اور ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ – عزیزہ انجم

ملازمہ گھر میں داخل ہوئی تو اترا ہوا منہ دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کوئی تکلیف دہ بات ضرور ہے، ورنہ یہ ہمیشہ اچھے خوشگوار انداز میں سلام کرتی ہوئی داخل ہوتی ہے۔ "باجی! جس بنگلے پر کام کرتی تھی دو مہینے کی تنخواہ دیے بغیر کل کہیں باہر چلے گئے۔"

سامنے چھوٹا سا سودا سلف کا اسٹور تھا۔ اچھا بھلا چل رہا تھا۔ ضرورت کے وقت کوئی چھوٹی سی چیز لینی ہوتی تو کسی بھی وقت آسانی سے مل جاتی۔ کئی دنوں سے اسٹور بند تھا۔ پتہ چلا لوگوں نے ادھار لیا اور واپسی میں وہی ٹال مٹول۔ نقصان اتنا بڑھا کہ دکان ہی بڑھانی پڑ گئی۔

یہ رویے ہر سطح کے معاشی معیار رکھنے والوں میں عام ہیں۔ رقم خواہ کسی کی جائز تنخواہ ہو یا اصرار سے مانگا ہوا قرض ادائیگی کا تصور ہی محال ہےاور اسے کہیں کہیں عقلمندی اور ہوشیاری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

رمضان میں ایک نیکی کی لہر ضرور ابھرتی ہے۔ انفرادی سطح پر عبادت کا بڑھتا ہوا رحجان نظر آتا ہے۔ روزہ، نماز، خیرات، زکوٰۃ، عمرہ اور افطاری کی تقسیم وغیرہ۔ یہ سب چیزیں یقیناً معاشرے میں خیر پائے جانے کا indicator یعنی اشاریہ ہیں لیکن رمضان کے روزوں سے اللہ کو جو تقویٰ مطلوب ہے۔ وہ تقویٰ کیا ہے؟ اور اس کے ہماری عملی زندگی کا کیا تعلق ہے؟ خصوصاً مالی معاملات سے اس تک کسی کی نظر نہیں جاتی، توجہ نہیں ہوتی، رویے تبدیل نہیں ہوتے اور نہ جانے کتنے رمضان مذہبی جوش و خروش سے منانے کے باوجود تقویٰ کا میٹھا پھل کھانے سے معاشرہ اور افراد سب محروم رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے سورۃ بقرہ کے جس رکوع میں روزے کے احکام بیان کئے ہیں اس کی آخری آیت کہتی ہے کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ یہ باطل طریقے سے مال کھانا کیا ہے؟

کسی بھی آفس میں کوئی جائز کام ہو، کوئی کاغذ کوئی کارکردگی سرٹیفکیٹ نکلوانا ہو، کوئی فائل چاہیے کسی کاغذ پر دستخط کی ضرورت ہو، دروازے میں داخل ہوتے ہی چوکیدار سے لیکر مجاز افسر تک کھلے اور صاف لفظوں میں رقم کے طلب گار نظر آئیں گے اور رقم عنایت نہ کرنے کی صورت جو سلوک روا ہوتا ہے اسے بھی سب جانتے ہیں۔

ایمان داری سے اٹینڈ کی ہوئی کلاسوں کے حاضری رجسٹر پر سائن کرانا، سخت محنت سے ہاؤس جاب کا پورا کیا ہوا دورانیہ ہو ذرا سرٹیفکیٹ کے حصول کی کوشش تو کر دیکھیے۔

اسپتال سرکاری ہو یا پرائیویٹ دونوں کی صورتحال ابتر ہے۔ سرکاری کا تو کہنا ہی کیا؟ وہاں تو اسپیشلسٹ ڈاکٹر تک رسائی اور آپریشن کی تاریخ لینے کے بھی پیسے ہیں دیگر ضروریات کا تو ذکر ہی نہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی مریض کے بنیادی کام بغیر مستقل پیسے دیے بغیر لوئر اسٹاف سے کرانا مشکل ہے۔ اسکول سرکاری ہو یا پرائیویٹ لازم ہے کہ وقتاً فوقتاً مختلف مد میں فیس کے بہانے رقم دے جاتی ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ناپ تول میں کمی حد سے زیادہ منافع زمینوں اور فلیٹوں کے جھوٹے کاغذات دکھا کر رقم سمیٹنا مکمل ادائیگی کے باوجود قبضے سے محروم رکھنا یہ سب دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانا ہے۔

ایک صاحب کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ فریکچر تھا، پلاسٹر چڑھا، دو مہینے وہ چل نہیں سکتے تھے جس پرائیویٹ ادارے میں ملازم تھے۔ انہوں نے دو مہینے گھر بیٹھ کر تنخواہ دینے سے انکار کر دیا۔ بہت اصرار پر کہا گیا آپکی زکوٰۃ سے مدد کر دی جائے گی۔

مشترکہ کاروبار میں رقم تو سرمایہ مانی جاتی ہے اور اس کا refund بھی ہو جاتا ہے لیکن اکثر اوقات کسی کی دماغی محنت وقت اور صلاحیت کا بدل نہیں مل پاتا۔

اللہ تعالی نے تو روزہ کا مقصد تقویٰ بتایا ہے اور خاص طور پر مالی معاملات درست رکھنے کا حکم دیا ہے اس لیے کہ اس سے متاثرہ فرد بہت زیادہ اذیت سے دوچار ہوتا ہے

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ مال حلال نہ ہونے کی صورت میں نہ نماز قبول ہے نہ حج نہ عمرہ نہ دعائیں!

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */