بھارت سے شکست، اسباب کیا ہیں؟ - عبد الماجد خان

حسب توقع اور حسب روایت پاکستان آئی سی سی کے کسی اور ایونٹ میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شرمناک شکست سے دوچار ہوا۔ اگر مقابلہ جاندار ہوتا، کھلاڑی دم مارتے اور جذبے سے کھیلتے تو ہم یہ کہنے میں حق بجانت ہوتے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ قومی ٹیم نے ذرا بھی ہمت نہیں دکھائی اور بھارت کے خلاف پے در پے شکستوں کے سلسلے کو جاری رکھا، ایک اور یکطرفہ مقابلے اور ہزیمت کے ساتھ۔

مقابلے کے آغاز ہی سے قومی ٹیم دباؤ کا شکار نظر آئی اور دعووں کے برعکس انتہائی دفاعی کھیل پیش کیا۔ ٹیم سلیکشن سے شروع ہونے والی غلطیاں مقابلے کے اختتام تک جاری رہیں۔ کہنے کو تو قومی ٹیم "ری بلڈنگ پروسس" سے گزر رہی ہے لیکن اظہر علی، احمد شہزاد، محمد حفیظ اور وہاب ریاض کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ کیسی 'ینگ ٹیم' تیار ہو رہی ہے کہ جس میں سینئرز کو سینئرز ہی سے تبدیل کیا جا رہا ہے؟ پہلے فہیم اشرف کو ویسٹ انڈیز کے دورے میں ساتھ رکھ کر موقع نہیں دیا گیا۔ پھر چیمپیئنز ٹرافی کے پریکٹس میچ میں عمدہ کارکردگی کے باوجود جگہ نہ مل سکی۔ موجودہ ٹیم کے ٹاپ اور مڈل آرڈر میں 'پاور ہٹرز' کی شدید کمی ہے۔ نوجوان فخر زمان کو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آزمایا جا سکتا ہے لیکن اس کا قصور یہ ہے کہ کہ وہ احمد شہزاد، محمد حفیظ اور اظہر علی کی طرح "سینیئر" نہیں ہے۔ کسی بھی ٹیم میں دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کا کمبی نیشن مخالف ٹیم کے لیے پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ جارحانہ انداز سے کھیلنے والے فہیم اشرف اور فخر زمان یہ رول بہتر انداز سے نبھا سکتے ہیں۔ حیران کن طور پر بار بار مہنگے ثابت ہونے والے وہاب ریاض کو بھی ایک بار پھر دورۂ انگلینڈ کے لے منتخب کیا گیا۔ نتیجتاً بھارتی بیٹسمینوں نے پاکستانی بولنگ کی دھلائی کا آغاز وہاب ریاض سے کیا اور پھر باری باری سبھی بولرز کا بھرکس نکال دیا۔ مستقبل میں اگر وہاب کی جگہ نوجوان آل راونڈر عامر یامین کو موقع دیا جائے تو وہ بولنگ کے ساتھ ساتھ پاور ہٹنگ بھی کر سکتے ہیں اور لیٹ مڈل آرڈر میں اٹیکنگ بیٹسمین کے آپشن کے طور پر بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

کرکٹ کی سب سے کامیاب لیگ انڈین پریمیئر لیگ کی بدولت بھارتی بیٹسمینوں نے پاور ہٹنگ کے شعبے میں بے پناہ مہارت حاصل کی ہے اور بولرز نے ڈیتھ اوورز میں پریشر ہینڈل کرنا سیکھ لیا ہے۔ اس کے برعکس قومی ٹیم نے سعید انور، محمد یوسف اور انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے 'پریشر سیچویشن' کو ایک نفسیاتی مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہمارے کھلاڑی پچ کنڈیشن اور بال کے میرٹ کو پرکھنے کے بجائے پہلے سے ہی دباؤ لے لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

حقیقت میں کرکٹ بورڈ کے سٹرکچر کا جنازہ نکل چکا ہے۔ قومی ٹیم اب رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر پہنچ چکی ہے اور بجا طور پر اس کی پرفارمنس رینکنگ سے مطابقت رکھتی ہے۔ پاکستان کرکٹ کی زبوں حالی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور افغانستان کرکٹ بورڈ بھی ہمارے بورڈ کو بے وقعت سمجھتے ہیں اور ہر وقت آنکھیں دکھاتے رہتے ہیں۔ میرٹ کی پامالی، اقربا پروری اور ذاتی پسند و ناپسند نے سارے کھیلوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ پی سی بی کا لولا لنگڑا نظام نیم معذور بابوں کے ہاتھ میں ہے جو خود کرکٹ کی بنیادی اصلاحات سے ناواقف ہیں۔ نواز شریف سے دوستی کی بنیاد پر چیئرمین شپ حاصل کرنے والے شہریار خان عمر کے اس حصے میں ہیں کہ انہیں خود کچھ یاد نہیں رہتا اور بمشکل چلنے پھرنے کے قابل ہیں، ایک اور سابق چیئرمین اعجاز بٹ نے بھی ایسی ہی لڑکھڑاہٹ میں اپنے دور گزارا۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ کے سٹیئرنگ کو کنٹرول کرنے والے نجم سیٹھی بھی کرکٹ کے حوالے سیے کوئی اہلیت نہیں رکھتے اور اکثر ضرورت سے زیادہ چالاکی دکھاتے دکھاتے بلنڈرز کر لیتے ہیں۔ پوری دنیا میں میچ اور سپاٹ فکسنگ کے واقعات ہوتے ہیں اور متعلقہ بورڈز ان مسائل کو حل اور سدباب کرتے ہیں۔ "پی ایس ایل" میں ہونے والے سپاٹ فکسنگ اشو کو خود نجم سیٹھی نے اچھالا اور فوراً ہی کھلاڑیوں پر الزام جڑ دیے۔ روزانہ کی بنیادوں پر کاروائیاں ہو رہی ہیں مگر تاحال تفتیش کی کوئی سمت نظر نہیں آ رہی اور آدھی ٹیم پیشیاں بھگت رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹیم کا کوئی کھلاڑی بے قصور نکلا تو کیا نجم سیٹھی اس کو اس کی عزت واپس دلا سکیں گے؟ کیا اس معاملے کو اس سے بہتر انداز میں حل کرنے کا کوئی اور طریقہ میسر نہ تھا؟

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ ہرانے کے لیے پاکستان کیا کرے؟

کرکٹ بورڈ کی عہدوں کی سیاسی بندر بانٹ کا کیا جواز ہو سکتا ہے، ہر آنے والی حکومت کے ساتھ کھیلوں کے آفیشلز کیوں تبدیل ہوتے ہیں؟

کرکٹ ہی نہیں قومی کھیل ہاکی میں بھی پاکستان کی رینکنگ اب نمبر 13 تک پہنچ چکی ہے اور ہاکی ٹیم 2016ء کے اولمپک گیمز میں کوالیفائی ہی نہیں کر سکی تھی۔ سیاست نے ہی چار بار کی ورلڈ چیمپیئن ٹیم کو آج اس حال تک پہنچایا ہے، یہاں بھی ہاکی سٹک مسلم لیگ ن کی حکومت میں اختر رسول اور پیپلزپارٹی کے دور میں قاسم ضیا کے پاس ہوتی ہے۔ واجد علی شاہ 26 سال تک پاکستان اولمپک ایسوسی ایشین کے صدر رہے جب کہ موجودہ صدر لیفٹنٹ جنرل عارف حسن گزشتہ 13سال سے ناٹ آؤٹ ہیں۔ اسی طرح والی بال فیڈریشن کے صدر چودھری یعقوب ایک طویل عرصے اس "خدمت" پر معمور ہیں۔ پوری دنیا میں بورڈز اور سپورٹس ایسوسی ایشنز کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں مگر ہماری سپورٹس باڈیز کے سوئیکارنو اور کاسترو مستقل بنیادوں پر براجمان ہیں۔

صرف کرکٹ اور ہاکی ہی نہیں آپ کسی بھی سپورٹس یا سپورٹس باڈیز/ایسوسی ایشن کا جائزہ لیں تو معلوم پڑے گا کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی میکنزم ہی نہیں جس کی بنیاد پر کھیلوں کی ترویج و ترقی ہوسکے، کھیلوں میں جدت لائی جا سکے اور ورلڈ سٹیج میں باقی اقوام کی طرح تکنیک اور سپورٹس کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔ عمر رسیدہ اور نان پروفیشنل افراد کا سیاسی بنیادوں پر انتخاب اور بغیر کسی کارکردگی اور جانچ پڑتال کے طویل مدتی کنٹریکٹ دینا بھی انحطاط کی اہم وجہ ہے۔

سپورٹس انڈسٹری اب دنیا بھر میں تعلقات عامہ، ریوینیو جنریشن، میڈیا کوریج اور ملکی امیج کا زریعہ بنتی جا رہی ہے۔ بھارت میں ہونے والی کرکٹ لیگ "آئی پی ایل" اس وقت پوری دنیا کی سپورٹس لیگز میں ریوینو جنریشن میں "این بی اے" کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جس نے بھارت کی میڈیا مارکیٹنگ اور پلیئرز سپانسرشپ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ اگر ہم نے کھیلوں کو فروغ دینا ہے تو بورڈز اور ایسوسی ایشنز کے لے کچھ اصول وضع کرنے ہوں گے اور اداروں کے اندر نگرانی اور احتساب کا نظام قائم کرنا ہو گا وگرنہ یوں ہی ہمارے کھیلوں کا معیار سیاست کی بھینٹ چڑھتا رھے گا۔