صدائے الہی "یَا عِبَادِیْ" کے راز - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 14-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ " صدائے الہی "یَا عِبَادِیْ" کے راز" کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ بندگی سے خالی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اللہ کی عبادت زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔ چنانچہ جو شخص آخری سانس تک بھی اللہ کی بندگی کے ذریعے اس کے بندوں میں شامل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے، اور ماہ رمضان میں تو عبادات کے حسین مناظر مزید دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالی جس وقت لوگوں کو "اے میرے بندو!" کہہ کر پکارتا ہے تو اس سے انسان کے دل میں اپنایت اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق کا احساس پیدا ہوتا ہے، دل سے خوف ختم ہو کر سکون جا گزین ہو جاتا ہے، یہ ندا لگا کر اللہ تعالی اپنے بندوں کو فریادیں سنانے کا موقع فراہم کرتا ہے، اس جملے کی بنا پر رحمت الہی سے امیدیں مزید گہری ہو جاتی ہیں، یہ جملہ سن کر انسان بندگی کیلیے مزید تیار ہو جاتا ہے اور حصولِ تقوی کیلیے کوششیں کرتا ہے جو کہ ماہِ صیام کا سب سے بڑا امتیاز ہے، اللہ تعالی اپنے بندوں کی اس کے ساتھ ڈھارس باندھتا ہے، بلکہ اس دھرتی کا نظام قانونِ الہی کے مطابق چلانے کی ترغیب بھی دلاتا ہے، یہ اتنی پیاری اور شفقت بھری صدا ہے کہ دنیا جہان کے خطا کار بھی توبہ کے بعد اس کا مصداق بن سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ قیام اللیل ، میانہ روی خرچ کرنا نیز فضول خرچی سے بچنا اللہ تعالی کے خصوصی بندو کی علامت ہے، پھر اس کے بعد انہوں نے تمام مسلمانوں کیلیے جامع دعائیں فرمائیں۔

عربی زبان میں آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

بے حد و حساب تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں ، ساری نعمتیں اور فضل اسی کی جانب سے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کی شرح صدر فرمائی اور شان بلند کی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ،صحابہ کرام اور تابعداروں پر رحمتیں نازل فرمائے ۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]
اس مہینے کے شب و روز میں ہمیں بندگی کی اعلی ترین منظر کشی ملتی ہے: روزوں کی چاشنی، قرآن کی لذت، خوبصورت قیام اللیل، صدقہ و خیرات، نیز رحمن کے ذکر سے تر زبان اور دل و دماغ سمیت پورا جسم اللہ کے سامنے سرنگوں نظر آتا ہے؛ حقیقت بھی یہی ہے کہ دلی محبت پر مبنی عبادت ہی دنیاوی اور اخروی سعادت مندی کا باعث بنتی ہے۔
مسلمان کبھی بھی اللہ کی بندگی کا دامن چھوڑنے کیلیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ بندگی زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے ، لہذا مسلمان زندگی کے ہر گوشے میں آخری سانس تک اللہ کی بندگی کرتا ہے ، پھر اسے موت بھی بہترین حالت میں آتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} اور اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے۔[الحجر: 99]

جس وقت اللہ تعالی اپنے بندوں کو "یَا عِبَادِیْ" [میرے بندو!]کہتا ہے تو اسے سن کر انسانی دل جھوم اٹھتا ہے، زندگی میں ایک نئی تازگی آ جاتی ہے ؛ کیونکہ جو شخص بھی اس صدائے الہی میں شامل ہو گیا اور "یَا عِبَادِیْ" کا رتبہ پا لیا تو وہ یقینی طور پر بہت بڑی کامیابی پا گیا۔

