ایرانی پارلیمنٹ حملہ، محرکات و نتائج - محمد طیب سکھیرا

ایران مشرق وسطیٰ کی دہلیز پر واقع ہے اور یہاں کی اکثریت شیعہ نظریات کی حامی ہے۔ گزشتہ صبح ایرانی پارلیمنٹ اور تہران کے جنوبی علاقے میں واقع قائد ایرانی انقلاب خمینی کے مزار کو نشانہ بنایا گیا اس کے محرکات اور نتائج کیا ہیں؟ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

1979ء میں انقلاب ایران کے بعد سے ایران داخلی طور پر عدم برداشت کی سخت پالیسی پر کاربند ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں مخالفین کو انقلاب کے بعد جیلوں میں ڈالا گیا اور بہت سوں کو خاموشی سے تہہ خاک بھیج دیا گیا۔ ہنوز ایران مخالفین کو پھانسیاں دینے میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔

ایران کو اندرونی طور پرچند خطرات کا سامنا ہے:

ایران کے لیے سب سے بڑا خطرہ سنی بلوچ قبائل ہیں جو ایرانی بلوچستان میں اکثریت ہیں۔ انہیں انقلاب ایران کے بعد سے ہی بلوچ سنی قبائل کو ہر طرح سے دبایا گیا اور ان کا معاشی وفرقہ وارانہ استحصال کیا گیا۔ یاد رہے کہ ایرانی بلوچستان میں تیل کے بے شمار ذخائر موجود ہیں، اس کے باوجود ایرانی بلوچوں کو ایران کی تمام قومیتوں میں غریب ترین شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاشی و فرقہ وارانہ جبر کے نتیجے میں ایرانی بلوچوں میں آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا۔ عبدالمالک ریگی نے 2002ء میں جنداللہ کی بنیاد رکھی۔ جسے ایران میں کئی مہلک کاروائیوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ عبدالمالک ریگی کے طیارے کو 23 فروری 2010ء کو کرغیزستان سے دبئی جاتے ہوئے ایران میں اتار کر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس وقت رحمان ملک وزیر داخلہ تھے جو ایران سے قریبی تعلقات کے لیے مشہور تھے۔ اسی لئےاس گرفتاری سے متعلق بہت سی انگلیاں ان کی جانب اٹھیں۔ بالآخر عبدالمالک ریگی کو 20 جون 2010ء کو تہران میں پھانسی دے دی گئی لیکن مزاحمت کا یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ جنداللہ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جیش العدل، جیش النصر اور الفرقان تک دراز ہوتا چلا گیا اور حقوق کے نام پر دیگر کئی بلوچ مزاحتمی تنظیمیں وجود میں آئیں جو آج بھی بلوچ مزاحمت کی علامت اور ایران کے لیے مسلسل درد سر بنی ہوئی ہیں۔

ایران کے لیے دوسرا بڑا خطرہ ایرانی کرد ہیں جو سنی المسلک ہیں اور اس خطے میں ایران، عراق اور ترکی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کرد اس خطے میں واحد سب سے بڑی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس کوئی ریاست نہیں ہے اور وہ دہائیوں سے اپنی آنکھوں میں کرد ریاست کا خواب سجائے جی رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں ایرانی کردوں میں بیداری کی تحریک دیکھی گئی ہے اورعراقی کردستان میں ایرانی کردوں کو مسلح کرنے کی خبریں تواتر سے عرب میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔ یقیناً ایران اس سے بے خبر نہیں ہے اوروہ ایرانی کرد علاقے میں کئی ایک جنگی مشقیں کرچکا ہےتاکہ کردوں کو اپنی طاقت دکھاکر خاموش کراسکے لیکن عراقی کردوں کے عراقی و شامی علاقوں میں کرد ریاست کے اعلان کے بعد شاید اتنا کافی نہ ہو کیونکہ کردوں کا اصل منصوبہ عراق و شام و ترک اور ایرانی کرد علاقوں کو ملا کر ایک متحدہ کرد ریاست بنانے کا ہےاور وہ اس کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ ایران کے لیے دوسرا حقیقی خطرہ ہے

