سوشل میڈیا عوامی امنگوں کا ترجمان لیکن ۔۔ - فائزہ چودھری

یہ ایجادات کا دور ہے اور عقل انسانی محو حیرت ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہوگئی ہے؟ سوشل میڈیا بھی ایک ایسا جدید ذریعہ ہے جو لوگوں کو اظہار رائے کی اجازت اور پلیٹ فارم عطا کرتا ہے۔ اس کی مقبولیت دن دوگنی اور رات چوگنی ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس میں سے فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب، گوگل پلس اور لکنڈ ان زیادہ مشہور ہیں لیکن مقبولیت کے اعتبار سے فیس بک سب سے آگے ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں۔ اسے دیگر ذرائع ابلاغ پر اس لیے سبقت و برتری حاصل ہے کیونکہ باقی میڈیا میں ان پٹ والے عناصر "محدود اور طے شدہ" ہوتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا میں ہر شخص ہی شریکِ کار ہے۔

کئی مرتبہ نیوز چینلز وہ معلومات نہیں دکھاتے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ آج ہر کوئی اس میڈیا کا دلدادہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صحافتی آزادی کے باوجود میڈیا عوامی جذباتی کی صحیح ترجمانی نہ کرے۔ جہاں لوگ اپنے مسائل و پریشانیاں نہ کسی ٹی وی چینل پر پائیں نہ کسی اخبار میں انہیں کوئی جگہ ملے ۔ ایک خاص طبقہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنا اثر و رسوخ جمائے رکھے اور کوئی کتنا بھی مجبور کیوں نہ ہو اس کی آواز سننے والا یا پہنچانے والا نظر نہ آتا ہو۔ سوائے چند اداروں کے جو اپنی صحافتی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے عوام کی آواز کو متعلقہ محکموں، اداروں اور افراد تک پہنچا رہے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ایسے معاشرے میں سوشل میڈیا اس لیے بھی مقبول ہوا ہے کیونکہ میڈیا حقائق کو چھپاتا ہے اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرتا ہے۔ اس صورت حال میں سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں اور سچ کسی حد تک واضح ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

سوشل میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس کے درست استعمال کے لیے کوشش کی جائے۔ یہ ہمارے ملک میں طاقتور حلقوں کے استحصال کا شکار ہونے والے طبقات کے لئے امید کی نئی کرن بھر کر ابھرا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے معاشرے میں بہت سے منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ ایک خاص برائی جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے معاشرے میں پائی جا رہی ہے وہ ہے مذہبی طبقے کی غیر محتاطی۔ بہت سے ایسے افراد جو دین کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ ہی رکھتے ہیں، مختلف غلط اور غیر ضروری فتوے دیتے نظر آتے ہیں۔جس سے نہ صرف عقیدے میں خرابیاں واقع ہوتی ہیں بلکہ وہ لوگ عوام الناس کو بھی گمراہی کے رستے پر ڈال دیے جاتے ہیں۔

سماجی ذرائع ابلاغ کے نقصان سے خبردار رہنا چاہیے کیونکہ یہاں بلاتحقیق کوئی بھی خبر پلک جھپکتے میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ فیس بْک اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے جھوٹ اورکذب بیانی کا نہ تھمنے والا سیلاب بھی آیا ہے۔جس طرف دیکھیں اختلاف ہی اختلاف نظر آئے گا۔آپ ایسے لوگوں سے خبردار رہیں جو سوشل میڈیا پر فساد، بد امنی، لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں۔ کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں۔

ضرورت تو اس بات کی تھی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو ہم رواداری اور امن و امان کے فروغ کا ذریعہ بناتے،اس کے ذریعے اپنے حقوق کے بارے میں آگہی حاصل کرتے اور تعمیر وطن کا کام لیتے،لیکن اس کے برعکس شرپسند اور منفی سوچ کے حامل افراد نے اسے لوگوں کو ذلیل کرنے اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

بحثیت محب وطن شہری ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم منفی پروپیگنڈااور اشتعال انگیز موادپھیلانے والے ایسے تمام شر پسندعناصر کی نشان دہی کریں۔اس کے لیے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم موجود ہےجس سے ای میل ایڈریس Helpdesk@Nr3c.Gov.Pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