پاکستان اورمربوط ترقی کا تصور - آصف ارشاد

ترقی ایک مسلسل اور کثیر جہتی عمل ہے۔ ہر شخص کی انفرادی ترقی کا دارومدار کسی نہ کسی طرح افراد معاشرہ کی ترقی پر ہوتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف مخصوص طبقات میں تبدیلی یا ٹیکنا لو جی کی وسعت نہیں ہے بلکہ معاشرے کے افراد کی ذہنی بالیدگی اور سوچ میں تبدیلی بھی اسی میں شامل ہے۔مربوط ترقی وہی ہوتی ہے جس میں معاشرے کے تمام طبقات اور جزوئیات یکساں طور پر قومی دھارے میں شامل ہوں اور تمام علاقوں میں یکساں سہولیات زندگی میسر ہوں۔

ترقی پذیر معاشروں کا ہمیشہ یہ المیہ رہا ہے کہ صرف چند علاقوں کی ترقی یا مخصوص شعبہ جات میں تبدیلی کو مکمل ترقی سمجھ لیا جاتا ہے۔حکومتیں بھی انہی کاموں کی تشہیر کرتی ہیں اور یوں سالہا سال کی محنت کے بعد بھی معاشرہ ترقی یافتہ نہیں ہوتا۔پاکستان کا شمار بھی ترقی پزیر ممالک کی اس فہرست میں ہوتا ہے جہاں پر نا خواندگی کے ساتھ ساتھ شعور کا بھی خاصا فقدان ہے اور ایسے معاشرں میں کام تھوڑا اورتشہیر زیادہ کی جاتی ہے۔چند شعبوں میں بہتری لاکر عوام کو بیوقوف بنایا جاتاہے اور کرپشن کا بازار گرم رہتا ہے۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہونے والی ترقی پر نظر دوڑائی جائے تو صورتحال بالکل الگ ہے۔پنجاب جو کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا بڑا صوبہ ہے وہاں پر مربوط ترقی کے فلسفے پر عمل نظر آتا ہے۔موجودہ حکومت زندگی کے مختلف شعبوں پر کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن مکمل طور پر اس کے فوائد عوام تک نہیں پہنچ رہے۔ایک طرف تو سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف صنعتوں کی ترقی کے لیے اقدامات ناکافی ہیں۔ ایوب دور میں لنک اپ سڑکیں اور ٹیکنیکل تعلیم کے ادارے بنائے گئے تھے اور ساتھ ساتھ صنعتوں کی ترقی پر بھی توجہ دی گئی جو کہ مربوط ترقی کی طرف ایک قدم تھا۔اگر ایوب دور کی پالیسیوں کا تسلسل ہی برقرار رکھا جاتا تو آج پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔

ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں کو بھی سہولیات کی فراہمی کی جاتی ہے اور ہمارے یہاں سارا پیسہ جمع کر کے صرف شہروں پر لگا دیا جاتا ہے۔اگر شہروں کو درست طریقے سے ترقی دی جائے تو بھی کام چل جائے،لیکن شہروں میں بھی چند مخصوص علاقوں میں ترقیاتی کام کر دیا جاتا ہے اور باقی ماندہ علاقے پسماندہ ترین علاقوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ایسے علاقوں میں رحمت بھی زحمت بن کر نازل ہوتی ہے۔سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تو مربوط ترقی کا تصور ہی موجود نہیں ہے، دیہات کیا اور شہر کیا؟ سب کی حالت زار ایک جیسی ہے۔

حکومتی اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کو با لفرض مان بھی لیا جائے کہ ملک ترقی کی منازل طے کر رہا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اگلے 20سالوں میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے؟ بالکل بھی نہیں! کیونکہ اگر پنجاب یا کسی بھی صوبے کے شہر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں تو آنے والے دس سال میں دیہی اور شہری زندگی کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو کیسے دور کریں گے؟ اور بالفرض اگر ایک صوبہ مکمل ترقی کر رہا ہے تو دس سال بعد دوسرے صوبوں کو اس کے برابر کیسے لائیں گے؟ایک طرف تو ہم بین الاقوامی معیار کا انفراسٹرکچر،ٹرانسپورٹ سسٹم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ملک میں لا کر ترقی کے شادیانے بجارہے ہیں اور دوسری طرف بعض علاقوں میں عوام کوپینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ تھر میں لوگ قحط سے مر رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کو لٹانے کے لیے بیڈ بھی موجود نہیں ہیں۔گو کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ اختیارات مل گئے ہیں اور وہ تقریباتمام معمالات میں خود کفیل ہو گئے ہیں لیکن بحیثیت پاکستانی قوم کیا تمام صوبوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں،تمام شعبوں اور ترقیاتی کاموں میں مل کر کام کریں۔اور پھر وفاق کا کیا کردار باقی رہ جاتا ہے اگر سارا الزام صوبوں پر ہی ڈال دیا جاے۔ وفاق کا کام تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا اور ایسے اقدامات کرنے ہیں جن سے ملک کی تمام جزوئیات مکمل اور یکساں ترقی کریں۔ترقی کا ایک پہلو معاشرے کے افراد کی ذہنی بالیدگی بھی ہے۔

پاکستانی قوم کی موجودہ صورتحال میں عوام الناس تو کجا،بہت سے قومی رہنماؤ ں میں بھی یہ عنصر نظر نہیں آتا۔ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو پس پشت ڈال دیا جاتا۔اگر کوئی ایک صوبہ عوام کے لئے کوئی اچھا قدم اٹھا لے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے تنقید برائے تنقید کی جاتی ہے۔اس نازک وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اکائیوں کی ترقی پر مکمل توجہ دی جائے۔پسماندہ علاقوں اور پسماندہ شعبہ جات میں خصوصی توجہ دیتے ہوئے ترقیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔سہولیات کی فراہمی اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ جب تک سوچ نہی بدلے گی تب تک ملک ترقی نہی کرسکتا۔علاقائی تعصب کا خاتمہ اور اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔حکومت اگر کوئی اچھا قدم اٹھا رہی ہے تو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔کل سے نہیں آج سے اپنے ملک کے لئے سوچنا شروع کریں، کیونکہ تبدیلی ہمیشہ فردواحد سے شروع ہوتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com