تقریبات میں بچنے والے کھانوں کی غریبوں تک فراہمی - ناصر تیموری

عام طور پر ہوٹلوں، شادی ہالوں، ریستورانوں میں بچنے والا زائد کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ کھانے کے اس بڑے پیمانے پر اور بے دریغ ضیاع روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں لمز یونیورسٹی سے حال ہی میں تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان لڑکوں حذیفہ احمد، موسیٰ عامر اور قاسم جاوید نے ایک سماجی کام کا آغاز کیا ہے جو پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ایک نیا تصور ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنے پروجیکٹ کا نام "رزق" رکھا ہے۔

ادارہ "رزق" کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہیں۔ کھانے کے ضیاع میں کمی لائی جائے اور پسماندہ طبقے بالخصوص بچوں کو خوراک فراہم کی جائے۔

نوجوانوں کے ان جذبوں کو مہمیز ان کے والدین بالخصوص حذیفہ کی والدہ رخسانہ اظہار سے ملیں۔ رخسانہ روزانہ اپنے گھر پر سینکڑوں افراد کا کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتی ہیں۔ ادارہ رزق کی ٹیم نے بتایا، ہم نے اپنے گھروں اور سماجی حلقوں میں کھانوں کی کثرت دیکھی ہے اور ہم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ پاکستان میں سینکڑوں افراد ایک دن کا کھانا کھانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ مایوس کن صورتحال ہے جس میں ہم نے کچھ نمایاں انداز سے کام کیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ رزق پروجیکٹ اس خلا کو پُر کرتا رہے گا۔

رزق پروجیکٹ نے اپریل 2015 میں باقاعدہ کام کا آغاز کیا جب یہ تینوں دوست لمز یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ حذیفہ بتاتے ہیں کہ کھانے کا ضیاع ہوتا دیکھ کر ہمیشہ ان کا دل دکھتا تھا اور انہوں نے اس آئیڈیے پر گفتگو کی کہ اپنے دوستوں موسیٰ اور قاسم کے ساتھ مل کر زائد کھانے کے باوقار استعمال کا طریقہ وضع کیا جائے۔ جلد ہی ہم نے فیصلہ کیا کہ غریب اور بھوک سے متاثرہ افراد تک کھانے کی رسائی کا راستہ نکالنے کا کام شروع کیا جائے۔ رزق کی ٹیم نے فیس بک پیج پر زائد کھانے جمع کرنے اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا تفصیلی منصوبہ بھی شیئر کیا۔

رزق کی ٹیم نے پہلا کھانا جیل روڈ پر ایک شخص سے وصول کیا۔ اس نے ان نوجوانوں کو بتایا کہ اس کی اہلیہ نے ایک دعوت میں حلیم پکائی تھی اور وہ کافی ساری بچ گئی ہے اور انہیں خوشی ہے کہ رزق ٹیم نے گھر سے کھانا وصول کیا۔ یوں پہلی بار باقاعدہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی جس کی انہیں ضرورت بھی تھی۔ ان نوجوانوں نے لاہور کی کچی آبادی میں 50 سے 60 افراد میں کھانا تقسیم کیا یوں رزق نے بطور ادارہ کام کا آغاز کیا۔

پھر ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے رزق کی ٹیم لاہور کے ایک علاقے میں پھیل گئی اور علاقے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرلیا۔ یہ علاقے کچھی آبادیوں اور دیہات پر مشتمل ہیں۔ اگلا مرحلہ رزق کے آفیشل فیس بک پیج اور ویب سائٹ پر فوڈ ڈرائیورز کا اشتہار دیا گیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر لوگوں کے پاس تقریبات میں زائد مقدار میں کھانا بچا ہو یا لوگ کھانا عطیہ کرنا چاہیں تو ان سے رابطہ کریں۔ ایک پارٹنر این جی او کے ذریعے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی غذائی سطح کا ٹیسٹس بھی کیا جائے گا جس سے ان کی غذائی ضروریات کا بھی تعین ہوگا۔

