"فرحان کو بچا لیجئے" – احسان کوہاٹی

کراچی کے لوئر مڈل کلاس اللہ والا ٹاؤن میں دو کھولی نما کمروں کا ۴۵گز کا چھوٹا سا فلیٹ کسی کی نظرمیں فرحان نسیم کا گھر ہو سکتا ہے کسی کے خیال میں ٹیچر باجی کا اور کسی کی نظر میں اس معصوم گڑیا کا جسے فرحان سینے سے بھینچ کر بے اختیار روتا رہتا ہے اور وہ معصوم حیرت سے اپنے باپ کے اشکوں کا پزل حل کرنے کی ناکام کوشش میں لگ جاتی ہے لیکن سیلانی ۴۵گز کے اس چھوٹے سے گھر کو اکھاڑہ سمجھتا ہے جہاں فرحان نسیم موت سے لڑ رہا ہے ۔ اس لڑائی کو چھ برس ہو چکے ہیں ان چھ برسوں میں۹۲ کلو کاپہلوان نما فرحان اب بمشکل۵۶ کلو کا ہو چکا ہے اس کے تمتماتے ہوئے گالوں کی جگہ اب دوگڑھے سے ہیں جنہیں داڑھی نے ڈھک رکھا ہے اس لڑائی میں اسکی آنکھیں اندر کو دھنس گئی ہیں جسم لاغر اور کمزور ہو چکاہے ،اس کے مسلز ڈھل چکے ہیں۔ فرحان خود بھی کہتا ہے اس کے لئے زندگی میں کوئی کشش نہیں رہی اگر پانچ برس کی بیٹی نہ ہوتی تو شائد وہ کب کا شکست تسلیم کرکے ۴۵ گز کے فلیٹ سے دو گز کے گڑھے میں گر چکا ہوتا لیکن اس کی بیٹی اس کی رفیقہ حیات اور اس کے بہن بھائیوں کی محبتیں اسے یہ جنگ ہارنے نہیں دے رہیں، وہ لڑ رہا ہے مگر اتنا پوچھنا تو اس کا حق ہے ناں کہ یہ لڑائی کب ختم ہوگی؟

فرحان نسیم کو سیلانی نہیں جانتا تھا، پہلے کبھی ملا نہ دیکھا، نہ بات کی۔ کلیئرنگ فاروڈنگ کا کام کرنے والا فرحان دراصل عدنان کا بھائی ہے ،محنت کش ہاتھ سے کمانے والے عدنان سے سیلانی کی پرانی یاد اللہ ہے ۔ عدنان پہلے صدر میں سیل فون کی مرمت کا کام کرتا تھا پھر اس نے یہ کام چھوڑ کر لیپ ٹاپ ہارڈ وئیر کا کام سیکھا اور اب اپنی محنت سے گھر چلارہا ہے۔ سیلانی کا لیپ ٹاپ جب بھی اسے پریشان کرتا ہے سیلانی اسے عدنان کے پاس لے آتا ہے۔ خوش اخلاق عدنان ہاتھ کے ہاتھ اس کی پریشانی دور کر دیتا ہے۔ اک روز سیلانی اپنی اسی پریشانی میں عدنان کے پاس پہنچا تو وہ اسے کچھ پریشان پریشان اور کھویا کھویا سا لگا ۔ سیلانی کے کریدنے پر عدنان نے ٹھنڈی سانس لی اور اپنے بھائی فرحان کے بارے میں بتانے لگا "ایک ہی بھائی ہے اس کے دونوں گردے فیل ہو گئے ہیں۔"

"اوہ میرے خدا" سیلانی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ گردوں کے فیل ہونے کا سیدھا سادا مطلب 70 فیصد موت ہے، انسان تقریباً مر ہی جاتا ہے ۔ ہفتے میں اسے دو سے تین بار گردوں کی صفائی کے لئے ڈائلاسزکرانے پڑتے ہی۔ چھ، چھ گھنٹے کے ڈائلاسز کے بعدانسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس سے کھڑا بھی نہیں ہواجاتا ،پھر کھانے پینے کا مکمل پرہیز، وہ پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے نہ گلاس بھر کر پانی پی سکتا ہے۔ گردے کے عارضے میں مبتلاکسی بھی مریض کی سب سے بڑی خواہش غٹاغٹ پانی پینا ہوتا ہے ۔ سیلانی کا نوجوان کزن عمر اسی عارضے میں زندگی ہار چکا ہے ،کچھ عرصے قبل وہ کراچی میں سیلانی ہی کے گھر میں ٹھہرا ہواتھا ،سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں اسے دکھایا گی۔ ڈاکٹروں نے کہا گردہ تبدیل ہوگا، بہن بھائی ماں باپ میں سے کسی ایک کو دینا ہوگا،بہن کا بلڈ میچ کر گیا۔ اب انتظار آپریشن کا تھا لیکن عمر کا وزن اتنا گر چکا تھا کہ ڈاکٹر آپریشن کا رسک لینے کو تیار نہ تھے۔ آخر کار عمر اس بیماری سے لڑتے لڑتے اپنی عمر پوری کر گیا۔ وہ اپنے ماں باپ کا ایک ہی بیٹا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ سیلانی نے عمر کا حال دیکھ رکھا تھا اسے علم تھا کہ یہ بیماری کتنی موذی ہے،اس نے عدنان سے کہا "ڈاکٹر ادیب رضوی کو دکھایا تو ہوگا؟"

"وہیں علاج چل ہو رہا ہے ایک ڈائیلاسز ڈاکٹر ادیب رضوی کے سینٹرSIUTمیں ہوتا ہے اور دو جمعیت پنجابی سوداگران کے ڈائیلاسز سینٹرمیں"

"ہفتے میں تین ڈائیلاسز ۔۔۔اس کا مطلب ہے فرحان کے گردے بالکل کام نہیں کررہے"

"جی بھائی!اور ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم بہن بھائیوں میں سے کسی کا بلڈ گروپ فرحان سے نہیں ملتا"

"اس کا صاف مطلب ہے کہ فرحان کا کڈنی ٹرانسپلانٹ SIUTمیں نہیں ہوگا"

"جی ایسا ہی ہے ان کی شرط ہے کہ ڈونر سگا رشتہ دار ہو"

عدنان کی اداسی اور پریشانی سیلانی کو اللہ والے ٹاؤن کورنگی کے فرحان نسیم کے پاس لے آئی ۔ فرحان نسیم کے چہرے پر اداس سی مسکان اس کے کرب کا اظہار کررہی تھی ۔ سیلانی فرحان کو تسلی دینے کے لئے لفظ چن ہی رہا تھا کہ فرحان نے خود ہی نحیف آواز میں کہنے لگا " عدنان نے آپ کا ذکر کیا تھا کہا تھا کہ سیلانی بھائی سے کہا ہے " فرحان کی ڈوبتی ابھرتی آواز میں ہلکی سے امید تھی۔

"ہاں،اس نے ذکر کیا تھا مجھے بہت افسوس ہوا اتنی چھوٹی سے عمر میں یہ ناگہانی ۔۔۔۔یہ ہوا کیسے؟"

"بلڈ پریشر۔۔۔مجھے اب پتہ چلا کہ اسے خاموش قاتل کیوں کہا جاتا ہے " فرحان نے تھکے تھکے انداز میں رک رک کر اپنی کہانی سنانی شروع کی

"میرا بلڈ پریشر بہت زیادہ رہتا تھا لیکن ۔۔۔لیکن مجھے پتہ ہی نہیں تھا ۔۔۔جیسے سب کرتے ہیں میں بھی محلے کے میڈیکل اسٹور سے دو سر درد کی گولیاں کھا لیتا تھا۔۔۔یہ تو تب پتہ چلا جب میرے ہاتھ پاؤں سوجنے لگے اور سوجن میرے چہرے تک آگئی ڈاکٹر وں نے دیکھا ٹیسٹ لکھ کر دیئے تو پتہ چلا کہ دونوں گردے فیل"

"اوہ۔۔۔آپ ابھی ۳۴ برس کے ہو یعنی اس وقت ۲۸ سال کے تھے اتنی چھوٹی سی عمر میں بلڈپریشر!"

