زوال پذیر معاشرہ - محمد جمیل اختر

صاحبو! جب قوموں پر زوال آتا ہے تو مکمل زوال آتا ہے، یہاں تک کہ تعلیم بلکہ کھیل کا میدان بھی اس سے باقی نہیں بچتا۔ جن کھیلوں میں کبھی پاکستان کی بلاشرکت غیرے حکمرانی ہوتی تھی، آج ان کھیلوں میں ہم آخری نمبروں پر ہیں۔ اسکواش کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں، اسنوکر کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے اب قومی کھیل ہاکی کے میدان سے خبر آئی ہے کہ آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی ہے اور درجہ بندی میں تیرہویں نمبر پر چلا گیا ہے۔

وہ کھیل، جس میں پاکستان نے اولمپکس میں سونے کے تمغے جیتے، ایک مرتبہ نہیں، بارہا جیتے، ورلڈ چیمپیئن بنا، ایشین چیمپیئن بنا بلکہ یہ تمام اعزازات بیک وقت حاصل کرکے "گرینڈ سلام" بھی حاصل کیا۔ اب عالم یہ ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلے گا۔ 70ء اور 80ء کی دہائی میں کون یہ سوچ سکتا تھا کہ عالمی نمبر ایک پاکستان جیسی ٹیم کو کبھی ورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی کرنا ہوگا؟ زوال اور ایسا زوال؟ کون سوچ سکتا تھاکہ آئرلینڈ جیسی ٹیم بھی پاکستان کو شکست دے جائے گی؟

کرکٹ کے بارے میں تو بات کرنا وقت کا ضیاع ہے کیونکہ اس میں اتنا پیسہ شامل ہوگیا ہے کہ یہ کرپشن سے پاک نہیں رہ سکتی ہے۔ ٹیم سلیکشن تک میں گھپلے ہو رہے ہیں۔ جو 100 میں بھی منتخب ہونے کا اہل نہ ہو وہ 11 رکنی ٹیم کا حصہ بن جاتا ہے۔

دنیائے تعلیم میں تو ہمارا کوئی حال ہی نہیں۔ دنیا کی 500 بہترین جامعات میں ہماری ایک بھی جامعہ نہیں اور ہونی بھی نہیں چاہیے۔ جہاں چار طرح کا نظام تعلیم رائج ہو، جہاں امیر کے لیے الگ اور غریب کے لیے جداگانہ نظام تعلیم ہوں، وہاں کی درس گاہیں روبوٹس تو پیدا کر سکتی ہیں لیکن اچھے طالب علم نہیں۔

جس دور میں رہنماؤں کی بہتات ہو تو سمجھ لیں کہ دراصل وہاں لیڈرشپ کا فقدان ہیں اور جو رہنما بنے پھرتے ہیں درحقیقت اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔

اس سے بڑھ کر دکھ کی کیا بات ہوگی کہ کوئی قوم زوال کا شکار ہو اور اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ زوال پذیر ہے؟ ان کے رہنما یہی بتاتے ہیں کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور لوگ آنکھیں بند کرکےیقین کر لیتے ہیں۔ ایک عربی کہاوت ہے کہ جب کوّا کسی قوم کا رهنماهو تو وه عنقریب اسے ایسی سرزمین پر جا اتارے گا جہاں مردار پڑے ہوں گے۔ دعاکریں وقت بدلے اور حالات میں کچھ بہتری آئے۔

ٹیگز