ہزاروں نیکیاں اورگناہ معاف- عبدالنور عبدالباری

غفلت کی جگہ یعنی بازار میں اللہ کا ذکر
قسط ۲۹؂
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا : جو بندہ بازار گیا اور اس نے کہا’لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ ،لہ الملک ولہ الحمد یحیے ویمیت وھو حیٌلا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شیےٍ قدیر،تو اللہ کی طرف سے اس کے لئے ہزاروں ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، ہزاروں ہزار گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، ہزاروں ہزار درجے اس کے بلند کردئیے جائیں گے ،اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے جنت میں ایک شاندار محل تیا ر ہوگا۔ترمذی(۳۴۲۹)
[ف۔ا] چونکہ بازار غفلت اور شیاطین کے اڈّے ہیں اس لئے جو ایسی جگہوں پر بھی اللہ کو یاد کرے گا تو خداوند قدوس کی طرف سے اس پر بے حد وحساب عنایات ہوگی ،

بقول علامہ طیبی کے جو آدمی بازارمیں اللہ کو یاد کرے گا تو اس کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایاگیا ’’رجال لا تلھیم تجارۃ ولابیعٌعن ذکر اللہ ‘‘کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کو تجارت اورخرید وفروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتے ۔
[ف۔۲] بازار میں آدمی کی نگاہ کے سامنے طرح طرح کی وہ چیزیںآتی ہیں جن کو دیکھ کر وہ خدا کو اور خود اپنے اور ساری دنیا کے فانی ہونے کو بھول جاتا ہے، یہ چیزیں اس کے دل کو اپنی طرف کھینچے لگتی ہے ،کسی چیز کو وہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑی دلکش اور بڑی حسین ہے، کسی کو سمجھتا ہے کہ یہ بڑی نفع بخش ہے ،کسی بڑے کامیاب تاجر یا صاحب دولت وحکومت کو دیکھ کر دل سوچنے لگتا ہے کہ اگر اس سے تعلق قائم کرلیا جائے تو سارے کام بن جائیں گے ،بازار کی فضاؤں میں یہی وہ خیالات اور وساوس ہوتے ہیں جو دلوں اور نگاہوں کو گمراہ کرتے ہیں ،رسول اکرم ﷺنے اس کے علاج اورتحفظ کے لئے ہدایت فرمائی کہ بازار جاؤ تو یہ کلمۂ توحید تمھاری زبانوں پر ہو (معارف الحدیث۵؍۲۰۳)
[ف۔۳] حدیث میں الف الف کا لفظ ہے جس کا ترجمہ دس لاکھ ہے لیکن ترجمہ ہزاروں ہزاروں کا کیا گیا ہے اس لئے کہ بعض شارحین کی رائے یہ ہے کہ یہ لفظ معین عدد کے لئے استعمال نہیں کیا گیا ہے بلکہ غیر معمولی کثرت کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔واللہ اعلم

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam