عرب فارس بالواسطہ فساد اور اسلام - عمر ابراہیم

"دیگرممالک کی طرح ایران میں بھی اسلام کی بعثت ایک زبردست سماجی ترقی کی نمائندہ تھی؛ اس نے ذات پات کا قدیم ایرانی نظام تباہ کردیا۔ داریوش اورتخشستا کی فخرمند اولادیں اپنی قومی زندگی کے تاریخی تسلسل کوہرگز نہیں بھلاسکتی تھیں، ان کے گزشتہ کل اور آج کے درمیان نامیاتی تعلق اچانک ٹوٹ گیا تھا۔ ایران میں اسلام کی آمد کا پہلا اور پائیدارترین ردعمل گہری ذلت اورخفگی سے عبارت تھا۔ میں نے اہل ایران کی جانب سے شیعہ مسلک کی قبولیت میں ایران کی عرب تسخیرکے خلاف ایک خاموش احتجاج دیکھا۔ یہ درست ہے کہ شیعہ مسلک کا منبع ایران میں نہیں تھا؛ دیگرمسلم سرزمینوں میں بھی شیعہ گروہ موجود تھے: لیکن اس نے کہیں بھی لوگوں کے جذبات اورتخیل پراس طرح مکمل تسلط نہیں جمایا۔" (شاہراہ مکہ از علامہ محمد اسد)

مسلمان دنیا آج تک جن دوراہوں پرہے، اُس نے اسلام کوفیصلہ کن دوراہے پرپہنچادیا ہے۔ ایک راہ نسلی افضلیت، دوسری راہ مستقیم ہے۔ علامہ محمد اسد کا مذکورہ مشاہدہ اور علم اہل ایران کی نفسیات کا درست عکاس ہے۔ یہ نہ صرف نومسلم یہودی کا غیرمتعصبانہ تجزیہ ہے، بلکہ تاریخ کی زمین پرمسلسل حقیقت ہے۔ یقیناً یہ منفرد نہیں۔ عرب نسل پرستی نے تعصب کی آگ میں برابر ایندھن جھونکا ہے۔ بنی اسرائیل کا المیہ بھی یہی رہا ہے۔ اسلام کی بعثت ہرعصبیت پسند معاشرے پریکساں گراں گزری ہے۔ ردعمل کی صورتیں مختلف رہی ہیں۔ حال بھی شاہد ہے۔ آج متعصب مسلمان حکمرانوں پر(عوام نہیں) باہمی کشت وخون کا جنون سوار ہے۔ مگریہ مردانہ وارنہیں، جرات وجاں نثاری نسلی عصبیت سے ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا، بالواسطہ فساد کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔ اموی وعباسی بادشاہتوں میں ظالم حکام سے کام لیا گیا۔ حکومتوں میں ہر تیسرا ناجائز اورظالمانہ ہتھکنڈا اختیار کیا گیا۔ اس رویّے میں دونوں ایک ہیں۔ یہ رویہ سب سے بڑا اسلام دشمن ہے۔

اس رویّے کی حالیہ تاریخ کا آغازانقلاب ایران سے کیا جاسکتا ہے۔ 1979ء میں شیعہ انقلاب نے آل سعود کی بادشاہت پراندیشے طاری کردیے۔ مسلمان دنیا میں 'حرمین شریفین' کی مرکزیت متاثرہوئی۔ ایران کے انقلابیوں نے مسلمان دنیا کودعوت دی کہ غاصب بادشاہتوں کے تختے الٹ دیے جائیں۔ انہوں نے انقلاب ایران کومسلمان دنیا کے لیے منہاج انقلاب قراردیا۔ سعودی عرب کی دس فیصد شعیہ اقلیت میں جوش پیدا ہوا، تہران میں دفاترقائم ہوئے۔ آل سعود کومحسوس ہوا کہ سعودی عرب میں داخلی انتشارکا خطرہ بڑھ گیا۔ اگلے ہی سال عراق کے اقلیتی سنی حکمران صدام حسین نے ایران پرحملہ کردیا۔ سعودی بادشاہت نے صدام حسین کی پشت پناہی کی۔ صدام حسین نے آل سعود اورمغرب کے بھرپور تعاون سے خطے کوآگ اور خون میں دھکیلا۔ آٹھ سال تک وحشیانہ خون خرابے میں کیمیائی ہتھیاروں کا سفاکانہ استعمال بھی ہوا۔ کم از کم دس لاکھ افراد کا خون ناحق بہایا گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا، جب مشرق وسطیٰ ٰ پرامریکی استعمارنے پنجے گاڑھے۔ وسائل کے خزانے قبضے میں لیے۔ صدام حسین کی مہم جوئی نے انقلاب ایران کا جوش قدرے دھیما کردیا تھا۔ تاہم تہران نے مشرق وسطیٰ میں سعودی اثرورسوخ ختم کرنے کی کوششیں تیزکردیں۔ 1990ء میں عراق نے کویت پربھی حملہ کردیا، کویت سعودی عرب کا اتحادی تھا۔ صدام حسین کا یہ حملہ امریکہ کے لیے دعوت نامہ تھا۔ امریکہ نے باآسانی عراقی فوجی کویت سے بے دخل کیے، مگرخود خطے سے نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اب امریکہ ریاض اورتہران تصادم کا مقامی ماحول سازگارکرتا رہا۔ یہاں تک کہ 2003ء میں امریکہ نے عراق پرحملہ کیا، اورخطےمیں طاقت کا توازن ایران کے حق میں جھکادیا۔ پہلے ریاض عرب عراق ایران جنگ پرخوشیاں منارہا تھا، اب تہران میں جیسے جیت کا سماں تھا۔ اس سارے ماحول میں اسلام اورفہم وفراست کا کہیں گزر نہ تھا۔

