کم عقل عورت - شمسہ ارشد

"کم عقل عورت بس کر ، تیرے دماغ میں کوئی بات آسانی سے آتی نہیں کیا ؟"
اس نے ایک زور دار تھپر صالحہ کے گال پر رسید کیا اور اسے دھکا دیتا ہوا باہر نکل گیا ۔
وہ روز ہی اپنے گھر میں یہ تماشا دیکھتا تھا بلکہ اب تو وہ عادی ہوگیا تھا ۔ روز اس کا باپ اس کی ماں کی بے عزتی کرتا معمولی سی بات پر اسے ٹھوکروں پر رکھ لیتا ۔ "کم عقل عورت" تو جیسے اسکے باپ کا تکیہ کلام بن گیا تھا ۔
وہ پانی کا گلاس لے کر ماں کے پاس جاتا ۔ وہ گھونٹ پانی پیتی رہتی اور بڑبڑاتی رہتی ، "کم عقل میں نہیں تیرا باپ ہے، جو شخص اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے وہ خود سب سے بڑا کم عقل ہے ۔ اس شخص نے اتنا پڑھ لکھ کر بس یہ سیکھا ہے کہ عورت پیر کی جوتی ہے ۔"
اور پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگالیتی اور آہستہ آہستہ اسے سمجھاتی، "دیکھ زاہد تو ایسا نہ سوچنا کبھی۔ عورت تو دل پر راج کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس کو اللہ نے بنایا ہی اس لیے ہے کہ وہ مرد کے دل پر حکومت کرے، اس لیے نہیں مرد جب چاہے اسے اپنے پاؤں کی ٹھوکروں میں رکھ لے۔ تو ایسا نہ کرنا کبھی ، تو میرا بڑا سمجھدار بیٹا ہے کبھی اپنے باپ کے نقش قدم پر نہ چلنا ۔"
وہ اکثر سوچتا کہ اس کی جاہل ماں کتنی اچھی باتیں کرتی ہے ، کتنی اچھی طرح سمجھاتی ہے ۔ وہ اس سے گھنٹوں باتیں کرتی ہے اس کے ساتھ کھیلتی ہے۔
اس کا باپ 14 جماعت پاس تھا۔ نیلی آنکھوں والا ایک حسین و جمیل اور مغرور ترین آدمی ۔ باہر اپنے دوستوں یاروں میں کتنا مقبول اور ہر دل عزیز تھا ۔ محلے کے تمام ان پڑھ اور إحساس کمتری میں مبتلا لوگ کیسے اس کے باپ کی عزت کرتے ۔ انہیں "شاہد صاحب، شاہد صاحب" کہہ کر مخاطب کرتے ۔ .
وہ روو اس کی ماں کے ہاتھ سے جما جما کر استری کیے ہوئے اور کلف زدہ کپڑے پہن کر اور چمکدار بوٹ پہن کر دفتر جاتا ۔ ماتھے پر تو ہمہ وقت شکنیں ہوتیں، پر مجال ہے جو کپڑوں پر ایک معمولی سی بھی شکن برداشت کرلے اس کا باپ۔ ساری تنخواہ اپنے یاروں، دوستوں اور جھوٹی شان پر خرچ کرنے والا، گھر کے خرچے کے لیے اس کی ماں کو بس اتنی رقم دیتا کہ وہ اس سے فقط دو وقت کی دال سبزی پکا کر اپنے تین بچوں کو کھلادے۔ مہینے کے آخر میں بس فاقے ہی مقدر ہوتے تھے۔ وہ بھی ایسے فاقے جو شاید انسان کو جانور تک بننے پر مجبور کردیں ۔ ان حالات میں بھی اس نے اکثر اپنے باپ کو یاروں دوستوں کے درمیان معزز بنے ملائی والی چائے اور بسکٹ کھاتے دیکھا۔
اس کا کتنا دل چاہتا تھا کہ جیسے ہی اس کا باپ دفتر سے گھر آئے تو وہ سب بہن بھائی دوڑ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ جائیں۔ ان کی گود میں چڑھیں ، کھیلیں اور فرمائشیں کریں۔ لیکن ابا بهی کبھی کبھار پڑھائی کے متعلق بس دور دور سے ہی سوالات کرلیتے۔
