کیا نواز شریف خوش قسمت ہیں؟ - شاہنواز ارشد

بحیثیت سیاستدان میاں نواز شریف ابھی تک خاصے خوش نصیب ثابت ہوئے ہیں۔ سیاست میں آتے ہی 1985ء میں وزیرِ خزانہ پنجاب، 1988ء میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب، 1990ء میں وزیرِ اعظم اور پھر 1997ء میں دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنے۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار چھین کر جلا وطن کیا تو سعودی عرب میں جلا وطنی اور کاروبار ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

2008ء کے انتخابات سے قبل خاندان سمیت واپس آئے تو پنجاب کی حکومت پکے ہوئے پھل کی طرح گود میں آپڑی مگر مرکز پیپلز پارٹی کے ہاتھ رہا۔ اس دوران مجموعی طور پر مہنگائی کے طوفان نے عوام کی چیخیں نکال کر رکھ دیں۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بنائی۔ سندھ پیپلز پارٹی اور خیبرپختونخوا تحریک انصاف پاس آیا۔ مرکز میں وزیرِ اعظم میاں نواز شریف، پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف اور بلوچستان میں جمیعت علماء اسلام اور دیگر علاقائی جماعتوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے پہلے ڈاکٹر عبد المالک اور بعد میں نواب ثنا اللہ زہری کو وزیر اعلی بنا کر حکومتی معاملات کو آگے بڑھایا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے اپنی حکومتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عام آدمی کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی۔ ڈیزل اور پٹرول سستا کیا نیز کھاد کے نرخ بڑی حد تک کم کر کے کسان کو ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ دال، سبزیاں، گوشت، اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بھی نہ بڑھنے دیں۔ مارکیٹ میں چیک اینڈ بیلنس کے عمل کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی گئی۔

وزیرِ خارجہ نہ ہونے کے باوجود (مشیر خارجہ پر اکتفا کرتے ہوئے) عالمی سطح پر دوست ممالک سے اپنے تعلقات کو مستحکم رکھنے کی بھی بھر پور کوشش کی گئی۔ پاک فوج کی معاونت سے اپنے پڑوسی دوست ملک چین سے 'سی پیک' جیسا عالمی سطح کا معاہدہ کیا جس نے ملک کی قسمت بدل کے رکھ دینی ہے۔

2014ء میں حکومتِ وقت پر ایک بھاری وقت بھی آیا کہ جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد کے ڈی چوک میں 120 دن موجود رہے۔ قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس مشہورِ زمانہ دھرنے کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کرتے رہے۔ عمران خان اپنے مخصوص لہجہ میں بار بار نواز شریف کو للکارتے رہے اور استعفیٰ مانگتے رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ دھرنے کا منصوبہ ایک ریٹائر جنرل کا بنایا ہوا تھا جس کا مرکزی کردار عمران خان کو سونپا گیا اور انہوں نے اسے خوب نبھایا۔ البتہ خان صاحب کا دھرنا اس وقت مشکوک ہوگیا کہ جب انہوں نے امپائر کی طرف سے انگلی اٹھائے جانے کا اشارہ دیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت اور پارلیمان پر مبینہ حملے پر مخدوم جاوید ہاشمی جیسے لیڈر نے تحریک انصاف کو چھوڑ دیا۔ عمران خان کی طرف سے بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ فوج کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے والے نواز شریف کے بدترین مخالف بھی پی ٹی آئی کے دھرنے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور میں ہونے والے المناک سانحے کے بعد عمران خان کو دھرنا ختم کرنا پڑا۔ اس وقت دھرنے کے دوران عمران خان اگر چاہتے تو نواز شریف کے استعفیٰ کی بجائے اپنی مرضی کی انتخابی اصلاحات کرا سکتے تھے، کیوں کہ نواز حکومت اس وقت کافی دباؤ میں تھی۔ مگر عمران خان 120 دن کے دھرنے سے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے۔ نواز شریف اور ان کی حکومت ایک بڑے بحران سے بچ گئی۔

بعدازں نواز حکومت کا چاہیے تھا کہ وہ عام آدمی کی آواز بن کر بجلی کے بحران کو حل کرنے کی کوشش کرتے۔ مگر انہوں نے اس اہم مسئلے کے حل پر توجہ نہیں دی۔ اس کو حکومت کی ناہلی سمجھا جائے یا غفلت، ملک میں بجلی پوری کرنے کے مسئلے پر حکومت کی کمزوری واضع طور سامنے آئی ہے۔ بار بار وعدے اور دعوے کرنے کے باوجود بھی نواز حکومت اس مسئلے پر قابو پانے میں مکمل طور ناکام رہی۔ بجلی کی طلب پوری نہ کرنا یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کا عوام کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔

البتہ حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی پانامہ لیکس کے معاملے پر ہے۔ کئی ماہ تک اس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوتی رہی جس میں نواز شریف کی وکلاء ٹیم کی جانب سے لندن کی جائیداد کی منی ٹریل پیش کرنے کے دوران آنے والے "قطری خط" نے نواز خاندان کی اخلاقی پوزیشن کو بری طرح متاثر کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق جے آئی ٹی بنائی گئی۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹے بطور ملزم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ جج صاحبات اور جے آئی ٹی کے ارکان کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے پر سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا کیس بن چکا ہے۔ دوسری طرف حکومتِ وقت کے خلاف تابڑ توڑ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والے عمران خان کے کئی سو کنال پر مشتمل گھر بنی گالہ کی قیمتی اراضی کی خرید و فروخت اور اس کی منی ٹریل کا معاملہ بھی عدالت میں آچکا ہے۔ تینو ں اہم کیسز کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے اور ان کیسز کا فیصلہ آنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ میاں نواز شریف واقعی خوشق قسمت ہیں؟ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ میاں برداران عدالتوں سے ہمیشہ بچ کر نکل جاتے ہیں لیکن شوال کا مہینہ انتہائی سنسنی خیز ہو سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */