ممکنہ عرب اسرائیل اتحاد - محمد اشفاق

عرب ممالک کی جانب سے قطر کے مقاطعے پر اسرائیلی وزیر دفاع لائبرمین کا تبصرہ تھا کہ ”یہ بحران اسرائیل اور چند عرب ریاستوں کے درمیان تعاون کے مواقع لے کر آیا ہے۔“ جبکہ اسرائیل کے ڈپٹی منسٹر برائے سفارتکاری مائیکل اورین نے اپنے ٹویٹر پیغام میں دعویٰ کیا کہ ”مشرقِ وسطیٰ کی ریت پر نئی لکیر کھنچ گئی ہے۔“ یہ بہت جامع تبصرہ ہے اور بہت حد تک حقیقت پر مبنی۔ اسی طرح اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور ملک کے چوٹی کے سیاستدانوں میں سے ایک موشے یالون نے عرب علاقوں پر قبضے کی پچاسویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کے دوران اس مسئلے پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا ”قطر کے علاوہ زیادہ تر عرب ریاستیں اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں کیونکہ ہم سب ایٹمی ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔“

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورے میں مشرقِ وسطیٰ میں دو ممالک کا انتخاب کیا، سعودی عرب اور اسرائیل۔ امریکی صدر کے طیارے نے جب تاریخ میں پہلی بار ریاض اور تل ابیب کے درمیان براہ راست پرواز کی تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دل میں دبی ایک خواہش یوں زبان پر آئی: ”مجھے امید ہے کہ ایک دن ایک اسرائیلی وزیراعظم تل ابیب سے ریاض پرواز کر کے جا سکے گا۔“ مسلم امہ کی بدقسمتی کہیے یا بے سی کہ اسرائیلی وزیراعظم کی یہ خواہش شاید ان کی توقع سے بھی پہلے پوری ہو جائے۔

ہم پاکستانی اس بات پر ماتم کرتے رہے کہ ہمارے وزیراعظم کی امریکہ عرب سمٹ میں وہ پذیرائی نہ ہوئی جس کے وہ حقدار تھے۔ مگر جیسے جیسے اس سمٹ کی اندرونی کہانیاں باہر نکل رہی ہیں، لگتا ہے کہ یہ ہماری اور وزیراعظم کی خوش نصیبی تھی کہ ہم ایک بڑی آزمائش میں پڑنے سے بچ گئے۔ صدر ٹرمپ کے سعودی دورے کے فوراً بعد اسرائیل پہنچنے پر ”وال سٹریٹ جرنل“ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق خلیجی عرب ممالک نے ٹرمپ کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر اسرائیل کے عملدرآمد کی صورت میں وہ اسے بہت سی رعایتیں دینے کو تیار ہیں۔ اس رپورٹ کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کی جانب سے نہ صرف یہ کہ کوئی تردید سامنے نہیں آئی بلکہ عرب میڈیا میں حیرت انگیز طور پر اس پہ کوئی تبصرہ تک سامنے نہیں آیا، جبکہ ماضی میں ایسی کسی اطلاع یا افواہ کی فوراً سختی سے تردید کر دی جاتی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی اس کی تردید نہیں کی اور اسرائیلی میڈیا نے اس رپورٹ کو نہ صرف قبولیت بخشی بلکہ اسرائیل کے موقر روزنامے ”یروشلم پوسٹ“ اور ”ہاریٹز“ نے اس پیشرفت کی بھرپور کوریج کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پیشکش کی ہے کہ اگر اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں نئی کالونیاں بسانے کا ارادہ ترک کر دے اور غزہ کے محاصرے میں نرمی لے آئے تو اس کے بدلے عرب ممالک نہ صرف اسرائیلی ائیرلائن کے لیے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کھول دیں گے، بلکہ اسرائیلی کھلاڑیوں اور کاروباری افراد کو خلیجی ممالک کے ویزے بھی جاری کیے جا سکیں گے، نہ صرف یہ بلکہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن رابطے بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔

اس سنہری پیشکش سے اسرائیل اگر فائدہ نہ اٹھائے تو بے وقوف ہی ہوگا، مگر شاید داخلی سیاست کی مجبوریوں اور اپنی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث نیتن یاہو اس پیشرفت کا اعلان کرنے میں کچھ وقت لگائیں گے۔