"یَا عِبَادِیْ" کی ندا دل میں سکون کوٹ کوٹ کر بھر دیتی ہے، دل سے خوف نکال باہر پھینکتی ہے، یہ اللہ تعالی کے فضل، انعام اور رضائے الہی کی علامت بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ (68) الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ (69) ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ} میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے [69] [میرے بندے وہ ہیں ] جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور [ہمارے] فرماں بردار رہے [70] (اب)تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ ، تمہیں خوش کر دیا جائے گا۔[الزخرف: 68 - 70]
پر اطمینان نفس جس کے وجدان میں ایمان جا گزین ہو چکا ہو، جسے اپنے خلوص پر اطمینان ہو، وہ اپنے خالق پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالی اپنے اس فرمان کے ذریعے عظیم خوش خبری سناتا ہے: {يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي}اے مطمئن روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی [28] پس تو میرے [خاص] بندوں میں شامل ہو جا [29] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔[الفجر: 27 - 30]
اللہ تعالی اپنے بندوں کو "عِبَادِیْ" سے موصوف کر کے ان کی تنہائی ختم فرماتا ہے، انہیں بشارت دیتا ہے کہ وہ قریب ہے، تو اب بندے کو چاہیے کہ اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھ دے، اپنی پریشانیاں اور دکھڑے سنا دے، اپنے پروردگار اور مولا سے مشکل کشائی کا مطالبہ کر دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب بھی پکارتا ہے میں اس کا جواب دیتا ہوں، انہیں چاہیے کہ میری بات مانیں، مجھ پر اعتماد رکھیں تاکہ رہنمائی پائیں۔[البقرة: 186]

 

"یَا عِبَادِیْ" کی ندا دل میں سکون کوٹ کوٹ کر بھر دیتی ہے، دل سے خوف نکال باہر پھینکتی ہے

اللہ تعالی کا بول: "يَا عِبَادِیْ" سینے میں ٹھنڈ پیدا کرتا ہے، اس بول سے اللہ کے غضب پر غالب آ جانے والی رحمتِ الہی کی جانب امنگوں سے بھر پور نظریں اٹھتی ہیں، اس بول سے بندوں پر ہونے والے اللہ تعالی کے فضل و کرم کی یاد تازہ ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (49) وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ} میرے بندوں کو بتلا دو: بیشک میں ہی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں [49] اور یقیناً میرا عذاب درد ناک عذاب ہے۔[الحجر: 49، 50] ان آیات میں جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت و مغفرت کو ذکر فرمایا تو بات کو مزید ٹھوس بنانے کیلیے تین تاکیدی کلمات شامل فرمائے: سب سے پہلے "أَنِّي" اس کے بعد " أَنَا " اور پھر آخر میں " الف لام" اپنی صفات پر داخل فرمایا اور کہا: " أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " لیکن جب عذاب کی باری آئی تو اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ : "إني أنا المعذب" یعنی : اپنے آپ کو عذاب دینے والا قرار نہیں دیا، بلکہ یوں فرمایا کہ: " وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ" یعنی میری ذات نہیں بلکہ میرا عذاب درد ناک ہے۔

اللہ تعالی کا بول: "يَا عِبَادِیْ" سینے میں ٹھنڈ پیدا کرتا ہے، اس بول سے اللہ کے غضب پر غالب آ جانے والی رحمتِ الہی کی جانب امنگوں سے بھر پور نظریں اٹھتی ہیں،

