چڑی روزہ - ناصر جاوید

ارے یہ کیا کررہے ہو؟

ابے اندھا ہے کیا؟ نظر نہیں آرہا ؟ ٹی وی دیکھ رہا ہوں

تو تم نے روزہ نہیں رکھا کیا؟

ابے او مولوی کے بچے! کیا تیرے اسلام میں ٹی وی دیکھنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

دیکھ، پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام صرف میرا نہیں اور نہ ہی میں اس کا اکیلا ٹھیکیدار ہوں۔ اسلام ہم سب کا ہے دوسری بات یہ کہ میں ٹی وی دیکھنے کے خلاف نہیں اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے روزے کو کچھ ہوگا، فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ آپ ٹی وی پر دیکھ کیا رہے ہیں؟

تو تمہیں نظر نہیں آرہا میں رمضان والا پروگرام ہی دیکھ رہا ہوں کونسا میں یہاں پر رمبا سمبا ناچ دیکھ رہا ہوں؟

تو کیا اس افطاری والے پروگرام میں بے پردہ خواتین موجود نہیں ہیں؟ کیا وہ تمہارے لیے نامحرم نہیں؟ اوپر سے جیسے زرق برق موتیوں اور ستاروں والے لباس پہن کر اور سولہ سنگھار کرکے بیٹھی ہیں، الامان الحفیظ!

ابے مولوی کہیں کے! کیا تمہیں یاد دلانا پڑے گا کہ حافظ حمداللہ بھی تو ماروی سرمد کے ساتھ بیٹھ کر پروگرام کرتا ہے، حالانکہ وہ نامحرم بھی ہے اور بے پردہ بھی۔ میں تو پھر بھی ہزاروں میل دور سے دیکھ رہا ہوں۔ اتنی دور سے نہ تو ان پر ہلکے پھلکے تشدد کی کوشش کرسکتا ہوں اور نہ ہی کوئی دھمکی دے سکتا ہوں۔ تم لوگوں کو بھی نا اپنے مولویوں کے کرتوت نظر نہیں آتے۔ جب بھی وعظ کرنا ہو، بیچارے عام آدمی کو کرنا جو پہلے ہی طرح طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

یار حافظ حمداللہ اگر کچھ غلط کرتا ہے تو اس کا جواب بھی اسے دینا ہوگا ناکہ تمہیں مگر اسے دیکھ کر تم تو غلط نہ کرو۔

یار چھوڑ نا مولوی! پروگرام میں نامحرم لڑکیاں ہیں، انہی کے ساتھ مولوی بیٹھ کر دین کے مسائل بیان کررہے ہیں۔ اب سبھی نے یہ کام شروع کررکھا ہے تو میں کیسے باز رہوں؟ اب تم کہو گے وہ اچھی نیت یعنی دین سکھانے کی غرض سے بیٹھا ہے تو جناب ہم کونسا ان خواتین کو کھاجانے کی نیت سے دیکھ رہے ہیں؟ ہم بھی تو دین سیکھنے کی نیت سے پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی اتنا ہنگامہ کیوں نامحرم خواتین ہی دیکھی ہیں ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اِنعام والی رات - صبور فاطمہ

ابے اب کیا دیکھ رہا ہے؟

یار پروگرام لگا ہے ڈانس انڈیا ڈانس، بڑے اچھے سٹیپ کررہی ہے چھوٹی لڑکی، وہی دیکھ رہا ہوں ذرا۔ مولوی کے بچے! منہ پہ داڑھی رکھ کے غلط مت سوچا کرو دس بارہ سال کی بچی ہے۔ ابھی تو چینل بدلتے بدلتے فلم والا بھی آئے گا تو کیا اس پہ بھی فتویٰ لگے گا؟ پھر ریسلنگ والا چینل آئے گا اور ہوسکتا ہے وہاں لڑکیوں کی ریسلنگ چل رہی ہو۔ اب یہ قدرت کے کام ہیں اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔ ویسے بھی اصل میں تمہیں ٹی وی پر ہی اعتراض ہے جو میں دیکھ رہا ہوں اس پر نہیں۔ اگر ابھی میں مدنی چینل دیکھنا شروع کردوں تو گز گز بھرکے بدعت و شرک کے فتوے نکال کر لے آؤ گے، ھادی ٹی وی دیکھوں گا تو شیعہ اور رافضی کے القابات سے نوازو گے۔ یہی کام تم پیغام ٹی وی، پیس ٹی وی، کیو ٹی وی اور باقی جتنے اسلامی چینل آج تک معرض وجود میں آئے ہیں ان کے ساتھ بھی کرتے ہو۔ کسی کو دیکھ کر مجھے وہابی کا لقب ملے گا۔ کسی کو دیکھ کر طوطے کا تو کسی کو دیکھ کر گستاخ رسول کا اور کسی کو دیکھ کر گستاخ صحابہ کا۔ ایسے القابات تو تم لوگ خود ہی ہمیں عطا کرتے ہو۔ ایسے میں کوئی اسلامی چینل دیکھ کر میں نے نہ صرف اپنا روزہ خراب کرنا ہے بلکہ اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔ اچھے بھلے مسلمان سے میں کافر، زندیق، رافضی، وہابی، بدعتی و مشرک بن جاؤں گا۔ تو بہتر نہیں کہ غیراسلامی چینل دیکھ کر میں آپ کی جانب سے روزہ مکروہ کرنے کا خطاب ہی پاؤں؟ کافر ہونے سے تو بچ ہی جاؤں گا نا؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب تم لوگوں میں اتنی برادشت نہیں کہ اپنے اسلامی چینل بھی نہیں دیکھنے دیتے تو سچ میں یہ غیر اسلامی چینل بھلا کیسے دیکھنے دو گے؟ اب تو صرف پوگو چینل ہی باقی بچتا ہے وہ لگا کر بیٹھ جاؤں؟


تھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی بجی ۔

اوہو! چھنو کی کال آگئی۔ چل بے مولوی تو ٹی وی دیکھ میں ذرا فون سن لوں۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان، روزہ اور ہم - نورین تبسم

ہیلو! میری جان کیسی ہو؟ آج تو تمہیں بہت مس کیا میں نے۔ جب روزے میں پیاس لگتی ہے تو دل کرتا ہے کہ تمہاری جھیل جیسی آنکھوں میں ڈبکیاں لگاؤں تاکہ دل تک ٹھنڈک پہنچے۔

...

...

...

اچھا میری جان، اللہ حافظ!


تھوڑی دیر بعد پھر ...

ہیلو، کون؟

اچھا اچھا سیٹھ صاحب، کیسے مزاج ہیں؟

نہیں سیٹھ صاحب! روزے سے ہوں، جھوٹ نہیں بولوں گا اس وقت ہسپتال میں ہوں۔ بچی کی طبیعت بہت خراب تھی۔ حالات بہت خراب چل رہے ہیں۔ آج میں آپ کی طرف آنے والا تھا مگر یہ واقعہ ہوگیا۔ دو دن صبر کرلیں، بڑی مہربانی ہوگی۔

...

...

اللہ حافظ !


یار آنکھوں کی تم حفاظت نہیں کرتے، کان تمہارے محفوظ نہیں، زبان سے تم جھوٹ بولتے ہو اور ابھی کوئی کمزور مل جائے تو ہاتھ پاؤں بھی اس پر چلا لوگے، پھر روزہ کس بات کا ہے؟

ابے عقل کے اندھے! تھوڑے تھوڑے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک چھوٹا ساجھوٹ، تھوڑا سا نامحرم کو دیکھ لیا، چھنو کی آواز سن لی، یہ تو معمولی باتیں ہیں کوئی چوری یا ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔


تھوڑی دیر بعد مولوی ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے اندر داخل ہوا۔ وہ بہت حیران ہوا اور بولا "ابے مولوی! کیا تیرا روزہ وزہ نہیں ہے؟ "

یار! ایک گلاس پانی پینا معمولی بات ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اتنی گرمی میں دو گھونٹ پینے سے بچنا مشکل کام ہے۔ دو گھونٹ پانی ہی تو پی رہا ہوں کون سا وہسکی کا پورا جگ چڑھا رہا ہوں؟ یا کون سا بوفے لنچ کرنے چلا ہوں؟ ویسے بھی ہنگامہ ہے کیوں برپا، تھوڑی سی جو پی لی ہے، ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے۔

یہ سنتے ہی اس کا سر شرم سے جھک گیا۔ جب ایک گھونٹ پانی پینے سے روزہ روزہ نہیں رہتا، اس کی گردن ہی ٹوٹ جاتی ہے تو ایک جھوٹ بولنے سے، دھوکہ دینے سے، فراڈ کرنے سے، وعدہ خلافی کرنے سے، بدزبانی کرنے سے، نامحرموں سے باتیں کرنے سے اور دوسرے انسانوں کو بلاوجہ تکلیف پہنچانے سے تو اس کی ساری ہڈیاں ہی ٹوٹ جاتی ہوں گی۔ اس سے تو کہیں اچھا تو بچپن والا چڑی روزہ تھا۔