قطر کا مقاطعہ، خلیج میں بڑھتی ہوئی خلیج - محمد اشفاق

عرب اسلامک سمٹ کے دو ہفتے بعد ہی ایک بڑی پیشرفت میں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر کے ساتھ اپنے تمام تعلقات منقطع کر دینے کا ڈرامائی اعلان کر ڈالا۔ یمن اور مصر نے بھی اس معاملے پر سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ قدرے غیر متوقع طور پر ماریشس اور مالدیپ نے بھی قطر سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے، جبکہ قطر نے دوٹوک الفاظ میں اس الزام کی تردید کی ہے۔

بظاہر اب سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو تیزی سے اپنے حق میں کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کی خاطر وہ بڑے سے بڑا قدم اٹھانے کو بھی تیار ہے۔ 2014ء میں بھی خلیجی تعاون کونسل کے ان تینوں بڑے ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کیا تھا، جو بعد میں اخوان المسلمون کے راہنماؤں کی قطر سے بیدخلی کے بعد ختم ہوا۔ اس بار یہ اعلان تقریباً پوری دنیا کے لئے غیر متوقع تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے معاملات میں قطر کی خارجہ پالیسی خطے کے دیگر عرب ممالک سے مختلف ہے۔ قطر نہ صرف یہ کہ اخوان المسلمون کی کھل کر حمایت کرتا رہا ہے بلکہ حماس کے مرکزی راہنما خالد مشعل بھی قطر میں مقیم ہیں جو کہ حماس کے ساتھ قطر کی وابستگی کا ایک ثبوت ہے۔ سعودی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں سے برسر پیکار فوجی اتحاد کو یہ شکوہ بھی ہے کہ قطر حوثی باغیوں کی درپردہ حمایت کرتا ہے، گوکہ اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ طالبان نے بھی غالباً 2013ء یا 2014ء میں اپنا دفتر دوحہ میں قائم کیا تھا۔ مگر ان سب سے زیادہ قطر کے عرب ہمسایوں کو اس کے ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر اعتراض ہے۔ سعودی عرب خلیج فارس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پہلے ہی نالاں ہے، ایسے میں قطر کی صورت اسے ایک خفیہ اتحادی مل جانا سعودی قیادت کو کسی صورت گوارا نہیں۔

اب جبکہ ان تمام ممالک نے نہ صرف یہ کہ قطر سے سفارتی سطح پر تعلقات منقطع کر لئے ہیں، بلکہ قطری باشندوں کو دو ہفتے کے اندر بیدخلی کا نوٹس بھی دے ڈالا ہے اور اس سے تمام بری، بحری اور فضائی راستوں سے رابطے منقطع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے پیچیدہ سیاست میں ایک اور خطرناک موڑ آ گیا ہے۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ امریکا کو بھی اس پیشرفت کا اندازہ نہ تھا، شام کے علاوہ قطر سمیت تقریباً تمام عرب ممالک امریکا کے اتحادی ہیں اور خطے میں اس کی افواج مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔ قطر میں امریکی فضائیہ کے لیے ایئر بیس قائم ہے، جو کہ مختلف فضائی آپریشن کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اپنے اتحادیوں میں یہ پھوٹ پڑنا بظاہر خطے میں امریکی مفادات کے حق میں بھی نہیں، اس لئے واشنگٹن کا اس معاملے پر بہت محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔

قطر کا ردعمل ابھی تک کافی محتاط ہے، اس نے کھل کر ان ممالک کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید ہی پر اکتفا کیا ہے۔ مگر دوسری جانب ابھی فوری طور پر ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ ہمسایہ عرب ممالک کے ان الزامات یا خدشات کا ازالہ کیا جائے گا۔ یعنی فی الحال قطر اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کو تیار نہیں ہے۔ یہاں الجزیرہ نیٹ ورک اور قطر میں کام کرنے والی بعض نیوز ایجنسیوں اور اخبارات و جرائد کا ذکر کرنا بھی بے جا نہ ہوگا، جو اکثر خطے کی صورتحال کی وہ تصویر پیش کرتے ہیں جو کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حق میں نہیں جاتیں۔ اسی طرح الجزیرہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ خطے میں جمہوریت کے فروغ کی آڑ میں موجودہ بادشاہتوں اور آمریتوں کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کا باعث بننے والی رپورٹنگ کرتا ہے۔ یہ الزامات کس حد تک درست ہیں، اور قطر یا سعودی عرب میں سے کس کی پالیسی خطے کے مفادات کے لیے زیادہ بہتر اور حقائق پر استوار ہے؟ اس سے قطع نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خلیجی ممالک کے درمیان ایک ان دیکھی خلیج بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

فی الحال حوصلہ افزا پیشرفت اتنی ہے کہ کویت نے نہ صرف یہ کہ دیگر عرب اتحادیوں کا اس مقاطعہ میں ساتھ نہیں دیا، بلکہ کویتی حکمران اس معاملے پر ثالثی کرنے بھی جا رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ امریکا کی خاموش تائید بھی انہیں حاصل ہو۔ تاہم تادم تحریر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

غالباً سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو یقین ہے کہ قطر اس مقاطعے کی تاب نہ لاسکے گا، کیونکہ قطر خوراک تک کے حصول میں اپنے ہمسایوں کا محتاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر میں عوام نے خواراک ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہے۔ قطری حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ اشیائے ضرورت کی قلت نہیں ہونے دے گی اور قطر کے اتنے وسائل ہیں کہ وہ متبادل انتظامات کر سکے لیکن بہرحال اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات قطر کے لیے بہت گھمبیر ہیں۔ لیکن اگر قطر اس مرتبہ مزاحمت کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہی مقاطعہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے بہت بڑی غلطی ثابت ہوگا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قطر پہلے اگر ایران کا درپردہ حمایتی تھا تو اب وہ کھل کر اخوان، حماس، حزب اللہ اور ایران کے کیمپ میں چلا جائے گا۔ یقیناً سعودی عرب سمیت ایسا کوئی بھی عرب ملک نہیں چاہے گا۔ اسی لئے ماہرین اس مقاطعے کو بہت شدید اقدام قرار دے رہے ہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے قطر کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ معاملہ فی الحال زیرغور نہیں ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سعودی عرب اپنے غیر عرب اتحادیوں سے بھی اس معاملے میں تعاون کا خواہاں ہوگا۔ مالدیپ اور ماریشس جیسے بظاہر غیر متعلقہ ممالک کا سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان جہاں حیران کن ہے، وہاں قابل غور بھی۔ شاید درپردہ ترکی اور پاکستان کے ردعمل کا بغور جائزہ بھی لیا جا رہا ہو۔ ابھی تک پاکستانی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر کافی سمجھداری کا ثبوت دیا ہے۔ ہماری طے شدہ خارجہ پالیسی کہ "ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں مگر ایران کے خلاف نہیں"، اب تک بہت کامیاب ثابت ہوئی ہے، مگر معلوم یہی ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پالیسی پر کاربند رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری ایران اور افغان سرحدوں کی صورتحال، سی پیک پراجیکٹ، بھارت کی کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی جارحیت اور کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم کے ساتھ ساتھ اب ہمیں مشرقِ وسطیٰ میں بھی جہاں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی فریق بن جاتے ہیں، ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کے لیے داخلی اور خارجہ دونوں محاذوں پر آخری سال بہت چیلنجنگ ثابت ہو رہا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اس نازک صورتحال سے کامیابی سے عہدہ برا ہو سکیں۔ آمین