قطر کا بائیکاٹ - میر افسر امان

خلیجی ملک قطر سے چھ عرب ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں جن میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، یمن، لیبیا اور بحرین شامل ہیں۔ قطر کو عرب مسلم امریکا فوجی اتحاد سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔ اب خلیج تعاون کونسل میں صرف عمان واحد ملک رہ گیا ہے جس کی قطر سے تعلقات باقی ہیں۔ ویسے بھی عرب مسلم امریکی فوجی اتحاد بنتے وقت بھی قطر کے اتحاد کے روح رواں سعودی عرب سے تعلقات درست نہیں تھے۔

قطر پر الزام لگایا گیا ہے کہ قطر اخوان المسلمون، دولتِ اسلامیہ، حماس اور دیگر شدت پسند اور مسلکی تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ سفارتی تعلقات کے خاتمے کے ساتھ سعودی عرب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اخراج کی وجہ قطر کے اقدامات سے دہشت گردی کو ملنے والا استحکام ہے۔ بحرین کا کہنا ہے کہ قطر اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کی سلامتی و استحکام کو متزلزل کر رہا ہے۔ مصر نے بھی قطر کے ہوائی جہازوں کے لیے اپنے ہوائی اڈے اور بحری جہازوں کے لیے بندرگاہیں بند کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کا بھی یہی کہنا ہے۔ اب سعودی عرب کے ساتھ سعودی عرب کی سرحدیں بند ہیں، ٹیلی وژن چینل 'الجزیرہ' کے دفاتر بھی بند ہیں۔

سفارتی تعلقات کا خاتمہ قطری نیوز ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے کے واقعے کے دو ہفتے بعد ہوا ہے۔ یہ ویب سائٹس قطری امیر تمیم بن محمدالثانی کے ان بیانات کی آن لائن اشاعت کے بعد بلاک کی گئی تھیں جس میں انہوں نے سعودی عرب پر کڑی تنقید کی تھی۔ قطری حکومت نے ان بیانات کو جعلی قرار دیا تھا اور اسے شرمناک جرم کہا تھا۔

بائیکاٹ کے بعد اب قطر کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے قطری شہریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے ہمیشہ امت کے اتحاد و اتفاق کی بات کی ہے اور موجودہ حالات میں وہ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی پاکستانی حکمرانوں کے قطریوں کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں۔ پاناما معاملے میں قطری شہزادے کے خط کی بڑی اہمیت ہے۔ پھر پاکستان نے قطر کے ساتھ کئی معاہدے کیے ہوئے ہیں جس میں دونوں ملکوں کے مفادات ہیں۔

البتہ دوسری جانب شریف خاندان جلاوطنی کے ایام میں سعودی عرب کا مہمان بھی رہ چکا ہے۔ سعودی حکومت کے ان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس لیے پاکستان کسی ایک کا ساتھ دینے کے بجائے مذاکرات سے مسئلے کو حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ ایران نے بھی فریقین کے درمیان اختلافات پر مذاکرات ہی کی راہ دکھائی ہے جو ایک اچھی سوچ ہے۔ ترکی نے ان اختلافات پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، جس کی وزارت کا کہنا ہے کہ برادری اسلامی ممالک میں اختلافات کی صورت میں وہ ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اب خلیجی ممالک کے اس تناؤ کی وجہ سے تیل کی قیمتی بڑھ گئی ہیں۔ گو کہ یہ اختلافات پرانے نہیں ہیں۔ قطر سعودی قیادت میں مسلم فوجی اتحاد کی مخالفت کرتا رہا ہے اور ایران کی جارحیت پر بھی اس کا رویہ اتنا سخت نہیں تھا۔ اب سعودی عرب کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ قطر کو اس فوجی اتحاد کی پالیسیوں پر چلنے کی تلقین کرتا اور نہ ماننے کی شکل میں اپنے تعلقات ختم کرتا جو اس نے بالآخر کر دیے ہیں۔

قطر کو بھی مسلم امہ کی اجتماعی پالیسیوں کے ساتھ چلنا چاہیے تھا، نہ ایک ڈیڑھ انچ کی اپنی مسجد بنانے پر زور دیتا۔ اتحاد امہ کے لیے سب کو یکساں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران سے بھی ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ مسلم ممالک کے ساتھ اپنے جارحانہ رویے پر نظر ثانی کرے۔ عراق پر قبضہ کرتے وقت ترکوں کو اپنا ازلی دشمن قرار دیتے ہوئے اپنا علاقہ واپس لینے کی بات ہو یا بھارت کی حمایت میں پاکستان کی سرزمین پر راکٹ باری، ان اقدامات کی وجہ سے ایران کے خلاف عرب اور سنی دنیا میں عمومی تشویش پائی جاتی ہے۔

مسلم دنیا میں اتحاد کی ایک ہی صورت ہے کہ دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرنے یا بے امنی پھیلا کر اپنے فرقے کی حکومت قائم کرنے کی پالیسیاں ختم کی جائے۔ اسلام کے دشمن ہمیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑا کے اپنا اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ مسلمان جب ایک تھے تو دشمنوں پر ان کا رعب تھا، اب فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، اتحاد و اتفاق ناپید ہے، اس لیے دشمن کے ہاتھوں ذلیل ہیں۔ اس لیے قطر سمیت تمام عرب و مسلم ممالک کو اتحاد و اتفاق سے اپنی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں اور اس مسئلے کو فی الفور کرنے کی ضرورت ہے۔