سادگی "عربوں" کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ - علی عبداللہ

ابھی ہم سقوط خلافت کے زخموں کو نہیں سی پائے تھے اور عرب و عجم کی گہری خلیج عبور کرنے کی جدوجہد میں تھے کہ فلسطین،شام، عراق اور یمن کے بھنور میں پھنس گئے ۔ امت ابھی ان پر نوحہ کہہ رہی تھی کہ باطل ایک بار پھر اٹھا اور اس نے عرب فارس تاریخی نفرت کی آگ کو مزید ہوا دی اور اس سلسلے میں عربوں کے مابین بھی اختلافات کا بیج بو کر کر امت مسلمہ کے زخموں کو ایک نیا کچوکا دیا۔ قطر و دیگر عرب ممالک کا حالیہ تنازع صرف دو مسلم ممالک کی کشمکش نہیں، بلکہ یہ امت مسلمہ کے نوخیز اتحاد کے گلے میں ایک ایسا کانٹا ہے جو نہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے اور نہ نگلتا ۔ باطل پوری منصوبہ بندی کے تحت اتحاد بین المسلمین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔

گزشتہ کئی سالوں سے قطر معاشی، توانائی اور سیاسی لحاظ سے خلیج میں ایک طاقت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔ سیاست میں سعودی عرب کا ہم پلہ اور معیشت میں عرب امارات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ ملک نہایت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے قدم جما رہا ہے ۔ اس خطے کا سب سے طاقتور ملک سعودی عرب چونکہ تیل کی گرتی قیمتوں اور یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے مشکل مراحل کا سامنا کر رہا ہے جبکہ قطر اپنی بہترین معاشی اور سیاسی پالیسیوں کی بنا پر خطہ میں اپنی اہمیت اجاگر کرتا چلا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اکثر خلیجی ممالک قطر کی ان پالیسیوں سے ناراض ہو چکے ہیں جو ان ممالک سے ہم آہنگ نہیں ہیں ۔

قطر 24.5 ٹریلین کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ذخائر کے ساتھ روس اور ایران کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ مشرق بعید اور مغرب میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے قطر کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم ملک تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ 2006 سے قطر ایل این جی گیس درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور اسی وجہ سے اسے ایل این جی گیس کی مارکیٹ کی بنیاد رکھنے والا ملک شمار کیا جاتا ہے ۔ ترکی اور قطر کے آپس میں گہرے روابط ہیں جن کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں دن بدن ترقی اور اس کے ساتھ ساتھ ترکی کا قطر میں فوجی اڈہ ہمسایہ ممالک کو مزید برانگیختہ کر رہا ہے ۔ الجزیرہ چینل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے سعودی عرب سمیت دیگر کئی خلیجی ریاستیں نالاں ہیں ۔ قطر کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت اجاگر ہونا اسی چینل کی مرہون منت ہے ۔ کھیل اور کلچر کے بارے بات کی جائے تو قطری حکومت اس طرف بھی مکمل توجہ دے رہی ہے ۔ 2022ء کا فٹ بال ورلڈ کپ قطر میں منعقد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قطر معاشی، سیاسی اور جغرافیائی لحاظ سے بین الاقوامی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔

قطر کے خلیجی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے بھی معتدل روابط اسے مزید طاقتور اور اہمیت کا حامل ملک بناتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سارے عوامل مل کر امریکہ اور دو اہم ہمسایہ ممالک کو مسلسل کھٹک رہے تھے ۔ یہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ قطر کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ خطے میں فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہو اور اپنا کوئی مختلف فیصلہ دے سکے ۔ لہٰذا مختلف حیلے بہانے بنا کر امریکہ نے عرب ریاستوں خصوصاً سعودی عرب کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کروا کر عرب-فارس تاریخی چپقلش کو ہوا دی ہے اور ایک شاطرانہ چال کے تحت قطر کو ایران دوست اور دیگر تنظیموں کو فنڈنگ کے الزام میں تنہا کروانے کی مذموم کوشش کی ہے ۔ جس کا آخر نتیجہ عربوں کی خانہ جنگی اور پھر سعودی عرب کے ٹکڑوں میں بٹ جانے کی شکل میں نمودار ہو سکتا ہے ۔ عراق، شام یمن اور اب بظاہر قطر لیکن درپردہ سعودی عرب ۔ اس کے بعد یقیناً ترکی کی باری ہو گی جس پر ابھی سے امریکی اور برطانوی تھنک ٹینک نظریں گاڑے بیٹھے ہیں ۔ ایران کو بھی اب چاہیے کہ وہ ان عوامل پر غور کرے اور یمن میں عربوں کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی حوصلہ شکنی کرے اور خطہ میں امن و امان کی صورتحال کو فروغ دے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران ہر اس اقدام سے پرہیز کرے جو عرب ممالک کو مزید اشتعال دلائیں ۔

امت مسلمہ کے اتحاد کو توڑنا ہی یقیناً مقصود ہے اور یہ بات عرب ممالک جاننے کے باوجود نجانے کیوں سادہ لوحی کا شکار ہیں یا پھر وہ امت مسلمہ سے مخلص نہیں ہیں ، اس کا فیصلہ اب آنے والا وقت ہی کرے گا ۔ لیکن اب پاکستان کے لیے مشکل وقت ثابت ہو گا کیونکہ پاکستان قطر اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ بہترین تعلقات کا خواہاں ہے ۔ ایران کے نام پر سعودی عرب کا پاکستان کو اپنے ساتھ شریک کرنا اور قطر سے بائیکاٹ کروانا ایک ایسا خطرناک عمل ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اب اس سے پہلے اس پر کوئی شرط عائد کر دی جائے اور اسے کسی ایک ملک کا ساتھ دینے پر مجبور کیا جائے، پاکستان کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار نبھائے اور اس خلیج کو مٹائے جس کی بنیاد پر امریکہ مسلم اتحاد میں دراڑ ڈال کر خطہ عرب کو مکمل مفتوح کرنا چاہتا ہے ۔