مجھے ہے حکم اذاں - عزیزہ انجم

الارم زور زور سے بج رہا تھا۔ تین بج گئے تھے۔ اٹھتی ہوں۔ تین دس، تین بارہ ہوگئے۔ اب تو اٹھ ہی جانا چاہیے۔ ۔ ایک لمحے کی بھی گنجائش نہیں۔ سحری کرنی ہی نہیں، کرانی بھی ہے اور پہلے رب باری تعالیٰ کے آگے دعاؤں بھرے ہاتھ بھی پھیلانے ہیں۔

نیند کے پر لطف خمار میں سالن روٹی کھانے کا مشکل عمل۔ ابھی تو بہت سارا پانی بھی پینا ہے۔ گرمی بہت ہے۔ چار پانچ گلاس تو پی لینا چاہیے۔

غالباً دوسرا گلاس بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ آواز آگئی۔ اللہ اکبر اللہ اکبر! رات کے سناٹے کو چیرتی دلکش آواز۔ رات کے اندھیرے کو رات کی سیاہی کو صبح کے اجالے میں بدلنے کی نوید سناتی آواز۔ گھڑی میں ٹھیک چار بجکر تیرہ منٹ ہوئے تھے۔ درست وقت پر بلند ہوتی آواز، سردی، گرمی، خزاں، برسات، ہر موسم میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتی آواز۔ یہ کون لوگ ہیں جو خود کو گھڑی کی سوئیوں کےساتھ باندھ کر رکھتے ہیں؟ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ چلتے ہوئے لوگ۔ اپنے نفس کو اپنے اوقات اپنے معمولات اپنے گھنٹوں اور منٹ کو ہاتھوں سے تھامے ہوئے لوگ۔ یہ ہمارے درمیان ہی رہتے بستے ہیں۔ ہم ہی جیسی انسانی ضروریات اور مجبوریاں بھی رکھتے ہیں لیکن مسلم معاشرے میں مسلمانوں کی بستیوں میں اقامت صلوٰۃ کے لیے اذان کے مقدس فریضے کی ادائیگی کو زندگی کا محور ومرکز بنا لیتے ہیں۔ سنت بلال کو تازہ کرتے ہوئے یہ عظیم لوگ۔

یہ کبھی 'دو منٹ' کہہ کر کمبل میں منہ نہیں لپیٹتے۔ الارم کو ہاتھ بڑھا کر بند نہیں کرتے۔ کبھی سوچتے بھی نہیں آج تھکن بہت ہے دو منٹ دیر سے اذان دے دی جائے گی۔ مسلم معاشرہ مشرق میں ہو یا مغربی ماحول میں اذان کبھی دیر سے نہیں دی گئی۔ ہم لوگوں کی پابندئ وقت کی عادت کو بہت سراہتے ہیں۔ کسی پروگرام میں مہمان خصوصی دیے گئے وقت پر پہنچ جائے تو تعریف ختم ہو کر نہیں دیتی اور یہ وقت کے انتہائی پابند لوگ۔

یہ بھی پڑھیں:   نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے - میمونہ رحمت

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سنت بلال پر عمل کرنے والوں کو اجر عظیم کی خوشخبری دی ہے۔ قیامت کے دن گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ چلنے والے اللہ کی کبریائی کا اعلان کرنے والوں کی گردنیں لمبی ہوں گی۔ ان کے سر اونچے ہوں گے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اذان دینے والے اور تلبیہ پڑھنے والے اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے کہ اذان دینے والے اذان پکارتے ہوں گے اور تلبیہ پڑھنے والے تلبیہ کی صدا بلند کرتے ہوں گے

بے شک اللہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا قدردان ہے

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.