"سیلانی بھائی !بس کیا کہوں؟"

"اب گزربسر کیسے ہوتی ہے؟"

"میں کلیئرنگ فارورڈنگ کا اچھا کام جانتا ہوں۔ یہی روزی روزگار تھا اور اب بھی اس طرح سے ہے کہ دوست خیال کرکے کوئی نہ کوئی شپمنٹ دے دیتے ہیں ،چھوٹی شپمنٹ ہو تو پانچ سو روپے مل جاتے ہیں بڑی پر ہزار پندرہ سو روپے لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ کام کے لئے مارکیٹ میں رہنا پڑتا ہے اور میری حالت ایسی نہیں کہ میں کہیں ملازمت کر سکوں۔ طبیعت کا پتہ نہیں چلتا ،کون میرے نخرے برداشت کرے گا اور ہوا بھی یہی ہفتے میں تین دن تو ڈائیلاسز کے باقی بچے چار دن ان میں سے بھی ایک آدھ دن طبیعت بگڑی تو پیچھے نوکری کیا رہی؟"

"پھر گھر کا خرچ کیسے چلتاہے؟"

"شکر ہے مالک کا کہ یہ فلیٹ اپنا ہے ،مسز ایک اسکول میں ٹیچر ہیں ۸ ہزار روپے ان کی تنخواہ ہے،میں فون پر کچھ کام کر لیتا ہوں تین چار ہزار مجھ سے بن جاتے ہیں باقی عدنان اور گھر والے ہیں وہ مدد کر دیتے ہیں۔ گاڑی چل رہی ہے مگر اب میں تھک گیا ہوں میری بیٹی نہ ہوتی نا تو۔۔۔" فرحان نے آدھی بات کہہ کر بھی پوری بات کہہ دی،سیلانی نے فورا کہا

"ناامید نہ ہوں ،دکھ بیماریاں اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہیں،وہی شفا بھی دے گا" فرحان نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور کچھ نہیں کہا۔

فرحان ابھی صرف چونتیس برس کا نوجوان ہے ،اس کی فیملی میں کوئی بھی لینڈ لارڈ نہیں۔ وہ محنت مشقت کرکے چار پیسے کمالاتا تھا اس کا بھائی عدنان بھی دیہاڑی دار محنت کش ہی ہے پھر اس کی بھی اپنی فیملی ہے اخراجات ہیں وہ بیچارہ اپنی سی پوری کوشش کرتا ہے لیکن فرحان کے روزمرہ کے اخراجات ہی کنٹرول کرنامشکل ہو رہے ہیں۔ فرحان کے لئے گرمیاں بڑا متحان ہوتی ہیں اس نے گلاس بھر کر پانی نہیں پینا،گرمی سے بچانے کے لیے اس کے لئے ائیر کنڈیشنر ضروری ہے۔ اگر ائیر کنڈیشنر نہیں ہوگا فرحان کو گرمی لگے گی اور اسے پانی کی طلب بھی ہوگی۔ اس طلب میں اس نے ایک دو گلاس پانی کے پی لئے تو اس کی طبیعت بگڑ جائے گی اور یہی ہوتا ہے وہ کبھی بے احتیاطی کرکے پانی پی لے تو اسے فوراً ڈائیلاسز کے لئے لے جانا پڑتا ہے ،خیراتی اسپتالوں میں ہروقت یہ سہولت نہیں ہوتی ،مجبوراً اسے پرائیویٹ اسپتال لے جانا پڑتا ہے جہاں ایک ڈائیلاسز پر اچھی خاصی رقم اٹھ جاتی ہے۔

عدنا ن کو کسی نے بتایا ہے کہ فرحان کا علاج ایران میں ممکن ہے جہاں اعضاء کے بنک organ bank قائم ہیں۔ وہاں سے گردہ لے کر ٹرانسپلانٹ کیا جاسکتا ہے اس پر ۲۲ لاکھ روپوں کے اخراجات آئیں گے ان میں سفری اخراجات ،آپریشن،رہائش اور organ bankکے اخراجات بھی شامل ہیں۔ بائیس لاکھ روپے یقیناً بڑی رقم ہے لیکن ان لوگوں کے لئے بہت معمولی جنہیں اللہ نے دے رکھا ہے اور دینے کے لئے دل بھی دے رکھا ہے۔ صاحبان دل ایک ایک لاکھ روپیہ بھی فرحان کی زندگی کے لئے دیں تو یہ اسی ماہ مبارک میں رخت سفر باندھ سکتا ہے۔ فرحان کو زادراہ دے کر اس کی زندگی بچا نے والے پوری انسانیت کو بچانے کا اجر سمیٹ سکتے ہیں کہ میرے سرکار ﷺکا یہی فرمانا ہے جس نے ایک انسانی زندگی بچائی گویا اس نے انسانیت بچالی ۔۔۔۔سیلانی نے یہ سوچتے ہوئے عدنان کا شانہ تھپتھپا کر خاموش دلاسہ دیا اور اس کی امید بھری نظروں کے جواب میں اسے مسکراکر دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.