یاد رہے کہ چند برس قبل ہی اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں پہلی بار اپنا سفارتی مشن بھجوایا تھا، اسی طرح 2015ء میں سعودی عرب نے پہلی بار تسلیم کیا تھا کہ اس نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں اسرائیل سے مذاکرات کیے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک ہی اوباما انتظامیہ کی ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کے مخالف تھے اور ہیں۔ انہی دنوں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ایران پر حملے کے لیے سعودی عرب اسرائیل کو اپنی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت بھی دے چکا ہے۔ سعودی عرب میں جنوبی افریقہ کے تعاون سے جو ڈرون تیار کرنے کی فیکٹری قائم ہوئی ہے، اس کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ تیار شدہ ڈرونز اسرائیل سے جنوبی افریقہ بھیجے جاتے ہیں، جہاں سے انہیں ڈی اسمبل کر کے سعودی عرب بھجوا دیا جاتا ہے، تاکہ بظاہر یہ لگے کہ ڈرونز سعودی عرب اور جنوبی افریقہ کے اشتراک سے تیار ہو رہے ہیں۔ بہت سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سعودی عرب نے اب اسرائیل کو ایران کے مقابلے میں کمتر برائی سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔

قطر کے مقاطعے کی ایک بڑی وجہ اس کی حماس کے ساتھ ہمدردی اور وابستگی بھی ہے۔ اس طرح یہ مقاطعہ بھی براہ راست اسرائیل کے مفاد میں ہے، اسرائیلی راہنماؤں کا اس پر بغلیں بجانا بے سبب نہیں ہے۔ مگر بہت سے قارئین کو شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اگرچہ بظاہر فلسطینی اتھارٹی اور محمود عباس کی حماس کے مقابلے میں حمایت کرتے ہیں، مگر اندرون خانہ وہ محمود عباس کے ایرانی اپوزیشن کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو بھی پسند نہیں کرتے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مستقبل میں شاید محمود عباس کو ہٹا کر فلسطینی اتھارٹی کی قیادت ایک اور فلسطینی راہنما محمد دحلان کو سونپ دی جائے۔ محمد دحلان ان دنوں متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور وہ اسرائیل کو کافی رعایتیں دینے کے قائل ہیں، جبکہ محمود عباس حماس اور الفتح کے دباؤ کے زیراثر ایسا نہیں کر پا رہے۔

ان سب باتوں سے بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنا سب سے بڑا دشمن ایران کو مان لیا ہے، اسرائیل سے ان کے چند ایک اصولی اختلاف رہ گئے ہیں جن کے ہوتے ہوئے بھی دونوں فریق مشترکہ دشمن کے خلاف باہمی تعاون اور اشتراک پر آمادہ ہیں اور اس کے خلاف پوری قوت سے میدان عمل میں اتر آئے ہیں۔ قطر کا مقاطعہ اور ایران میں حالیہ دہشتگردی مشرق وسطیٰ میں ایک اور خوفناک کھیل کے آغاز کی جھلکیاں ہیں۔ بدقسمتی سے اس کھیل کا آغاز ایران نے خود کیا تھا، ایرانیوں نے روایتی عرب عجم چپقلش کو ایک ایسی مسلکی جنگ میں تبدیل کر دیا جس میں سنی ریاستوں کے ہر شیعہ باشندے کی وفاداریاں مشکوک ٹھہریں۔ ہمسایہ ممالک میں علیحدگی پسند یا انقلابی تحریکوں کی سرپرستی کر کے ایران نے سعودی عرب کو چاروں جانب سے گھیرنے کی جو کوشش کی تھی، اب اس کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مسلم امہ کا وہ روایتی تصور جو برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہے، عملی طور پر اب وہ تقریبا اپنا وجود کھو بیٹھا ہے۔ اب نیشن سٹیٹس ہیں اور ان کے خودغرض مفادات کی جنگ جس میں اسلامی اخوت، حق ہمسائیگی اور عالمی قوانین کے احترام کی باتیں فرسودہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے. آمین۔