بد گمانی سے سلگتا معاشرہ - محمد فیصل ضیاء

کتنے آنگن اجڑ چکے، دوست دشمن کا روپ دھار چکے، لہو آدم پانی کی طرح بہایا گیا، رشتوں میں ایسی دڑاریں پڑیں کہ جو سالہا سال کے بعد بھی پر نہ ہو سکیں، سلام اور دعا کےلیے اٹھنے والے ہاتھ گریبانوں اور چہروں تک پہنچ گئے، زبانیں گز گز بھر کی ہو گئیں، بھائی بھائی سے ایسا بچھڑا کہ کبھی پلٹ کر بھی نہ دیکھا، ایک آنگن میں ایک ساتھ کھیلنے والے بہن بھائی ایک دوسرے سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے، دکھ، سکھ میں ساتھ دینے کے وعدے کرنے والے دوست جنازے کو کندھا دینے تک گوارا نہیں کرتے، نکاح کے مقدس صفحات کی زینت بننے والا رشتہ اب طلاق کے کاغذات میں نظر آتا ہے، ادب و احترام کی وجہ سے آنکھیں جھکا کر بات کرنے والے اب آنکھیں دکھا کر بات کرتے نظر آتے ہیں، خوشی کے حسین لمحات میں ایک ساتھ مل بیٹھنے والے اب غمی کے لمحات میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں، رشتے ٹوٹ چکے، دوستیاں ختم ہوگئی، محبتیں کھو گئیں، احترام کی جگہ الزام نے لے لی، عزت کا بدل ذلت بن گئی۔

ایسا کیوں اور کیسے ہوا ؟اگر اس کے اسباب پر غور کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ بد گمانی نے ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ ناسور دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ اکثر جگہوں میں لوگ اس کے ڈسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بہن بھائیوں میں، دوستوں میں، ہم جماعتوں میں، استاد شاگرد کے رشتے میں، کاروباری حضرات میں، غرض اکثر جگہوں میں بدگمانی کی بدبو پھیلی ہوئی ہے۔

مسلمان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں بدگمانی کرے۔ شریعت میں تو یہ حکم ہے کہ اگر کسی میں نناوے دلائل بد گمانی کے ہوں اور ایک دلیل حسن ظن کی مل رہی ہو تو عافیت اسی میں ہے کہ اس ایک دلیل کو دیکھا جائے۔ اس لیے تو فرمایا گیا ہے کہ "ظنو بالمومنین خیرا" یعنی مومن کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔

درحقیقت بد گمانی انسان کے اپنے اندر کی گندگی ہوتی ہے جو وہ دوسروں پر اچھالتا پھرتا ہے۔ مولانا رومی نے اس کی بہت خوبصورت مثال پیش کی ہے، فرماتے ہیں کہ کوئی پانی کی ٹونٹی پر غلاظت لگا دے، پھر اس سے پانی بھرے، استعمال کرتے وقت کہے کہ پانی تو گندا ہے۔ ارے بھائی !پانی گندا نہیں ہے، پانی تو صاف ہے لیکن جو گندگی تم نے خود لگائی، اسی کی بو کی وجہ سے گندا لگ رہا ہے۔ جب ہم کسی کے بارے میں برا گمان کرتے ہیں تو وہ برا نہیں ہوتا بلکہ ہماری بری سوچ نے اسے گندا کر دیا ہوتا ہے۔

بدگمانی کی ایک بڑی وجہ اپنے اندر کا کبر ہے۔ انسان جب خود کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھنے لگے تو اس وقت اسے دوسروں میں خامیاں نظر آتی ہیں۔ خود کو جب پاک صاف سمجھتا ہے تو اسے ارد گرد کے لوگ گندے نظر آتے ہیں۔ کبر کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اس بات کو دیکھے کہ جو عیب اسے دوسروں میں نظر آرہے ہیں کہیں اس کے اپنے اندر تو نہیں پائے جاتے؟ جب انسان خود احتسابی کے عمل سے گزرتا ہے تو اسے اپنی ذات کو قریب سے دیکھنے اور اپنی شخصیت کو سنوارنے کا موقع ملتا ہے۔ بدگمانی سے انسان معاشرے سے کٹ کے رہ جاتا ہے، خود کو کوئی بڑی چیز سمجھنے والا دوسروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ اسی وجہ سے رشتے ٹوٹتے ہیں، جھگڑے فساد برپا ہوتے ہیں۔ معاشرے میں اتفاق کی بجائے افتراق اور محبتوں کی بجائے نفرتیں پھیلتی ہیں۔ اس لیے ہمیں کسی کے بارے میں برا گمان کرنے سے پہلے اپنے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔

ٹیگز