ماہِ رمضان کی فیوض و برکات - اشفاق پرواز

انسان جو بھی اچھا کام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے نیکیوں سے بدلا دیتا ہے۔ ہمارے رب نے بتا دیا ہے کہ تمہاری نیکیاں ہم فلاں وقت پر اس بھاؤ پر لیں گے اور فلاں وقت پر اس کی قدر اتنی ہوگی۔ مثلاً اگر تم عام دنوں نماز کو تنہا پڑھو گے تو وہ ایک ہی نماز سمجھی جائے گی۔ اگر یہی نماز باجماعت مسجد میں ادا کرو گے تو اس کی قدر ستائس گنا بڑھ جائے گی۔ اس طرح ایک مسجد میں باجماعت ادا ہوجائے تو تمہاری جھولی میں باون گنا ثواب ڈال دیے جائیں گے۔ اگر یہی نماز ماہِ صیام میں اسی طرح باجماعت ادا کی جائے گی تو ہر نمازِ فرض پر ستر گنا ثواب ملیں گے۔ پھر اگر خدا تعالیٰ نے حج کرنے کی سعادت نصیب فرمائی تو اب بیت اللہ شریف میں نماز پر ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہوگی (حدیث)۔ عمل میں اخلاص ہو اور صرف اللہ کی خوشنودی زیرِ نظر ہو تو پھر اس کے بڑھنے کی تو کوئی حد ہی نہیں۔

لیکن سب سے زیادہ آسان، گھر بیٹھے بٹھائے اور خوب بڑھ چڑھ کر جو ملتا ہے وہ صرف ماہِ رمضان ہی میں ملتا ہے۔ اس کے لیے نہ سفر کرنے کی ضرورت ہے، نہ پاسپورٹ بنوانے کی زحمت ہے، نہ گھر سے بے گھر ہونے کی حاجت ہے اور نہ کاروبار چھوڑنے کی فکر ہے۔ دن کے وقت اپنا کام کاج بھی کرسکتے ہیں اور رات کو آرام بھی گھر پر ہوسکتا ہے۔ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سحر و افطار کی نورانی فضاؤں اور محفلوں کا لطف بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ پورے ایک مہینے تک خدا کی رحمت، اس کی مغفرت اور خلاصی از نارِ جہنم کے مبارک اعلانات سے دنیا اور آخرت کی خوشیوں اور شادمانیوں سے اپنے علاوہ اپنے اہل و عیال کو بھی مالا مال کیا جاسکتا ہے۔ الغرض اس ایک مہینے میں اگرایک مسلمان چاہے تو وہ کچھ کما سکتا ہے جو سال بھر محنت کر کے بھی نہیں کمایا جاسکتا۔

اس مہینے میں صرف فرض نمازیں ایک سو پچاس (بحساب پانچ وقت روزانہ)، سنت نمازیں پانچ سو دس (بحساب سترہ رکعتیں روزانہ) علاوہ ازیں نمازِ تراویح بھی پڑھی جاتی ہے۔ پھر 29 یا 30 روزوں کا مسکن اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اگر مخیر حضرات زکوٰۃ کی ادائیگی بھی اسی مہینے میں ادا کرنے کاکارِ خیر بھی کریں۔ اس کے علاوہ بھی فرض اور واجب اعمال بھی بہت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر فرض عبادت کو اس مہینے میں ستر گنا زیادہ اور سنت و نوافل کو فرض کے برابر قرار دیتا ہے۔ نفل عبادتیں تو اس خاص مہینے میں فرائض کا درجہ پاتی ہیں۔ اس لیے اس مبارک مہینے میں صدقات و خیرات، بھوکوں کو کھلانا، ننگوں کو پہنانا، قرض داروں کے قرض ادا کرنا، یتیموں کی کفالت کرنا، بیواؤں کا خیال رکھنا، محتاجوں، معذوروں کی دلجوئی کرنا، بیماروں کا علاج کرنا، روٹھوں کو منانا، صلہ رحمی کو بڑھاوا دینا وغیرہ جیسی سینکڑوں عبادتیں ہیں جو اس مہینے میں ایک روزہ دار مرد اور خاتون سے اللہ کا تقاضہ ہے کہ اس مہینے میں یہ سب کام انجام دیے جائیں اور اس کی مکمل تربیت حاصل کرنے کے بعد سال کے باقی گیارہ مہینوں میں عمل کرنے کا بھی عہد کیا جائے تاکہ خدا کے مفلوکُ الحال بندوں کا جو حق ہے وہ ادا کریں۔ بصورت دیگر اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنی دست قدرت سے شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا کر اپنے عادلانہ اور منصفانہ فیصلے کو نافذ کرے۔ مختصر یہ کہ اس مہینے میں جو جتنی زیادہ نیکیاں کرنا چاہے کرے شرط صرف یہ ہے کہ وہ مومن ہو کیوں کہ یہ مہینہ صرف اہل ایمان اور روزہ داروں کا مہینہ ہے۔

