لم تقولون ما لا تفعلون - عزیزہ انجم

مجھے اپنے آپ سے کچھ کہنا ہے

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

ہم کیوں بولتے ہیں؟

نہ لکھنا آسان ہے، نہ بولنا؟

ہمت جمع کرنا پڑتی ہے، وقت نکالنا پڑتا ہے، لفظوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، خوبصورت جملے بنانے ہوتے ہیں، گویا خون جگر کشید کرنا پڑتا ہے

بات اس انداز میں کہی جائے کہ سننے والا شوق سے سنے، پڑھنے والا دلچسپی سے پڑھے

یہ لکھنا اور بولنا کیوں ؟

اس لئے کہ میرے رب نے کہا ہے وتواصو بالحق وتواصو بالصبر

اور حق کی تلقین کرو اور صبر کی تاکید کرو

اور لکھتے وقت بولتے وقت سامنے نظر ڈالو تو پہلی صف میں لوگ نظر نہیں آتے،و ہ کہاں گئے جنہیں میں سنا نا چاہتی تھی، پڑھانا چاہتی تھی ؟

پہلی قطار میں میرا دل بیٹھا ہے، میری آنکھیں، میری زبان، میرے کان، میرا ضمیر، میرے دن رات، میری گفتگو، میرا عمل، میرا اخلاق، میرا رویہ ۔۔۔۔ نہ جانے کون کون پہلی قطار میں بیٹھا مجھے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، پڑھ رہا ہے

مجھے اپنے آپ سے کچھ کہنا ہے

"تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں"

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.