رمضان، امتحان - راؤ عبد الصمد

آج مادہ پرستی اس عروج پر پہنچ چکی ہے کہ ہم ہر معاملے میں دین پر دنیا کو ترجیح دینے لگے ہیں، اپنے نفس کے تقاضے کو عذر کا نام دے کر ہر فرض کی ادائیگی سے دستبردار ہوچکے ہیں۔حجت بازی میں ماہر ہیں اور شریعت کے تمام احکام سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔قرآن عظیم الشان میں دنیا کو امتحان گاہ قرار دیا گیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد ہی یہ بتایا گیا کہ اسے ہم نے آزمائش کے لیے دنیا میں بھیجا ہے، جو اس امتحان میں کامیاب ہوا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب اور جو اس میں ناکام ہوا وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ٹھہرا۔

اب نفس پرستوں کے پیشواؤں نے اک نیا فلسفہ پیش کیا ہے کہ امتحانات کی تیاری کے لیے روزہ کو موخر کیا جاسکتا ہے۔ہائے! کون انھیں سمجھائے کہ اصل امتحان آخرت کا ہے جس میں کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔اس پر دنیا کے امتحانات کو ترجیح دینا کون سی عقلمندی ہے؟

اول تو خدا کی نصرت ساتھ لیے بغیر جو کہ اعمال سےمشروط ہے، ہم امتحان چاہے جتنی تیاری سے بھی دے لیں کامیاب نہیں ہوسکتےاور اگر اللہ کامیاب کر بھی دے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اس سے آپ کی دنیا سنور جائے گی۔کیونکہ بہت سے 'ٹاپرز' کو ڈگریاں اٹھائے رُلتے دیکھا ہے اور اگر دنیا بھی اللہ بنا دے تو پھر بھی دیکھیں ہم نے عارضی کامیابی کے بدلے ہمیشہ کی ناکامی خرید لی۔

بنی اسرائیل کے ایک شخص کا قصہ ہے کہ وہ خود سے مخاطب ہوا کہ میں نہ نماز پڑھتا ہوں، نہ روزہ رکھتا ہوں اور نہ اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہوں۔پھر بھی مجھ پر رب کی نعمتیں بیشمار ہیں، صحت وتندرستی، رزق میں کثرت۔۔۔ غیب سے آواز آئی کہ تونے کبھی یہ بھی غور کیا کہ تو رب کی رحمت سے محروم ہے؟ تجھ سے عبادت کی توفیق چھین لی گئی ہے؟ تجھ سے آخرت کی تیاری کی توفیق چھین لی گئی ہے؟ یہ نعمتیں تو عارضی ہیں جو بہت جلد تجھ سے چھن جائیں گی۔ افسوس کہ ہم بھی اس طرف غور نہیں کرتے۔