صلح کروا دو! - پروفیسر عمران ملک

سوچتا رہا کہ سعودی عرب کے خلاف لکھوں یا قطر و ایران کا ہجو کروں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔کوئی آل سعود کو گالی دے رہا ہے تو کوئی ایران پر اپنے الفاظ کے نشتر چلا رہا ہے۔ادھر یار لوگ سعودی عرب کو طعنے دے رہے ہیں کہ اس نے امریکہ کے کہنے پر قطر پر پابندی لگائی یا ایران کے خلاف محاذ بنا رکھا ہے۔ لیکن میں نبی کریم ؐ کی فتنوں کے بارے میں پیش گوئیوں کا سوچ رہا ہوں کہ جس میں کہا کہ ایک وقت ایسا آۓ گا اللہ امت کے علما کو بھی فتنے میں ڈال دے گا اور گتھیاں سلجھنے کے بجاۓ الجھنا شروع ہو جائیں گی اور کسی کو کوئی سرا ہاتھ نہیں آۓ گا۔ پھر اس وقت بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا اور لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر اور حدیث کے مفہوم کے مطابق فتنےسے بچنے کی چاہت کرنے والے کے لیے وصیت ہے کہ وہ جنگلوں میں چلا جاۓ اور بکریاں چرا کر گزارا کر لے۔

دیکھتا ہوں ،سوچتا ہوں، یہ وہی دور قریب آن پہنچا لیکن خاموش رہنے والے خاموش نہیں مزید فتنے کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ سرحدی تنازع تو 1924کے بعد کی پیداوار ہیں۔ ترک خلافت کی قبا چاک ہونے کے بعد ویزا ریگولیشن اتھارٹیز بنیں اور عالم اسلام کو کیک کے ٹکڑوں کی طرح کاٹ کر ہم نے سرحدوں پر بارڈر سیکیورٹی فورسز بٹھا دیں۔ آج ہم سرحدوں کی لڑائی میں اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کا قتل کرتے ہیں اور اپنی سرحدکو محفوظ بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔

کل دشمن نے عراق اور ایران کی جنگ کروائی تھی اور اس میں ایران کو تو کیا شکست ہونا تھی ہم اپنا عراق بھی گنوا بیٹھے، جہاں آج تیل کو کنوؤں پر امریکہ بہادر بیٹھا ہے۔اسی دشمن نے افغانستان کو چار عشروں سے جنگ میں جھونک رکھا ہے اور اب اس کے کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہے کہ اسلحہ تو بک رہا ہے اور ہم اس کے اسلحے سے اپنے ہی یمنیوں، ایرانیوں، قطریوں اور اخوان کے گلے کاٹنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

دشمن نے کمال مہارت سے ایک گروہ کو یقین دلایا کہ ہماری دشمنی تو تم سے نہیں، ہم تو تمہارے بھائی کے دشمن ہیں اور یوں بھائی کو بھائی سے لڑا کر بالآخر باری تو مارنے والے بھائی کی بھی آنی ہے۔

امتحان تو باقی امت کا ہے کہ وہ سعودیوں پر طعنے برسا کر اس آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں اور انہیں امریکہ کا دوست بنا کر اس کو امت سے کاٹ دیتے ہیں یا کوئی درد دل رکھنے والا عملی قدم بھی اٹھاۓ گا۔ ہمارا رویہ تو اس کے بالکل بر عکس ہے ہم تو اپنے ہی ملک کو خبردار کر رہے ہیں، طعنے دے رہے ہیں، دشمن کے تیروں پر کسی کی نظر ہی نہیں کہ اس نے کس طرح کامیابی سے ہمیں لڑوا دیا، اسلحہ بھی بیچ لیا اور ٹکڑے بھی کر دیے۔ ہمارا رویہ تو اس شعر کے مصداق ہے کہ

گھر والوں کی غفلت کو سبھی کوس رہے ہیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا

چھوڑئیے، ملامت کو چھوڑئیے! دشمن کی چال کہ اس کا تو کام ہی یہ ہے لیکن ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ سورة الحجرات میں تو اللہ رب العزت مسلمانوں سے فرماتےہیں کہ کہ جب مومنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اہل ایمان کو ان کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے لیکن ہم تو سعودی عرب کو طعنے دیے جا رہے ہیں۔ ہم تو آگ کو اور ہوا دے رہےہیں، کسی نے صلح کی بات نہیں کی۔ حکمران مشکل وقت میں سعودی عرب اور قطر کی طرف تو دیکھتے ہیں لیکن اس لڑائی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہیں۔ حکمران تو چلیں اپنے مقصد کے لیے زبان کھولیں گے، اللہ اور رسولؐ کے ماننے والے کیا ہوۓ؟ کوئی آل سعود کے حق میں کالم لکھ رہا ہے تو کوئی قطر کو مظلوم ثابت کر رہا ہے۔لیکن مظلوم تو یہ امت ہے کہ جس کا آج کوئی وارث نہیں کہیں سے محبت کی صدا بلند نہیں ہو رہی۔

آج ہم سورة الحجرات کی روشنی میں کس مقام پر کھڑے ہیں؟

کیا ہم اہل ایمان ہیں؟ اگر ہیں تو ہماری ہمدردیاں امت مسلم کے بجاۓ کسی ایک ملک کے ساتھ کیوں ہیں؟

کیا ہم نے صلح کا حق ادا کر دیا کیونکہ صلح پہلی شرط ہے، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے والا مرحلہ تو بعد میں آتا ہے کہ جب ایک گروہ صلح کا معاہدہ توڑ دے۔ہم تو معاہدہ کروانے سے پہلے ہی گروہوں میں تقسیم ہو چکے!

کاش کوئی امت کو بچا لے، کاش اہل سعود کے سامنے کوئی ہاتھ جوڑ دے، کاش کوئی قطر سے وفد لے کر سعودی عرب چلا جاۓ کہ اے اہل سعود! آپ بڑے ہیں اپنا بڑا پن دکھائیے، دشمن کے لیے تماشا نہ بنائیے۔ کاش کوئی امت سے محبت کرنے والا ایران سے جا کر دست بستہ گزارش کرے کہ تم آل سعود کی میزبانی کرو اور امت کو متحد کرنے کا سہرا اپنے سر لے لو۔

اے اہل ایمان! جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو (سورة الحجرات)