اس کا دل ہی نہیں لگتا تھا، نہ پڑھائی میں، نہ کسی اور کام میں ۔ وہ ریاضی کے مضمون میں بے حد تیز تھا۔ یہ خدادا صلاحیت شاید اسے اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی لیکن آٹھویں کلاس کے بعد نہ جانے کیا ہوا، اس کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ۔ اس کی دونوں بہنیں تو پھر بھی باقاعدہ گورنمنٹ اسکول جاتیں لیکن وہ اکثر غیر حاضر رہتا ۔ وہ ماں کے ساتھ رہنے لگا۔ ان کو آٹا گوندھ کر دیتا، گھر کی جھاڑو لگا تا ، برتن دھو دیتا ۔ ماں اسے ننھی بچیوں کی فراکیں سی کر دیتی تو وہ انہیں جمعہ بازار میں جاکر بیچ آتا ۔ کبھی کسی مٹھائی کی دکان سے ڈھیر سارے گتے کے ڈبے بنا نے کا آرڈر لے آتا اور پھر وہ دونوں ماں بیٹے جلدی جلدی مٹھائی کے ڈبے بناکر چپکے سے دے آتے کہ اگر ابا کو پتا چل گیا تو وہ مار مار کر بھرکس نکال دیں گے۔
اور پھر ایک دن انہیں پتا چل ہی گیا ۔ وہ غصے سے تن فن کرتے گھر میں داخل ہوئے اور آؤ دیکھا، نہ تاؤ، ماں کے بال پکڑ کر صحن میں گھسیٹتے ہوئے لے گئے اور منہ پر تمانچوں کی بارش کردی۔ "ذلیل عورت! میری عزت دو کوڑی کی کردی تو نے ، کم عقل عورت! میرے بیٹے کو اسکول سے ہٹا کر کام پر لگادیا؟ وہ بھی مٹھائی کے ڈبے بنانے اور جمعہ بازار میں کپڑے بیچنے جیسے گھٹیا کام پر ؟"
"تو کیا کرتی میں؟ جب گھر میں کھانے کو نہیں ہوتا ۔ تمہیں پروا ہے اسکول جاتے ہیں بچے؟ تو کاپیاں اور پینسل نہ ہونے پر روز پٹتے ہیں وہاں ؟ یونیفارم دھونے کے لیے صابن نہیں ہوتا۔ میلے یونیفارم پہن کر جانے پر روز سزا میں باہر کھڑا کیا جاتا ہے بچے مذاق اڑاتے ہیں۔ لڑکیاں تو پھر بهی چلی جاتی ہیں۔ پر یہ نہیں سہہ سکتا روز روز کی مار ۔ بیٹا ہے میرا، اگر اس کو کچھ ہو گیا تو میں مر جاؤں گی۔ تمہیں یہ تک نہیں بتایا کہ اس کو ماسٹر صاحب نے اتنی زور سے مارا تھا کہ اسکی نکسیر پھوٹ گئی تھی۔ خونم خون اس کو گھر بھیجا تھا۔ میں اس پر اب کوئی زور نہیں دوں گی، اسکول جانا چاہے جائے، نہ جانا چاہیے نہ جائے ۔ ویسے بهی پڑھ لکھ کر اگر اسی طرح جانور بننا ہے تو مجھے اسے ان پڑھ رکھنے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی ۔ کم سے کم انسان تو بنا رہے گا ۔"
آج شاید اماں کی بھی برداشت ختم ہو گئی تھی، وہ کفن پهاڑ کر چلائی تھیں۔
ابا نے پہلے تو حیرت سے انہیں دیکھا اور پھر اماں پر ٹوٹ پڑے۔ لاتوں، گھونسوں اور تھپڑوں کی بارش سی کردی۔ اماں زور زور سے روتی رہیں اور پٹتی رہیں۔ ابا دل بھر کر مغلظات بکتے رہے اور جب اپنی مردانگی کا خوب مظاہرہ کر چکے تو دروازے کو زوردار ٹھوکر سے بند کرکے باہر اپنے معزز حلقے میں چلے گئے۔
اماں چیخ چیخ کر رو رہی تھی اور دامن پھیلا پھیلا کر اللہ سے فریاد کر رہی تھی، "اے اللہ! اس کا غرور توڑ دے ، اے اللہ! اس کو نیست و نابود کردے، اس نے میری زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔"
تینوں بچے ڈرے سہمے کونوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ وہ تیزی سے اماں کے لیے پانی لایا ۔ اس کی چھوٹی بہنیں اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ماں کے منہ سے نکلتا خون اور آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کر رہی تھیں۔
اور پھر وہ ماں کا ہمراز اور ہمنوا بن گیا ۔ وہ غور سے اپنی ماں کو دیکھتا کس قدر حسین تھی اس کی ماں۔ سب کہتے ہیں کہ وہ فلموں میں آنے والی ایک ہیروئن ہے ناں صبیحہ خانم ، بالکل ویسی ہی لگتی ہیں۔ اسے کیا پتا تھا کہ کون صبیحہ خانم ؟ لیکن اس کے باپ کے سامنے اس کی ماں کیوں اتنی کمتر لگتی تھی ۔ شاید اسے نہانے کے لیے صابن تو کیا پانی تک میسر نہیں تھا جبکہ اس کا باپ روز اس کی لائی ہوئی دو پانی کی بالٹیوں میں سے ایک سے اپنے جسم اور چہرے کو چمکا کر دفتر نکل جاتا ۔
دن بس یوں ہی رو پیٹ کر تنگدستی اور فاقوں میں گزرتے رہے۔ اتنی غربت کہ کئی کئی وقت پیٹ کو خالی رکھ کر وقت کو زبردستی گھسیٹا گیا ۔
دنیا میں غربت سے بڑھ کر شاید ہی کوئی اور جرم ہو ۔
کچھوے کی سی چال چلتا یہ وقت بالآخر ان کی زندگیوں میں بھی کچھ خوشحالی لے ہی آیا ۔ بس ایک اس شخص کی موت نے زندگی کو جیسے دوسروں پر آسان کر دیا، جو نہ خود کچھ کرتا تھا اور نہ انہیں کچھ کرنے دیتا تھا ۔
وہ شاہانہ انداز میں جینے والا شخص مرا بھی شاہانہ انداز میں ہی ۔ دل کے مرض جیسی امیروں والی بیماری نے اس کے غرور کو کچھ کم تو کیا تھا، پر صالحہ کو اب اس کی معمولی سی بھی لگاوٹ سے کوفت سی ہوتی۔ کیا فرق پڑا تھا بھلا کم عقل عورت تو وہ آج بھی تھی۔
بہرحال، زندگی کچھ آسان ہوئی اس عقل مند آدمی کی موت سے۔ تو اسے سوچنے کی، سمجھنے کی، جینے کی اور اپنی من مانی کرنے کی آزادی میسر آئی۔ ایک بیٹی کی شادی تو باپ کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی ۔ دوسری بیٹی کی شادی بھی بہرحال ہو ہی گئی ۔ معاشی حالات اب قدرے بہتر ہورہے تهے .زاہد اب ایک بڑے ہوٹل میں بطور کک کام کر رہا تھا ۔ اب گھر کی چهت بھی پکی بنوالی تھی اور گھر میں کافی تبدیلیاں آگئی تھیں ۔
اب وقت بھی تیز رفتاری سے گزرنے لگا ۔ اسے لگتا کہ یہ اس کا وہی چھوٹا سا دو کمروں کا گھر نہیں،، بلکہ ایک پوری ریاست ہے جس کی وہ ملکہ ہے اور اپنے شہزادے کے ساتھ وہ تنہا اس ریاست پر حکمرانی کر رہی ہے ۔ اب اسے اپنے شہزادے کے لیے ایک شہزادی کی تلاش تھی۔ دن رات ایک کر کے اس نے سینکڑوں میں سے ایک گوہر نایاب ڈھونڈ ہی لیا۔
نازنین واقعی بہت اچھی اور خوبصورت لڑکی تھی۔ اسے اور اس کی بیٹیوں کو بے حد پسند آئی ۔ بالآخر وہ دن بھی آہی گیا جب نازنین اس کی ریاست میں شہزادے کی ملکہ بن کر آئی ۔ زندگی کتنے خوبصورت ہوگئی تھی۔ اب اسے ایک مکمل زندگی کا احساس ہوتا ۔ سال کیسے گزرا واقعی پتا ہی نہیں چلا وہ ایک ساتھ دو جڑواں پوتوں کی دادی بن گئی ۔
نازنین زاہد کی توجہ کا بھرپور مرکز بن گئی . وہ عاشق تھا نازنین کا، آخر ایک ساتھ دو دو بیٹے دیے تھے۔ اس نے زاہد کو دل میں بس اسی کی حکمرانی تھی۔ اب تو سب کچھ بھلا بیٹھا تھا۔ اس کا کمرہ اس کی کل دنیا بن گئی تھی ۔ دونوں بچوں اور گھر کی بھرپور ذمہ داریاں غیر محسوس طور پر ماں پر ڈال کر وہ اپنی نازنین کی ناز برادریوں میں ایسا مگن رہتا کہ کسی بات کا ہوش ہی نا ہوتا۔