ہماری نوجوان نسل چاہے شہر میں ہو یا دیہات میں، وہ روزوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتی کہ جتنی اہمیت کا حامل یہ روزوں کا مہینہ ہے۔ شاید وہ اپنی کم عمری یا تغافل عارفانہ کی بنا پر اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ورنہ کیا مجال کہ صرف اس ایک حدیث پر توجہ دینے سے ان کی دنیا ہی بدل جائے گی۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے "خاک آلود ہو اس شخص کی ناک (کلمہ گو مسلمان کی) جس نے ماہ رمضان کا مہینہ پایا (یعنی وہ صحت مند تھا، ہر قسم کی سہولیات اسے میسر تھیں) اور ماہ رمضان رخصت ہو گیا مگر اس شخص نے اسے گنوادیا اور وہ اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کرا سکا"۔ دوسری روایت میں ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ انسان کی فطرت یہی ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں، چاہے وہ دکانداری ہو، زمینداری ہو، کاروبار ہو، تجارت ہو، مزدوری ہو، ملازمت ہو، سیاست ہو یا کوئی دوسری مصروفیت، اس کی نظر نفع اور فائدے پر ہوتی ہے۔ اسے گھاٹے کا سودا منظور نہیں ہوتا بلکہ وہ خسارے کا نام سن کر ہی گھبراتا ہے۔ اسی طرح ہمارا مسلمان مرد و جوان اور ہماری خواتین ماہِ مبارک کے لمبے اور گرم دنوں سے گھبراتے ہیں، سحر کو آرام میں خلل اور دن بھر روزے رکھنے کو اپنے آپ کو فاقہ کشی کے حوالے کرنا سمجھتے ہیں۔ یہ ماہِ رمضان میں فاقہ اور پیاسا رہنے کو سزا سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی چشم کشائی کے لیے اور ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے یہاں ماہِ صیام کے چند فیوض و برکات تحریر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تاکہ ان پر غور و فکر کر کے انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

(1) روزہ دار کا نفل فرض کے برابر اور ایک فرض ستر فرائض کے برابر ہوتا ہے۔
(2) روزہ تقریبًا ہر مرض کی شفا ہے۔ درد کا درماں ہے ماہِ رمضان۔ اور ماہِ غفران ہے ماہِ رمضان۔
(3) روزہ داروں کے لیے پانی کی چھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں۔ (حدیث)
(4) روزہ دار کی ہر دعا قبول ہوتی ہے خاص کر افطار کی دعا۔ یہ با بھی حدیث سے ثابت ہے۔
(5) روزہ دار کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور اس کے کھانے کا حساب نہیں ہوگا۔ (حدیث بخاری)
(6) روزہ دار کے منہ کی بساند (بو) اللہ کو مشک سے زیادہ پسند ہے۔
(7) روزہ دار چاہے آرام سے بستر میں سو رہا ہو، اسے عبادت میں محو سمجھا جاتا ہے۔
(8) روزہ دار کے لیے جنت کو ہر دن سجایا جاتا ہے۔
(9) روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے دوسری خوشی اس وقت نصیب ہوگی جب روزوں کا اجر پانے کے لیے اللہ کے حضور دیداد کا منتظر ہوگا۔
(10) رمضان کا پہلہ عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ خلاصی از نارِجہنم ہے۔
(11) اس میں ایک مبارک شب روزہ دار کو عنایت کیا گیا ہے۔ اور وہ شبِ قدر ہے اس کی عبادت اور شب بیداری ہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
(12) جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں ایک کا نام بابُ الریان ہے۔ یہ دروازہ صرف روزہ داروں کے لیے مخصوص ہے۔
(13) اس مبارک مہینے کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت ہوتی ہے۔

ایسے ایسے بہت سارے انعامات اور فیوض و برکات ہیں جن سے ایک روزہ دار کو نوازا جاتا ہے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ آیا ہمیں دنیائے فانی کے حقیر اور ناپائیدار نفع کے لیے، جس کا ذکر اوپر مضمون میں کیا گیا ہے، اپنی جوانی اور زندگی کے شب و روز داؤ پر لگانا بہتر ہے یا مندر جہ بالا فیوض و برکات کو حاصل کرنے کی تمنا کرنی چاہیے۔ جس کا فائدہ ان شاء اللہ دنیا میں بھی حاصل ہوگا اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ آئیے خدائے واحد و شاہد سے دست بدعا ہوجائیں اور اسی سے اس ماہِ مبارک میں روزہ داروں کی صف میں شامل ہونے کی توفیق طلب کریں۔ اسی کی رحمت و مغفرت اور فیوض و برکات میں حصہ دار بننے کی عاجزانہ درخواست کریں.