ادارہ "رزق" کی طرف سے کھانا پارٹنر ریسٹورنٹس، بیکریوں، کیٹرنگ والوں اور گھروں سے اکھٹا کیا جاتا ہے۔ یہ کھانا عام طور پر بڑے برتن میں آتا ہے۔ اس کھانے کو اسٹور میں رکھ کر اس کا معیار چیک کیا جاتا ہے اور اس کی باسہولت تقسیم کے لئے اسے چھوٹے پیکٹوں میں ڈالا جاتا ہےاور اوسطا یومیہ بنیاد پر 200 سے 250 افراد کو کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا عزم ہے کہ وہ یومیہ بنیادوں پر کھانا کھانے والے افراد کی تعداد 2 ہزار تک لے جائے۔

جب "رزق" کے کام کا آغاز ہوا تو اس وقت ان کے کسی بانی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام اتنا زیادہ پھیل جائے گا۔ لاہور میں کھانے کے ضیاع کے مسئلہ کی شدت نے رزق کی ٹیم کو قائل کیا کہ وہ غربت کے خاتمے کے لئے اپنا قدم مزید پھیلائیں۔ ادارہ رزق کسی پر انحصار نہیں کرنا چاہتا ہے۔ ادارے نے اب ریسٹورنٹس سے کھانا جمع کرنے کے لئے معمولی سی لاجسٹک فیس لینے کا آغاز کیا ہے تاکہ اپنے کام کو پائیدار بنائیں۔ اس کے علاوہ اس نے کھانے کے پیکٹ کی برائے نام فیس وصولی بھی شروع کی ہے جس کے تحت لوگ صرف 10 روپے میں رزق فوڈ بینک سے اپنی مرضی کا کھانا خرید سکتے ہیں جو دو شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ پہلی شفٹ صبح ساڑھے گیارہ بجے کام شروع کرتی ہے اور دوپہر ڈیڑھ بجے ختم ہوتی ہے جبکہ دوسری شفٹ دوپہر تین شروع ہوتی ہے اور چار بجے ختم ہوجاتی ہے۔

زیادہ آبادی والے خاندانوں کو کھانے کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے کچھ حدود ہیں کہ ایک وقت میں ایک گھرانہ کتنے افراد کا کھانا لے سکتا ہے۔

رمضان کے دوران ادارہ "رزق" روزانہ مختلف مقامات پر دو سے تین افطار دسترخوان بھی لگا رہاہے تاکہ مستحق افراد کو بھی کھانا دستیاب ہو۔

اپنا دائرہ کار بڑھانے کے لئے ادارہ رزق کو 15 لاکھ روپے کی ضرورت ہے تاکہ بڑی مقدار میں کھانے کے انتظام کے لئے وہ کولڈ اسٹوریج وین اور کولڈ اسٹوریج کی سہولت حاصل کرسکیں۔ ادارہ رزق کی ٹیم اب تک فریجز کے ذریعے انتظام چلا رہی ہے لیکن ان میں کھانوں کی مقدار کم آتی ہے۔

ادارہ "رزق" اس وقت اسلام آباد میں بھی فعال ہے جہاں رضاکار اس کا کام آگے بڑھاتے ہیں۔

پاکستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک فوڈ بینک قائم ہوا جس میں ضرورت سے زائد کھانوں کو استعمال کرنے کا طریقہ نکالا گیا ہے۔ اس منصوبہ میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ غربت میں کمی لانے اور لوگوں کی زندگیاں تبدیل کرنے میں مددکرے۔ کھانے کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے دیگر سہولیات جیسے بچوں کو اسکول بھجوانے یا بیمار افراد کے لئے ادویات کی خریداری کے لئے عطیات بھی دیئے جاسکتے ہیں۔

بانی رکن حذیفہ نے بتایا، بعض اوقات جب مسائل سامنے آتے ہیں تو ہم دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن بھوکے شخص کو کھانا کھلاتا دیکھنا یا ضرورت مند شخص کا پیٹ بھرنا ہماری سب سے بڑی مہمیز ہے جس سے ہمیں توانائی ملتی ہے۔ رزق کا خواب ہے کہ پاکستان کو بھوک سے پاک ملک بنایا جائے اور اس ہدف کو پانے کے لئے نوجوان افراد اپنے ذاتی مالی فائدوں کی قربانی دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس اقدام کو پائیدار بنانے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں تاکہ یہ ادارہ خود کھڑا ہوجائے اور لوگوں کی مزید بڑی تعداد کو کھانوں کی فراہمی جاری رکھ سکے۔