دعویٰ کرتی نظر آتی ہیں مگر حکومت کی گاڑی میں سوار ہونے کے بعد اس سے صرف نظر کرنا اپنی عوامی ترجمانی سمجھا جاتا ہے، زمینی و فضائی آلودگی سے بچنے کا سب سے موثر طریقہ نئے درخت اگانا ہے، خیبر پختونخواہ نے اس پر کافی کام کیا ہے باقی صوبوں کا اس معالے میں رویہ افسوسناک ہے۔ مزید برآں، قیمتی لکڑی کی سمگلنگ کا دھندہ تیزیسے جاری ہے۔ پاکستان میں ایک محکمہ انوائرومنٹ پروٹیکشن ایجنسی موجود ہے جس کے فرائض منصبی میں ماحول کے ہر ممکن تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ جنگلات کے غیر قانونی کٹاؤ، نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے جگہ (Site area)کا جائزہ لینا آلودگی سے بچنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف سیمناروں کا اہتمام کرنا، آبادی کے قریب صنعتی مراکز کو قائم کرنے سے روکنا، فطرت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو سزائیں دینا حتیٰ کہ شاپنگ بیگ کے استعمال تک کی باز پرس کرنا اس محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ اس کے مراکز آزادکشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں موجود ہیں، معاملات کی جانچ پڑتال کرنے والے افراد (انسپکٹر ماحولیات ) کی شدید کمی ہے۔

آزادکشمیر ایسے جنگلات سے لبریز خطہ میں ان کی تعداد صرف چار ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ دنیا کی توجہ ماحولیاتی تبدیلی پر ہے، امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکہ کو پیرس کے ساتھ قائم ماحولیاتی معاہدہ سے علیحدہ کر لیا ہے جس میں کوئلے کے پاور پلانٹس سے نکلنے والی گرین ہاؤس گیسوں سے بچاؤ قابل ذکر ہے پاکستان میں گرمی کی شدید لہر کو جنگلات کے غیر ضروری کٹاؤ اور نئے درخت نہ لگائے جانے سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

فطرت کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں ایک کام جنگلات کو کٹاؤ سے بچانا اور نئے درخت اگانا ہو سکتا ہے۔ مون سون کے موسم میں اضافی پانی کو سٹور کرنے کے لیے نئے ڈیم نہیں بنا ئے جا سکے جس سے نہ صرف بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ بلکہ زراعت کی بہتری کے لیے ان کا وجود کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں، باد صبا کے نرم و نازک جھونکوں سے لیکر چمن میں پھیلی گل کی خوشبو تک فطرت چار سو موجود ہے اس کے کئی رنگ ہیں کئی روپ ہیں، فطرت اور محبت میں کوئی فرق نہیں، بقول شاعر

کاٹ کر سارے شجر اپنے ہاتھوں سے
عجیب شخص ہے، سایہ مانگتا ہے