تشدد اور نظریہ - محمد دین جوہر

آج کل ہمارے معاشرے میں تشدد کے مظاہر اور روایتی مذہب کے مابین نسبتیں قائم کرنے میں نہایت عجلت برتی جاتی ہے۔ اگر کسی معمولی واقعے یا سنگین حادثے میں بظاہر کوئی مذہبی پہلو موجود ہو یا کھینچ تان کے سامنے لایا جا سکتا ہو تو فوراً ایک اسکینڈل بن جاتا ہے، اور مذہب و اہل مذہب کی شامت آ جاتی ہے، اور ان کے بچے کھچے اداروں اور مذہبی مواقف کے خلاف مہم میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ تشدد کے واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں تشدد کا مبحث عموماً مذہب کی تحقیر و تذلیل کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ تشدد کے ایسے واقعات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جن کا تجزیہ مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرتا۔ تشدد کے عمومی مظاہر کے بارے میں یہ مبحث خاموش رہتا ہے، اور مذہب کا ذکر آتے ہی ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھتا ہے۔ نہایت شرمناک اور انسانیت سوز واقعات کو براہ راست روایتی مذہب سے منسوب کرنا اس مبحث میں ایک معمول کی بات ہے۔ دنیا کا کوئی معاشرہ تشدد سے خالی نہیں، اور سیاسی، فکری اور نظریاتی مباحث میں رہتے ہوئے تشدد کے منابع اور اس کی روک تھام کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے، لیکن ہمارے ہاں صورت حال کافی الل ٹپ ہے۔

20 مئی کو دو پرتشدد واقعات ہوئے۔ ایک واقعہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ہوا، جس میں دو گروہوں میں لڑائی کے نتیجے میں 35 طلبا زخمی ہوئے، اور اس واقعے میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ دوسرا واقعہ لاہور ہائیکورٹ میں ہوا جہاں وکلاء کے دو گروہوں میں تصادم ہوا اور جو پولیس کی مداخلت سے فرو ہوا۔ یہ دونوں واقعات ایسی جگہوں پر ہوئے جو قومی قیادت کے ادارے ہیں۔ ایک ادارہ مبینہ طور پر علم اور علمی پیداوار میں قیادت کی نشست ہے اور دوسرا ادارہ عدل کی سربلندی میں قیادت کا محل ہے۔ ان دو جگہوں میں تشدد کے واقعات کا تصور نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایسی جگہوں پر بھی آئے روز پُرتشدد واقعات ہوتے رہتے ہیں جو ہماری قومی زندگی میں کسی گہری خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں، اور ان کے تجزیے سے مذہب کو رگیدنے کی گنجائش چونکہ کم تھی، اور بات اصل اسباب تک جا سکتی تھی، اس لیے ”فکری تجزیے“ بھی سامنے نہیں آئے۔

گزارش ہے کہ تشدد انسانی فعل کی ایک قسم ہے، اور اس پر عموماً دو حکم وارد ہیں: اخلاقی اور قانونی۔ لیکن ہر انسانی فعل کی طرح تشدد کے اسباب بھی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ جو تشدد عموماً زیر بحث ہوتا ہے، اس کی نوعیت قانونی اور سیاسی ہے، یعنی اس کا تعلق معاشرے کے نظم اجتماعی سے ہے۔ لہٰذا، اخلاقی تناظر میں تشدد کا پہلو ہماری گفتگو سے فی الوقت خارج ہے۔ ضمناً صرف اتنا عرض ہے کہ جدید معاشروں میں تشدد اور اخلاق کی تمام نسبتیں ختم ہو گئی ہیں، اور اب تشدد صرف قانونی اور سیاسی معنوں میں باقی رہ گیا ہے۔ باپ کا تھپڑ اب کوئی اخلاقی عمل نہیں رہا، اور جدید معاشروں میں اس کی حیثیت بھی اب قانونی ہے۔ بہرحال، سیاسی معنوں میں تشدد عین قانونی بھی ہے اور اس کی حیثیت ایک جرم کی بھی ہے۔ تشدد پر سیاسی طاقت کا مکمل اجارہ اسے قانونی بناتا ہے، اور سیاسی استناد کے بغیر تشدد کا استعمال جرم قرار پاتا ہے۔ تشدد پر مکمل سیاسی اور قانونی اجارے کے بغیر انسانی معاشرے کا تصور محال ہے۔

