وہ جو دکھائی نہیں دیتے، نظر نہیں آتے - عزیزہ انجم

سامنے والے اپارٹمنٹس کے گیٹ پر صبح سے عورتیں آنا شروع ہو گئیں۔ نجانے کیا ماجرا ہے؟ دھوپ بڑھنے کےساتھ ساتھ عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ کسی کےساتھ بچے بھی تھے اور دور کھڑے مرد بھی۔ شام تک ایک جم غفیر جمع تھا اور اسے کنٹرول کرنا چوکیدار کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ سمجھ گئی کہ ہر سال کی طرح اس رمضان میں بھی راشن کی تقسیم تھی۔ کھڑکی سے مختلف منظر نظر آ رہے تھے۔ ہجوم بے ہنگم، چیخ پکار اور دھکم پیل کےساتھ رات گئے راشن کی تقسیم ختم ہوئی۔ جنہیں مل گیا وہ خوش تھے، جنہیں نہیں مل سکا وہ بڑبڑاتے اور غصہ کرتے واپس جا رہے تھے۔

شہر کے متمول علاقوں میں اکثر جگہوں پر زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے لوگ نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ یہ غریب اور مستحق افراد ہی ہوتے ہیں جن میں پیشہ ور مانگنے والے بھی شامل ہو جاتے ہیں لیکن عزت نفس کی پامالی کےساتھ، اس طرح زکوٰۃ اور راشن کی تقسیم کتنی مناسب ہے اس پر بھی سوچنا چاہیے۔

عجیب بات یہ بھی ہے کہ ہر سال مانگنے والوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور غربت بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔اللہ تعالی نے زکوٰۃ کے مستحق افراد میں مسکین اور فی الرقاب کو شامل کیا ہے۔ حدیث نبوی وضاحت کرتی ہے کہ مسکین وہ نہیں جو لقمہ دو لقمہ کے لیے جگہ جگہ ہاتھ پھیلاتا رہے، مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہو اور اس کی عزت نفس ہاتھ پھیلانے میں مانع ہوتی ہے۔ رقاب گردنوں کو چھڑانے میں قیدی کی ضمانت بھی شامل ہے اور قرض کے بوجھ سے جان چھڑانا بھی۔

سوال یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں کہاں رہتے ہیں؟ ہمارے اردگرد قرب وجوار میں، ہمارے دور و نزدیک کے متعلقین میںع جائے ملازمت پر۔ کم تنخواہ دار، بے روزگار، علیل، مستقل بیماری میں مبتلا، حالیہ کسی حادثے کا شکار، ناکافی کرائے یا بل کی ادائیگی۔ یہ سفید پوش کم آمدنی والے افراد اور کنبے جو کسی کے دروازے پر کھڑے نہیں ہو تے جو دکھائی نہیں دیتے جو نظر نہیں آتے۔

گورنمنٹ کے اچھے ادارے میں ملازم ایک ایمان دار اور رزق حلال کمانے والے صاحب کی بیٹی اردگرد میں پھیلی شان و شوکت سے اتنی زیادہ احساسِ کمتری کا شکار ہوئی کہ شدید ڈپریشن میں چلی گئی۔

بدلتے وقت کے ساتھ تبدیلی یہ ہوئی کہ علاقے تقسیم ہو گئے۔ پہلے پھر بھی ملی جلی کیفیت تھی صاحب ثروت لوگ بھی انہی محلوں میں رہتے تھے جہاں متوسط سفید پوش رہا کرتے تھے۔ باہمی میل جول اور تعلقات کی وجہ سے حالات سے واقفیت بھی ہو جاتی تھی اور عزت نفس برقرار رہتے ہوئے مدد بھی ممکن ہو جاتی تھی۔

الحمدللہ معاشرے میں ایسے بہت ادارے ہیں جو تعلیم، صحت، غذا کی فراہمی، یتیموں کی کفالت، مسجد و مدرسہ کے حوالے سے قابل ذکر کام کر رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کا بھی خیال کریں، ان کی مشکلات بھی دور کریں جن کی مفلسی، خودداری اور شرافت کی چادر سے ڈھکی ہوتی ہے جو باوجود بہت مجبور ہونے کے نظر نہیں آتے دکھائی نہیں دیتے۔

دوچار لوگوں کی رقم ملا کر کوئی سستا فلیٹ یا مکان دلایا جا سکتا ہے۔ سال کا کرایہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ بڑے اور بھاری قرض اسپتال کے بل بعض اوقات بجلی کا بڑا بل دیا جا سکتا ہے۔ ایک یا دو بچوں کا کسی اچھے تعلیمی ادارے کا خرچ برداشت کیا جا سکتا ہے۔ موذی اور طویل بیماری کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارے اپنے معاشرے ہمارے اپنے لوگوں کے مسائل ہیں۔ انہیں ڈھونڈئیے جو ہمارے آس پاس ہیں لیکن نظر نہیں آتے دکھائی نہیں دیتے۔

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */