میں یہ اذیت روز سہتا ہوں - عبد الباسط بلوچ

دوستو! جب انسان تلاش میں ہو تو سب کچھ پا لیتا ہے بس نیت اور ارادہ پاک اور خالص ہو۔ ایک واقف حالات کے پاس گیا، ساری کہانی سنائی۔ اس نے ایک بات کی کہ اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو جاؤ، یہی تمہارا بہترین جج، دوست، منصف اور وکیل ہے۔ اس سے پوچھو جو فیصلہ دے، مان لینا۔ کچھ مان کر ہی جی سکتے ہو، ہر ایک سے بغاوت تمہارے اندر کے انسان کو مار دے گی۔

میرے پاس یہی اندر ہی تو اپنا تھا۔ ایک دن پوچھ ہی لیا، کب سےخاموش ہو اور کب تک میرا تماشہ دیکھتا رہو گے؟ اپنا بھی کوئی فیصلہ دو۔ بولا ، نہ کوئی دھرم برا ہوتا ہے نہ لوگ، بس یہ انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے انداز اس کو سب کچھ بنا سکتے ہیں۔ بات بھلی محسوس ہوئی، پھر عزم کیا اور بننے لگے ملّا۔ یہاں بھی میں نے رویوں کو بدلتے اور نظریات کو پلٹتے دیکھا، کبھی شیطان کی چال کامیاب، کبھی بندوں کی تدبیر، اچھے سے اچھا اور برے سے برا بھی تھا۔

وقت توجیسے پر لگا کر اڑ رہا تھا، بہت کوشش کی لیکن ساتھ چلنے میں ناکام رہا۔ یہاں پر میں نے ایسے بھی دیکھے جو شہزادوں کی طرح وقت گزارتے تھے اور ہم جیسے ایسے بھی جو اس دال ہی کو اپنی معراج سمجھ کر خوش تھے۔ ہر جگہ پر لوگ اور حالات بدلتے رہتے ہیں۔ میں اس بات بالکل قائل نہیں کہ جس نے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح اور شلوار اوپر کر لی وہ پاک اور پوتر بن گیا۔ اچھوں کے ساتھ مفاد پرستوں کی لمبی اور بے ڈھنگی لائن ہے۔ جو صرف نیکی کا لبادہ اوڑھے اس معاشرے کے لیے سم قاتل ہیں۔ میں خیر اور شر کے قانون کو مانتا بھی تھا اور سمجھتا بھی، کیونکہ یہی کچھ باہر کی دنیا میں روز ہوتا تھا۔ وقت کیا گزرا ہم نے بھی پر نکال لیے، لیکن یہ پر چلنے والے تھے اڑانے والے نہیں۔ پتا ہی نہ چلا ہم آخری سالوں میں پہنچ گئے۔ مدارس کی سب سے بڑی تفریح یا توجلسے ہوتے ہیں یا پھر بزم ادب کے نام سے فن خطابت کے ہفتہ وار پروگرام۔ ایک حد تک تواچھے ہوتے ہیں لیکن ان پر ہی تکیہ کرنا عقل مندی نہیں، اور بھی منزلیں اور بھی جہاں اور بھی ضروریات۔

یہ بھی پڑھیں:   زمانے کے انداز بدلے گئے- شیخ خالد زاہد

بہرحال، ہم نے شعوری طور پر یہاں سے ایم اے کا امتحان دے دیا۔ آپ کا ذہن اسلامیات میں اٹکا ہو گا اسے اور اٹکایئے، ہم نے سیاسیات کرنا پسند کیا۔ یہاں پر میں ایک بات کروں گا کہ مدارس میں سکول پڑھایا جاتا تھا۔ وہ حکومت کی وجہ سے یالوگوں کی تنقید کی وجہ سے، لیکن اس کو دیکھا بری نظر سے جاتا تھا۔ لیکن اب وہ ماحول بھی نہیں، دور بھی نہیں، بہت کچھ اب بدل رہا ہے۔ میں اس بدلنے کا کریڈٹ، میڈیا کے ساتھ ان لوگوں کو دو ں گا جو ان کے بدلنے یا ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ اب ان کی باتیں کچھ بھلی بھی لگتی ہیں اور سود مند بھی۔

میں نے ان مدارس میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بغاوت بھی پائی، کس بات پر بغاوت، پرانے فرسودہ انداز سے، بے جا سختیوں سے اور جدید علوم حاصل نہ کرنے سے۔ اس پر کچھ لوگ پریشان ضرور تھے کہیں ایک دن ہم ان کا وجود ہی نہ ختم کر بیٹھیں، کیونکہ ریاست، میڈیا اور معاشرہ، ان کو صرف امام، خطیب، یا ٹیچر ہی نہیں کچھ اور بھی بننے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اب میٹرک پاس طلباء کو باقاعدہ ایم اے تک لے جایا جاتا ہے یہ لازمی بات ہے جو ایم اے کرے گا ہزار کوشش کے باوجود سوچ کر قدم اٹھائے گا۔ اب مجھے اس کی بنیادوں سے کچھ بدلتا نظر آ رہا ہے۔ جو یہاں سے نکلے گا وہ کچھ ہو گا تو معاشرے کے ساتھ چل سکے گا۔ میں اس بات سے اتفاق کرتاہو معاشرے کو مسجد کے امام نہیں وقت کے امام اور فائدہ بخش انسانوں کی ضرورت ہے۔

جاری ہے