اللہ تعالی مؤمنین کو "یَا عِبَادِیْ" کی صدا لگا کر پکارتا ہے؛ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بندے زمین پر یا آسمان کے نیچے کہیں بھی ہوں اسی کی بندگی کے سائے میں رہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ}میرے ایمان لانے والے بندو ! بیشک میری زمین وسیع ہے اس لیے صرف میری ہی عبادت کرو۔[العنكبوت: 56]
"یَا عِبَادِیْ" ایک ایسا درخشندہ جملہ ہے جو کہ انسان کو مزید بندگی پر آمادہ کرتا ہے، اسی جملے سے مخاطب کر کے خالق نے اپنے مومن بندوں کو مؤکد ترین اور بنیادی عبادت سکھلائی، یہ عبادت تمام عبادات میں سے افضل ترین عبادت ہے ، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ} میرے ایمان دار بندوں سے کہہ دیں کہ: نمازوں کو قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے رہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی اور محبت ہو گی۔ [ابراہیم: 31]
اللہ تعالی نے مومنوں کو "یَا عِبَادِیْ" سے مخاطب فرما کر ان کے لیے تقوی کا راستہ واضح فرمایا اور مومنوں کو تقوی اپنانے کی ترغیب بھی دی چنانچہ فرمایا: {يَاعِبَادِ فَاتَّقُونِ} میرے بندو! مجھ ہی سے ڈرو[الزمر: 16] بلکہ مومنوں کی بے مثال تعریف بھی اسی تقوی کی بنا پر فرمائی: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا} اور انہیں تقوی کی بات کا پابند رکھا اور وہی اس کے زیادہ حقدار تھے [الفتح: 26]
اور تقوی کو کردار میں شامل کرنا ماہِ رمضان کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]
انسانی روح اور جان ماہِ رمضان میں تقوی کی بنا پر پاک صاف ہو کر بد اخلاقیوں سے مبرّا اور منزّہ ہو جاتی ہیں، انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} اور میرے بندوں سے کہہ دیں: صرف اچھی بات ہی کیا کریں۔[الإسراء: 53]
جس وقت مومن اللہ تعالی کی جانب سے "یَا عِبَادِیْ" کی ندا سنتا ہے تو مومن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی پشت پناہی اور ڈھارس باندھنے کی ذمہ داری انتہائی طاقتور ذات کے ہاتھ میں ہے ، وہ ذات اسے کسی بھی سرکش شیطان سے تحفظ دے سکتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا} بیشک میرے بندوں پر تیرے لیے کوئی تسلط نہیں ہے، اور تیرا پروردگار کارسازی کیلیے کافی ہے۔[الإسراء: 65]
یہی وجہ ہے کہ جس دل کا لگاؤ اللہ تعالی کے ساتھ ہو ، جس کی کل زندگی عبادت اور محبت میں گزرے تو ایسے دل تک شیطان کو رسائی کا کوئی موقع نہیں ملتا، مکمل تحفظ ایسے دل کا حق ہے، اس کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے ہی تمام شیطانی وار وا ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالی نیک بندوں کو "عِبَادِیْ" کہتا ہے تو اس سے ان کے دلوں میں اس دھرتی کا نظام [حکم الہی کے مطابق]چلانے کی امنگ زندہ فرماتا ہے، مدد و نصرت کی امید جگاتا ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالی بہترین مدد گار ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ} اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ [الأنبياء: 105]
"یَا عِبَادِیْ" بہت ہی خوبصورت جملہ ہے ، اس کا اسلوب پیار سے لبریز ہے، اس میں انتہا کی شفقت ہے، اس جملے میں تمام کے تمام گناہ گار اور خطا کار بھی توبہ کر کے شامل ہو سکتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "کچھ مشرک لوگ جنہوں نے بہت زیادہ قتل کئے ہوئے تھے اور زنا کاری میں لت پت تھے، وہ پیارے نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: "آپ جو ہمیں دعوت دیتے ہو وہ بہت اچھی دعوت ہے، ذرا آپ یہ بتلائیں گے کہ آپ کی دعوت ماننے پر ہمارے سیاہ اور کالے کرتوت مٹ جائیں گے؟" تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ} [رحمان کے بندے وہ ہیں جو]اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہیں پکارتے نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کرتے ہیں [الفرقان: 68] اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: {قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} آپ کہہ دیں: میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا [الزمر: 53] بخاری ،مسلم
نیز رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے اور مجھ ہی سے امید رکھے تو تمہارے گناہ جیسے بھی ہوں گے میں سارے گناہ معاف کر دوں گا! اور مجھے [کسی کی] کوئی پروا نہیں ہو گی۔ ابن آدم! تمہارے گناہ اگر آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں پھر تم مجھ سے بخشش مانگو تو میں تمہیں بخش دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں ہو گی۔ ابن آدم! اگر تم زمین کے برابر گناہ لے کر آؤ، اور جب تم مجھ سے ملو تو کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہو تو میں تمہیں زمین بھر بخشش عطا کر دوں گا)
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ڈھیروں، پاکیزہ تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ، تلبیہ کہتے ہوئے اور ہر حال میں زبان اسی گواہی کا اقرار کرتی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد -ﷺ- ہیں، آپ ہی ہمارے قائد، عملی پیشوا اور سربراہ ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ،صحابہ کرام اور آپ کے منہج پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا لوگوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔
حمد و صلاۃ کے بعد: میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔
جن لوگوں کو اللہ تعالی "یَا عِبَادِیْ" کہہ کر صدا لگاتا ہے ان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ قیام اللیل کا خوب اہتمام کرتے ہیں اور اس کیلیے پوری محنت کرتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (63) وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا} اور رحمن کے (حقیقی) بندے وہ ہیں جو زمین پر انکساری سے چلتے ہیں اور اگر جاہل ان سے مخاطب ہوں تو سلام کہہ کر (کنارہ کش رہتے ہیں) [63] پروردگار کے حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں [الفرقان: 63، 64]
