مشال خان قتل کیس - حماد احمد

پچھلے دنوں عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کا قتل ہوا۔ ابتدائی خبریں جس وقت آ رہی تھیں تب زرعی یونیورسٹی میں عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں موجود اپنے تنظیم کے طلبہ سے اس معاملے پر بات کی تھی۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کے پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ نے کہا تھا کہ “صدر صاحب! بہت اچھا ہوا کہ یہ (مشال) قتل ہوا، یہ گستاخ تھا اور ہم نے خود اس کو گستاخیاں کرتے دیکھا تھا۔ وہ یعنی مشال چھپ گیا تھا، ہم اس کو ڈھونڈ رہے تھے، آخر میں پتہ چلا وہ ہاسٹل میں تھا ہم ادھر گئے، اس کو نکالا اور مارنا شروع کیا۔ سب سے پہلے گولی ہم (پی ایس ایف) نے چلائی۔ پورے بتیس گولیاں اس کے جسم میں اتاری، اس کے بعد ہم نے اس کی شلوار اتاری اور خوب بے عزت کردیا”۔ یہ وہ جملے ہیں جو مشال خان کی یونورسٹی میں موجود پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنے ایک صدر کو بذریعہ پیغام بھیجے۔

ان پیغامات کے اسکرین شاٹس کے ساتھ پی ایس ایف کے صدر نے فیس بک پر یہ پیغام لکھا: "حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے، گستاخ کی سزا سر تن سے جدا"۔ بعد ازاں ان کو غیرمعمولی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی کہ مشال پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا تو کیسے آپ ان کو گستاخ کہتے ہیں؟ جس کے جواب میں پی ایس ایف کے صدر نے وہ اسکرین شاٹس لگائے جس میں یونیورسٹی کے پشتون طلبہ نے پوری بات بتائی۔ پھر جیسے ہی سوشل میڈیا پر ان اسکرین شاٹس پر بات ہونے لگی تو پی ایس ایف کے صدر نے وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر کے اکاؤنٹ ڈی اکٹویٹ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’اے این پی کا متبادل‘‘ - رعایت اللہ فاروقی

یہ تھی ابتدائی صورتحال۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ وہ ہے کہ جب خیبر نیوز پر مشال خان کا انٹرویو منظر عام پر آیا۔ اس میں مشال نے طلبہ کے حقوق کی بات کرتے ہوئے یونیورسٹی میں احتجاج کی بات بھی کی تھی۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی عبدالولی خان یونیورسٹی میں عوامی نیشنل پارٹی کی مرضی کے بغیر پر کوئی پرندہ بھی نہیں مار سکتا۔ مشال خان واقعے کےبعد جب پولیس نے گرفتاریاں شروع کیں تو اے این پی کی ضلعی قیادت نے اس کی بھرپور مذمت کی اور اپنے لوگوں کی رہائی کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کر دیے۔ ایسے میں سینئر صحافیوں نے مشال خان کی انٹرویو کے سامنے آنے پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ان کو یونیورسٹی کی کرپٹ انتظامیہ کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں توہین رسالت کا جھوٹے الزام لگا کر قتل کروایا گیا ہے۔

اب تیرہ ممبران پر مشتمل جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشال خان نے کسی قسم کی توہین رسالت نہیں کی بلکہ ان کے قتل کی پہلے سے باقاعدہ مناسب منصوبہ بندی ہوئی تھی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشال خان کے قتل سے پہلے "پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن عبدالولی خان یونیورسٹی کے صدر صابر مایار اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین نے انتظامیہ سے مشال خان کو یونیورسٹی سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔"

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ (اے این پی) یونیورسٹی میں مشال خان کی سرگرمیوں سے خوش نہیں تھا کیونکہ وہ یونیورسٹی میں کرپٹ انتظامیہ کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتا تھا اور ان کے لیے مسائل پیدا کرتا تھا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مشال خان قتل کے معاملے پر 57 ملزمان گرفتار ہوئے ہیں جس میں بارہ افراد یونیورسٹی ملازمین ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے مشال خان کا ایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ بھی بنایا گیا تھا جس سے باقاعدہ گستاخیاں ہوتی تھیں۔ اس بارے میں مشال خان نے کہا تھا کہ ان کا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق نہیں اور کوئی ان کو میرے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’اے این پی کا متبادل‘‘ - رعایت اللہ فاروقی

ڈان نیوز کے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مشال خان کو قتل کرنے کا پورا منصوبہ عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم یعنی پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر صابر مایار (جو مردان میں اے این پی کے صدر اور ناظم حمایت مایار کے رشتہ دار ہیں) اور یونورسٹی ملازمین کے صدر اجمل نے بنایا تھا اور اس کے لیے توہین رسالت کے معاملے کو استعمال کیا گیا۔