عراق کے الانبار صوبے سے شیعہ مظالم کے خلاف سنی مزاحمت کے نام پر اٹھنے والی داعش ہے جو اپنی سفاکیت کے لیے مشہور ہے۔ اس کی نیوز ایجنسی " اعماق" تادم تحریر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ اب اس میں کتنی صداقت ہے۔ اس کے بارے حتمی طور سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو یہ ایران کے لیے تیسرا بڑا اور حقیقی خطرہ ہے۔

ایران کے لیے چوتھا بڑا خطرہ مشرق وسطیٰ میں اس کی لگائی گئی وہ آگ ہے جو کسی طور بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ آگ عراق میں البدر اور الحشد الشعبی کی شکل میں اور یمن میں حوثیوں کی شکل میں اور شام میں"مدافع حرم"، "فاطمییون" اور "زینبییون" کی شکل میں نہ صرف موجود ہے، بلکہ روزافزوں بڑھ رہی ہے۔ پچھلے دنوں ایک ایرانی جرنیل کا بیان پڑھا کہ ایران نے بہت عرصہ پہلے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنی جنگ اپنی سرحدوں سے باہر لڑے گا۔ ایران نے یہ جنگ واقعی اپنی سرحدوں سے باہر لڑی اور خوب لڑی لیکن قانون حرکت ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے کے موافق اس آگ کی تپش واپس تہران تک پہنچ گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا وہ آگ واپس لوٹ رہی ہے؟

اگر لوٹ رہی ہے تو کس شکل میں؟

ہمیں یہاں اسی سوال کو حل کرنا ہے۔ یاد رکھیں کہ ایران کی فضا میں ایجنسیوں کا خوف اچھا خاصا سرایت کیے ہوئے ہے اور ایران پھانسیوں کے اعتبار سے دنیا کے صف اول کے ممالک میں مانا جاتا ہے۔

دوسری طرف سیکیورٹی کی یہ صورتحال ہے کہ ایران کی سیکیورٹی تہ در تہ ہےجو کہ داخلی طور پر پولیس و فوج اور پاسداران انقلاب اور کئی دوسری فورسز پر مشتمل ہیں اور ان کی نظر تہران کے چپے چپے پر ہے۔ لیکن اس سخت خوف اور سیکیورٹی کے حصار کو توڑتے ہوئے حملہ آوروں کا پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنا لینا اور قائد ایرانی انقلاب خمینی کے مزار میں داخل ہوکر دھماکے کرنا کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے۔

یہ اس چیز کا ثبوت ہے کہ ایران میں ان کا ایک مضبوط اور منظم نیٹ ورک موجود ہےجو یقیناً ایران کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اگر یہ ایران کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت کے ردعمل میں کیا گیا حملہ ہے تو پھر یہ سلسلہ رکنے والا نہیں اور اگر یہ اندرونی عناصر یعنی بلوچ یا کرد مسلح عناصر کا کام ہے تو بھی تشویش مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ اندرونی عناصر سے نمٹنا بیرونی عناصر کی نسبت بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اندرونی عناصر کی جڑیں معاشرے میں ہوا کرتی ہیں جنہیں یک لخت ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے بہرحال مسلح عناصر اندرونی ہوں یا بیرونی کبھی بھی خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ حملہ ردعمل ہوتا ہے اور ردعمل کی کبھی حدود نہیں ہوا کرتیں۔

اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس خطے کو جنگ اور مداخلت سے پاک کیا جائے اور دوسرے ممالک میں مسلح تحریکوں کی معاونت اور ان ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی سے اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ عمل کا ردعمل ہونا ایک فطری امر ہے اور مشہور کہاوت ہے کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر پھینکنے والے کو کبھی عقل مند نہیں کہا جاتا۔