اور قیام اللیل اس بابرکت مہینے میں نہایت فضیلت والا عمل ہے، چنانچہ صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید کے ساتھ رمضان میں قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) بلکہ قیام اللیل نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ بھی تھی۔
یہ اللہ تعالی کے بندوں کی صفت ہے کہ وہ خرچ کرتے ہوئے میانہ روی سے کام لیتے ہیں کنجوسی یا فضول خرچی نہیں کرتے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا} اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔ [الفرقان: 67]
رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ فضول خرچی ہر وقت ممنوع ہے، لہذا اللہ تعالی کی نعمتوں کے حصول کیلیے پیسہ لگانا اور پھر انہیں ضائع کر دینا شریعت کی رو سے مذموم اور حرام ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی مت کرو، بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔[الأعراف: 31]
اللہ کے بندو!
رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، اور اپنے رحم ،کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما ، یا اللہ! پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔
یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!
یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مدد گار بن جا۔
یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، وہ ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے عطا فرما، ان کے تن برہنہ ہیں انہیں ڈھانپنے کیلیے کپڑے عطا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے۔ یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو باہمی شیر شکر فرما، ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، انہیں حق بات پر متحد فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! اس ماہ مبارک میں ہمارے لیے مقبول روزے لکھ دے، یا اللہ! اس ماہ مبارک میں ہمارے لیے مقبول قیام لکھ دے، یا اللہ! ہمیں لیلۃ القدر نصیب فرما، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہمیں اس ماہ میں ان لوگوں میں شامل فرما جو ایمان اور ثواب کی امید سے روزے رکھتے ہیں، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان میں ایمان اور ثواب کی امید سے قیام کرنے والے بنا، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ایمان اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے لیلۃ القدر پانے والے بنا، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں، اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں چاہے وہ فوری ملنے والی یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں، اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم یا نہیں۔
یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، اور ہمہ قسم کی تونگری کا سوال کرتے ہیں۔
یا اللہ! ہم نا چاری، سستی، بزدلی، بخیلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے دبدبے سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی جامع خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر اختتام تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی سب کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔ یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔ یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔
یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دینا، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لیے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ہم پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر اور تیرے لیے ہی مر مٹنے والا بنا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور تجھ ہی سے توبہ مانگنے والا بنا۔
یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہ معاف فرما، ہمارے دلائل ثابت فرما، ہماری زبانوں کو درست سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں کے میل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے ، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں اور رزق کے دروازے کھول دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہمارے سارے گناہ معاف فرما دے، یا اللہ! ہماری ساری پریشانیاں ختم فرما دے، ہمارے قرضے چکا دے، سب مریضوں کو شفا یاب فرما، تمام مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت سے نواز دے۔
یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات کی باگ ڈور سنبھال لے۔
یا اللہ! ہمارے تمام معاملات سنوار دے، اور ہمیں ایک لمحے کیلیے بھی ہمارے اپنے حوالے مت کرنا۔
یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کے انجام بہتر فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی اور عذاب سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! ہم تجھ سے انجامِ خیر اور ماضی کے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔
یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ ان کے تمام کام اپنی رضا کیلیے بنا لے یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!
{رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہماری پکڑ مت فرمانا۔ پروردگار! ہم پر ان لوگوں کی طرح بوجھ مت ڈالنا جیسے تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ مت ڈالنا جسے اٹھانے کی ہم میں سکت نہ ہو۔ ہمیں معاف فرما دے، ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولا ہے، ہماری کافر قوم کے خلاف مدد فرما۔ [البقرة: 286]
}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]
}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کیلیے یہاں کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں