"ہم سب پاناما لیکس میں ہیں" - محمد جمیل اختر

بات یہ ہے کہ جب معاشرے کے معاشرے زوال پذیر ہوں تو وہاں ایک عام آدمی بھی اتنا ہی کرپٹ ہوسکتا ہے جتنا کہ وہاں کا حکمران۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بڑے آدمی کو بڑی کرپشن کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور غریب کو چھوٹی موٹی کرپشن کرنے کی سہولت میسر آتی ہے۔ ہم لوگ جہاں بیٹھتے ہیں حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں کہ جن کا نام 'پاناما لیکس' میں آگیا۔

آئیں آپ کو پاناما لیکس کے چند اور لوگوں سے ملواتا ہوں، آپ سبزی لینے جائیں اِدھر آپ کی نظر ہٹتی ہے اور اُدھر سبزی والا چند خراب دانے بھی شامل کردیتا ہے۔ کچھ دکاندار کم تولتے ہیں یا انہوں نے وزن کرنے کے پیمانے ہی غلط رکھے ہوتے ہیں۔ مرچوں میں اینٹیں ملانا بھی ہمارے ہاں ایک منافع بخش کاروبار ہے آدھی مرچ اور آدھی اینٹیں اور لوگوں کی صحت مثالی۔ پھر ایسی مثالی صحت کے ساتھ جب کبھی ہسپتال جائیں تو نقلی ادویات سے تسلی بخش علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عوام کے خادم ہون گے کسی اور معاشرے میں، یہاں ڈاکٹری ایک بہترین کاروبار ہے۔

تعلیم کا نظام تو یوں سمجھیں مثالی کرپشن کا ایک اہم ادارہ ہے۔ چار مختلف قسم کی نسلیں ان سکولوں سے پروان چڑھ رہی ہیں کہ جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ اپنے ہی ملک کے بچوں کو اتنی مختلف تعلیم اور تعلیمی سہولیات دینا بھی کرپشن ہے، اتنا فرق ہے دونوں نسلوں میں کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہیں تو دوسروں کو سورج کے بارے میں سوچ کر بھی گرمی ہوتی ہے اور وہ ائیرکنڈیشنڈ سکول کے کمروں میں باہر سورج کو دیکھتے ہیں اور اپنے موبائل پر درجہ حرارت چالیس دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں اور پہلے بچے درخت کے نیچے بیٹھے بیٹھے دوپہر دو بجے چھٹی کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ انہیں اتنی تعلیم بھی نہیں دی جارہی کہ وہ سوچ سکیں کہ اُن کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ اِس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ جان بوجھ کرنسل در نسل لوگوں کو بے شعور رکھا گیا۔ پورا تعلیمی نظام کرپٹ ہے، جہاں ڈگریاں بکتی ہوں اور جہاں یہ ڈگریاں صرف نوکری کے لیے حاصل کی جاتی ہوں۔ اُس معاشرے کی شعوری سطح کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے، فرقہ واریت کی آگ میں جھلستے ہوئے ملک میں مزید فرقہ واریت کی تعلیم دیتا ہوا معلم بھی کرپشن کررہا ہے۔

سرکاری اداروں میں بغیر رشوت کے ایک فائل اِدھر سے اُدھر نہیں ہوتی، عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے وکلاء بھی کرپٹ ہیں، انصاف ناپید ہے۔ اِس معاشرے میں اور عدلیہ آزاد ہے، تھانوں میں ہونے والی کرپشن سے کون واقف نہیں ہے، غریب سے پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر ووٹ حاصل کرتے ہوئے ایم این اے اور انہی کے ووٹ سے منتخب وزیرِاعظم سب کرپٹ ہیں جب ایک ریڑھی والے سے لیکر وزیراعظم تک سب کرپٹ ہوں تو یہ بحث فضول ہے کہ کس کا نام پاناما لیکس میں آگیا ہے کس کا نہیں، ہم سب بحیثیت پوری قوم پاناما لیکس میں ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */