صادق و امین قیادت، وقت کی اولین ضرورت - ظلحسن چھیانوی

کہتے ہیں کہ موسیقی، شاعری، ادب اور فنونِ لطیفہ کسی بھی معاشرے کی ثقافت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ "جھوٹیا وے اک جھوٹ ہور بول جا" گانے کی مقبولیت بتاتی ہے کہ جھوٹ ہماری من پسند چیز بن چکا ہے۔ ہم بخوشی چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ جھوٹا وعدہ کرے اور انتظار کی سولی پر لٹکا دے۔ شاید اسی انتظار کی سولی کو ہمارے معاشرے میں "عشق" کا نام دے دیا گیا ہے۔

یقین نہ آئے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھ لیجیے۔ ہم کئی دہائیوں سے ان لوگوں کو ووٹ دیتے چلے آئے ہیں کہ جو ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ اکثر لوگ تو ایفائے عہد نہ کرنیوالی جماعتوں کو آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے ابھی سے تیار بیٹھے ہیں۔ ہماری عدالتوں میں لگے سول مقدمات کے انبار دیکھ لیجیے۔ مقدمات کی اکثریت جھوٹ پر مبنی ہے۔ یا تو معاہدے جھوٹے ہیں یا اگر معاہدہ سچا ہے تو اس پر عملدر آمد نہ کرنے پر جھگڑا ہے۔ مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو جسٹس صاحبان پاناما کیس فیصلے میں قرار دے چکے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں۔ جبکہ نہال ہاشمی کیس میں معزز عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے دہشت گرد مافیا کو جوائن کر لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصب سنبھالنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ ریاض پر پہلی اسلامی، عرب و امریکا سربراہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منعقد کی گئی۔ اس میں امریکی صدر اور 55 مسلمان ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ اس سمٹ میں وزیر اعظم نواز شریف کو خطاب کا وقت نہ ملنے پر پاکستان میں جتنے منہ اتنی باتیں جاری ہیں۔ پہلے اس سمٹ کی حقیقت جان لیجیے، کانفرنس میں امریکی صدر اور سعودی شاہ نے کہا کہ ایرانی رجیم نے خمینی انقلاب کے بعد دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ اس موقع پر انسداد دہشت گردی کے لیے ایک فورس کی تشکیل کا اعلان بھی کیا گیا۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا، عرب ممالک اور مسلمان ممالک ایک ہی صفحے پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال ؒ اور آج کا پاکستان-میر افسر امان

ریاض میں آل سعود بادشاہت کی زیر صدارت جب یہ اعلانات ہو رہے تھے، عین اسی وقت ایران کے عوام اپنے ووٹ کا آئینی اور اسلامی جمہوری حق استعمال کر رہے تھے۔ انتخابات کے نتیجے میں حسن روحانی دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے۔ اس سمٹ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا حالانکہ اس میں ایران، عراق اور شام کو شامل نہ کر کے شیعہ سنی تفریق کو بالکل واضح کر دیا گیا جو کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی کی پہلی سب سے بڑی وجہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی سرپرستی میں جنگ نائین الیون کے بعد شروع ہوئی جبکہ امریکا نائین الیون کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتا ہے۔ امریکا نے نائین الیون کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا قانون بھی بنا رکھا ہے۔ اس کے باوجود اسی سے اتحاد قائم کیا جا رہا ہے، کیا یہ کانفرنس جھوٹ پر مبنی مشق نہیں تھی؟

ریاض کانفرنس کے مقررین کو میرٹ کی بنیاد پر پرکھا جائے تو ضرور ان لوگوں کی بات میں وزن لگتا ہے جو نواز شریف کو خطاب کا موقع نہ دینے پر شکوہ کناں ہیں۔ ان لوگوں کی خواہش کے مطابق یقیناً موصوف کو خیالات عالیہ کے اظہار کے لیے بلایا جانا چاہیے تھا اور تمہید میں کہنا چاہیے تھا۔ "کوئی جھوٹا لارا لاکے سانوں رول جا جھوٹیا وے اک جھوٹ ہور بول جا"۔

عوام کی رائے ہے کہ یہ کانفرنس نہ تو عالمی امن کے لیے تھی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف مخلصانہ کوششوں کے لیے بلکہ یہ بیٹھک امریکا سعودی عرب استحصالی دوستی کے تجدید عہد کے لیے تھی۔ اس کانفرنس میں نہ تو نہتے معصوم کشمیریوں پر بھارتی ہندو ریاستی دہشت گردی کے کوہِ گراں کا کوئی ذکر ہوا نہ ہی دہشت گردی مخالف جنگ کے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کی بےمثل قربانیوں کا۔ اگر نواز شریف صاحب تقریر کا موقع ملنے پر ان کا ذکر کر بھی دیتے تو سپر پاور کے کان پر کسی جوں کے رینگنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

جہاں تک مسلم دنیا کے مسائل ہیں تو خوب جان لیجیے کہ امریکا مسئلے کا حصہ، حل کا حصہ نہیں ہے۔ امت کے مسائل کا حل فقط مائنس امریکا فارمولا میں ہے۔ اس موضوع پر پہلے کالم لکھ چکا ہوں، پاکستان کا کیس دنیا میں اسی وقت سنا جائے گا جب اسے پیش کرنے والے قومی غیرت ملی جذبے سے سرشار صادق اور امین لوگ ہوں گے۔ اور یہی صادق اور امین قیادت وقت کی اولین ضرورت ہے کیوںکہ یہ دور جہاد بالنفس کا ہے۔