تھوڑا سا عمل اور کامل حج کا ثواب - ڈاکٹر مدثر اقبال

کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنے دن کا آغاز کامل حج و عمرہ کے ثواب سے کریں؟ اگر ہاں، تو نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا اور پھر اشراق کے نوافل ادا کرنا انتہائی فضیلت اور اجر والا عمل ہے۔ تھوڑی سی کوشش کر کے ہم اس اجر عظیم اور اول النہار کی برکتوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے صلاۃِ فجر جماعت سے پڑھی، پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا”۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب” (ترمذی)۔

اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے “صحیح ترمذی” میں حسن کہا ہے۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “اس حدیث کی ایسی اسانید ہیں جن پر اعتماد کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس لیے اس روایت کو حسن لغیرہ میں شامل کیا جائے گا، یہ نماز سورج کے ایک نیزے کے برابر بلند ہونے کے بعد پڑھی جائے گی، یعنی سورج طلوع ہونے سے تقریباً 15 یا 20 منٹ کے بعد” فتاوى الشیخ ابن باز (25/171)

یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول میں بھی شامل تھا۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر پڑھتے تو اپنے مصلے پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔ (ترمذی)

نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک کا دورانیہ 1 گھنٹہ سے بھی کم ہوتا ہے۔ اس وقت میں نماز کے بعد کے اذکار، صبح کے ازکار اور قرآن مجید کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔ باری تعالٰی سے اپنے لیے، امت کے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے دعائیں مانگی جا سکتی ہیں۔ اور پھر سورج نکلنے کے تقریباً 15 منٹ بعد اشراق کے 4 نوافل ادا کر کے ہم اپنے دن کا بہترین اور بابرکت آغاز کر سکتے ہیں، اور مفہوم حدیث کی رو سے کامل حج و عمرہ کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے! تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعت (نماز اشراق) پڑھ، میں اِن کے بدلے میں دن بھر کے لیے تجھے کافی ہو جاؤں گا۔” (الترغیب والترهیب: 1/319، صحیح ابن حبان: 2533، سنن ابی داؤد: 1289)

سبحان اللہ! اگر مسلمان کو اپنے دن کی یہ گارنٹی مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے۔ ایک اور حدیث پاک اس عمل کی فضیلت واضح کرتی ہے۔ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (محاذ جنگ) پر ایک لشکر روانہ فرمایا۔ انہیں خوب غنیمتیں حاصل ہوئیں، اور وہ (دشمن کو شکست) دے کر بہت جلدی واپس پلٹ آئے۔ ایک آدمی نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اس لشکر سے بڑھ کر غنیمتیں حاصل کر کے جلدی لوٹنے والا لشکر آج تک نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس کی خبر نہ دوں جو اس لشکر سے بھی جلدی غنیمتیں حاصل کرکے لوٹنے والا ہے؟ (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص خوب اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف روانہ ہوا، اور فجر کی نماز پڑھ کر (مسجد ہی میں) اشراق کی نماز کے لیے بیٹھا رہے، ایسا شخص اس (لشکر) سے بھی جلدی بہت سی غنیمتیں (یعنی بڑا اجر و ثواب) لے کر لوٹنے والا ہے۔“ ( الترغیب والترهیب: 1/318، السلسلة الصحیحة: 6/71، صحیح ابن حبان: 2535)

سوچیں کہ بروز قیامت جب ہر شخص کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نیک اعمال ہوں گے تب یہ عمل کتنے بڑے اجر کے ساتھ ہمارے نامہ اعمال میں موجود ہو گا۔ ان شاءاللہ۔ آئیں کوشش کریں کہ اس کو اپنے روزانہ کے معمولات میں شامل کر لیں۔ ان شاءاللہ آپ اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی دیکھیں گے۔

مفہوم حدیث ہے کہ 'میری امت کی برکت سویرے میں ہے'۔ تو برکتیں کہاں سے آئیں گی اگر ہم سویرے کو نیند میں ضائع کر دیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے لیے کافی ہو جائیں، ہمارے کیے گئے ٹوٹے پھوٹے تھوڑے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com