بقول زاہد اسکی نازنیں ایک خوبصورت ، وفا شعار اور عقل مند عورت تھی۔ وہ اپنی بیوی کو اپنے دل کی ملکہ سمجھتا تھا ۔ ماں نے ہمیشہ یہ ہی تو سمجھایا تھا کہ عورت دل پر حکمرانی کرنے کے لیے ہوتی ہے نا کہ پیر کی جوتی بنانے کے لیے۔ اس نے ماں کے پڑھائے ہوئے یہ تمام اسباق جیسے گھول کر پی لیے تھے۔ گھر کا ماحول بے حد پرسکون تھا ، نہ کوئی لڑائی نا جھگڑا، نا ہی بیوی کی بات بے بات بے عزتی ۔
"زاہد بیٹا! نازنین کو بولو اب گھر کی اور بچوں کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ آخر کچھ دنوں بعد دونوں بچے اسکول جانے لگیں گے۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں رہا کہ میں اتنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے پیچھے رات دن بھاگتی پھروں۔"
"پر اماں! تمہیں پتا ہے نا کہ اس سے یہ سب نہیں ہوتا۔ شروع سے عادت نہیں ہے اسے ان سب کاموں کی ۔"
"بیٹا! اب مجھے بھی عادت نہیں رہی ایسے کاموں کی، کم از کم ایک کی ذمہ داری تو وہ سنبھال لے ۔"
"کیا بولوں تمہیں بھی اب ، اف جانتی تو ہو وہ دوبارہ ماں بننے والی ہے۔ تم اتنی کم عقلی کی باتیں کیوں کر رہی ہو ؟"
"بیٹا! سب عورتیں بچے پالتی ہیں اور ساتھ ساتھ پیدا بھی کرتی ہیں، وہ کیا کسی دوسرے سیارے سے آتی ہیں ۔"
"پر اماں! معاف کرنا جو دادیاں پوتے پوتیاں پالتی ہیں، ان کی چاہ کرتی ہیں وہ بھی کسی دوسرے سیارے سے نہیں آتیں ۔ تم ہمیشہ ہی کم عقلی کی باتیں کرتی ہو ۔"
"زاہد! میری یہ عمر اب نماز روزے کی ہے بچوں کو پالنے پوسنے کی نہیں،" صالحہ نے ہلکا سا احتجاج کیا۔
"بھلا تمہیں کرنا ہی کیا ہوتا ہے؟ کھانا میں روز اپنے ہوٹل سے لے آتا ہوں۔ جھاڑو پوچا لگانے ماسی آتی ہے ۔ اب بس برتن دھونا اور کبھی کبھار روٹیاں پکانا رہ جاتا ہے۔ وہ جب نازو کی طبیعت ٹھیک ہوتی ہے وہ بے چاری بنا کوئی نخرہ دکھائے خود کرنے کھڑی ہوجاتی ہے ۔ تم تو بس بھول ہی گئی ہو اپنا پچھلا دور، میں بالکل نہیں بھولا اماں۔ آج ہم بہترین کھاتے ہیں۔ ہمارا رہن سہن خاندان کے کئی لوگوں سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔ کبھی اس گھر میں فاقے ہوتے تھے، روز روز ابا کی مار اور گالیاں بھی کھانی ہوتی تھیں، میں ایک بات نہیں بھولا اماں۔ اور یہ تم ہی تو تھیں جس نے بچپن سے مجھے بس یہ ہی سکھایا ہے کہ بیوی پیر کی جوتی نہیں، سر کا تاج بنا کر رکھنے کے لائق ہوتی ہے ۔ تم کیا چاہتی ہو کہ میرے گھر میں بھی اسی طرح روز گالیاں گونجیں ، روز چیخیں ہوں، روز عورت کی پٹائی ہو ؟ دو بچے سنبھالنا تمہیں بھاری پڑ گیا ہے ۔ میں تنگ آگیا ہوں، تمہارے روز روز کے ان ڈراموں سے ۔"
"زاہد! تو مجھ سے کس طرح بات کرنے لگا ہے بیٹا ؟ ماں ہوں میں تیری ۔" وہ منمنائی۔
"ہاں! اماں تم ماں ہو اسی لیے تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔ سکون سے رہو، کھاؤ،پیو، عیش کرو اور اللہ اللہ کرو ۔ پر تم لگی رہتی ہو فضول میں اپنا دماغ چلانے میں ۔ ابا صحیح کہتے تھے، تم ہو ہی کم عقل!"
اور صالحہ نم آنکھوں کے ساتھ اس ایک اور عقل مند مرد کو دیکھتی ہی رہ گئی ۔