غرض بغداد میں کٹھ پتلی شیعہ حکومت وجود میں آئی۔ سنی اقلیت کے خلاف توازن کا شدید بگاڑپیدا کیا گیا۔ نسلی عصبیت کی تسکین کے لیے شیعہ سنی منافرت کا وافرسامان مہیا کیا جاتارہا۔ یہاں تک کہ عراق تباہ وبرباد ہوگیا۔

بالواسطہ دشمنی یا پراکسی وارکا ایک منظرنامہ لبنان میں سامنے آیا۔ ڈھیلا ڈھالا جمہوری نظام اورملا جلا سیاسی ماحول تھا۔ ایران شیعہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ کی سرپرستی کررہا تھا، جبکہ ریاض سنی وزیراعظم رفیق حریری کی پشت پناہی کررہا تھا۔ وزیراعظم رفیق حریری نے ایران کی حمایت یافتہ شامی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ یہ کشاکش رفیق حریری کے سیاسی قتل پرمنتج ہوئی۔ لبنان عدم استحکام کا شکار ہوا۔

سن 2015ء میں ایران کے ساتھ امریکہ کے ایٹمی معاہدے نے سعودی محلات میں ہلچل مچادی۔ خدشات پیدا ہوگئے کہ امریکہ ریاض کی جگہ تہران کو دوست بنارہا ہے۔ اس احساس کے ساتھ شاہ سلمان سمیت پوری سعودی بادشاہت امریکہ کی خاطرسب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہوگئی۔ نتیجتاً ریاض میں عرب اسلامی امریکی اجلاس کا نامبارک انعقاد ہوا۔

جس کے بعد، سعودی اتحاد نے سب سے پہلا حملہ قطرپرکیا۔ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، اوریمن نے قطرسے سفارتی تعلقات توڑدیے۔ اس تباہ کن فیصلے کی وجہ یہ سامنے آئی کہ قطرحکومت اخوان المسلمون کی حمایت کررہی ہے۔ یقیناً یہ وجہ بھی ہے، اورطویل عرصے سے ہے۔ قطر کے جس اقدام سے واشنگٹن اور آل سعود پرحال میں بجلی گری، وہ خطے میں مسلمان اتحاد کی کوشش ہے۔ قطری امیرکی درخواست پرایران کے صدرحسن روحانی آمادہ ہوچکے تھے کہ عرب اقوام سے مذاکرات کیے جائیں، امریکہ کی پراکسی وارسے جان چھڑائی جائے، اورعصبیت کی جنگ سے توبہ کرلی جائے۔ امیرقطرشیخ تمیم بن حماد سے ٹیلیفون پرگفتگومیں حسن روحانی نے خطےمیں بھائے چارے کی خاطرمخلصانہ معاہدے کی ضرورت پراتفاق کیا تھا۔

یقیناً، یہ پیشرفت عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے زہرقاتل تھی کہ مشرق وسطیٰ کی دوبڑی قوتیں پراکسی وارچھوڑکرمذاکرات کی میز پرآجائیں۔ سو، آل سعود نے صہیونیت کی جنگ کا ہراول دستہ بننے کا نامبارک فیصلہ کیا، اوراپنے ہی گھرمیں آگ لگانے کا آغازقطرسے کیا۔ دوسری جانب ایران تہران سے بیروت تک زمینی کوریڈورکا خواب بُن رہا ہے، تاکہ حزب اللہ اوربشار الاسد کی دہشتگرد فورسز تک اسلحے کی کھیپ اورلاجسٹک مدد پہنچاتا رہے۔ عرب فارس خون خرابے کی تاریخ شدت کے ساتھ دہرائے جانے کا خدشہ ہے۔ بنی اسرائیل ہدایت کار ہیں۔ آگ اورخون کا یہ شیطانی کھیل شام، یمن، عراق، افغانستان اوردیگرخطوں میں آدمیت پامال کررہا ہے۔ اس سب کچھ کا اسلام سے کچھ واسطہ نہیں۔ عرب نسل پرست اورمتعصب فارسی بنی اسرائیل کی قیادت میں شیطان کی پیروی کررہے ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں اسلام کہاں ہے؟ اسلام مصرکے زندانوں میں ہے، اردن کی جیلوں میں ہیں، اسرائیل کے عقوبت خانوں میں ہے، غزہ کی مساجد میں ہے، ترکی کے ارادوں میں ہے، یہ اسلام ہرمحاذ پربرسرپیکار ہے، یہ ہرجگہ آزمائش میں ہے۔

آزمائش سے کیسے نکلا جائے؟ ترک وزیرخارجہ مولود چاووش‌ اوغلو نے راستہ بتایا ہے کہ خطے کا استحکام مسلمان ملکوں کے اتحاد و یکجہتی میں ہے۔ باہمی معاملات میں مسائل آسکتے ہیں مگر مذاکرات سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ انقرہ قطرسعودی تعلقات کے انقطاع پربہت افسردہ ہے، انقرہ چاہتا ہے معاملات معمول پرآجائیں۔

یہی وہ بات تھی، جس کی سزا قطر کو دی جارہی ہے۔ ترکی اور قطرسمیت جو بھی خطے میں امن یا باہمی مذاکرات کی بات کرے گا، وہ تنہا کردیا جائے گا۔ اس تنہائی کا توڑ کیا ہے؟ عصبیت کی ہرقسم کے خلاف ہرسطح پرجدوجہد ہی یہ تنہائی توڑسکتی ہے۔