جدید تشدد (violence) کی سیاسی قسم تاریخ کے ایک خاص اور معلوم لمحے میں انسانی معاشرے میں داخل ہوئی ہے۔ یہ خاص لمحہ انقلابِ فرانس ہے، اور اس میں تشدد کا نام بھی ترقی پا کر Terror ہو جاتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد سے تشدد اور دہشت جدید سیاسی علوم کا مستقل موضوع ہے اور جدید سیاسی عمل کا ایک مستقل آلہ بھی ہے اور اظہار بھی۔ انقلابی تشدد ایک آئیڈیل کے طور پر لائحہ عمل ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست رومانوی لبھاؤ بھی رکھتا ہے۔ تشدد پر جدید ریاست کی مکمل ترین اجارہ داری کا موقف سیاسی علوم کے مبادی میں سے ہے۔ یہ بات اب عرف کے درجے میں داخل ہے کہ تشدد اور دہشت جدیدیت کے قائم کردہ سیاسی اور معاشی نظم اجتماعی کا جزو اعظم ہے، اور انسانی معاشروں اور تاریخ کے ساتھ ساتھ اب فطرت بھی اس کا شکار ہو کر قریب المرگ ہے۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں استعمار کی سیاسی اور معاشی پالیسی کا حصہ بن کر یہ نئی قسم کا تشدد بھی عالمگیر ہو جاتا ہے، اور استعماری صدیوں میں اس تشدد اور دہشت سے محکوم قوموں کا صرف بدن ہی چھلنی نہیں ہوا، بلکہ ان کی روح بھی پوری کی پوری گھائل ہوئی ہے۔

اپنے تناظر میں رہتے ہوئے عرض ہے کہ استعماری طاقت اور سرمایہ داری نظام نے برصغیر میں صرف معاش کے روایتی رشتوں ہی کو تبدیل کر کے جدید منہج پر استوار نہیں کیا، بلکہ طاقت کے سیاسی رشتوں کو بھی مکمل طور پر دل دیا۔ استعماری جدیدیت کا قائم کردہ سیاسی اور معاشی نظام برصغیر میں جن نئے اداروں کی صورت میں ظاہر ہوا، ان کی تشکیلی فکر مکمل طور پر سیکولر اور ان کی فعلی ساخت مکمل طور پر جدید ہے۔ ”دفتر“ سیاسی طاقت اور سرمائے اور ان کے قائم کردہ نئے زمان و مکاں کا استعارہ ہے۔ جدید اداراے سیاسی طاقت اور سرمائے کی حرکیات کے مظاہر ہیں، جن کا واحد مقصد اور جواز طاقت کی deployment ہے۔ اگر ہائیکورٹ اور یونیورسٹی میں تشدد سامنے آتا ہے تو اس کا براہ راست تعلق ان اداروں کی مجموعی حرکیات سے ہے نہ کہ مذہب سے، کیونکہ ان اداروں کی تشکیلی فکر اور فعلی ساخت سے مذہب بنیاد ہی سے خارج ہے۔ ہاں اس بات کا امکان ضرور ہے کہ ان اداروں کے کسی بھولے بسرے پچھواڑے میں کوئی چیتھڑا نما مصلیٰ یا کسی اندھیری کھوہ میں کوئی ٹوٹا ہوا لوٹا پڑا رہ گیا ہو، اور اسی کو کافی شہادت سمجھ کر ان اداروں کے بطون سے نکلنے والے تشدد کو مذہب پر تھوپنے کا رواج پڑ گیا ہو۔

سیاسی اور معاشی نظام کے یہ ادارے کسی برتر تصور کو اپنی ہیئت و ہستی اور فعل کے جواز کے لیے سامنے لاتے ہیں، مثلاً استعمار سے متوارث ہمارے ادارے عدل، علم، ترقی، امن عامہ وغیرہ کے تصورات کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن جدید اداروں کی حرکیات سے اس اندیشے کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ وقتی ضرورت کے تحت وہ کچھ غیرمتعلق تصورات کو اپنے ناپسندیدہ یا مجرمانہ افعال کی آڑ کے طور پر استعمال کریں۔ مثلاً نظام عدل یا یونیورسٹی میں تشدد کے منابع کو تلاش کرنے کے لیے خود ان اداروں کی ساخت اور فعلیات کو زیر بحث لانا ضروری ہے نہ کہ تفسیر کی کتاب پڑھنا تاکہ اس تشدد کا الزام مذہب پر تھوپا جا سکے۔ ہمارے ہاں تو ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والا معاملہ چل نکلا ہے، اور کوئی کتاب پڑھنا بھی اب ضروری نہیں۔ ادھر کوئی تشدد کا واقعہ ہوا اور ادھر کان پر رکھ کر قلم نکلے کہ روایتی مذہب کو مورد الزام ٹھہرا کر دانشوری کا حق ادا کریں۔ ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ مذہب اور تشدد کی نسبتوں پر گفتگو ہونی چاہیے، لیکن متجدد اور لبرل پراپیگنڈے کا جبر سازگار فضا میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے نظر (theory) اور عمل (praxis) کی فکری تنقیح اس حد تک مکمل کر لی ہے کہ ان کی باہمی نسبتوں پر بھی گفتگو ہو سکے؟ ایسے کسی مبحث کی عدم موجودگی میں تشدد کو مذہب سے منسوب کرنا محض پراپگنڈا ہے۔ طاقتِ محض کی صوابدیدی ترجیحات پر افکار اور افعال میں جعلی نسبتیں پیدا کرنا ہی پراپگنڈا ہے، اور جدید عہد میں روایتی مذہب اسی کا شکار چلا آتا ہے۔ تشدد اور دہشت گردی میں ایک بنیادی فرق کو پیش نظر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ تشدد جیسا کہ یونیورسٹی اور ہائیکورٹ میں سامنے آیا، anonymous یعنی گمنام نہیں ہے، اور سسٹم ہی کی حرکیات کا مظہر ہے۔ لیکن تشدد پر سسٹم کا اجارہ چونکہ لامحدود اور اس کی لاجسٹکس خفیہ اور پُراسرار ہے، اس لیے تشدد نامعلوم کے دائرے میں داخل ہو کر دہشت گردی بن جاتا ہے۔ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کو سسٹم کے تناظر میں زیر بحث لائے بغیر انہیں مذہب سے منسوب کرنا کسی ایجنڈے کا مظہر تو ہے، کوئی علمی کارگزاری نہیں ہے۔

ہم عصر دنیا میں تشدد اور دہشت ایک واقعاتی صورتحال ہے، جس نے کمزور معاشروں کو کھدیڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں لاطینی امریکہ، افریقہ اور مسلم دنیا کے بہت سے ممالک شامل ہیں۔ تشدد کمزور اور غیر مستحکم معاشروں کی واقعاتی صورت حال ہے، جس کا براہ راست تعلق دنیا میں طاقت اور سرمائے کے نظام اور اس کے مراکز سے ہے، جو اس تشدد اور دہشت سے بہت حد تک محفوظ ہیں۔ تشدد اور دہشت کے منابع کے تعین کے لیے عالمی نظام میں کمزور اور طاقتور کے مابین جبر اور استحصال پر قائم تعلق اور اس تعلق کے مکمل عدم توازن کو سمجھنا ضروری ہے۔ عالمی سیاسی طاقت اور سرمائے کے مکمل غلبے میں دہشت گردی کا ڈسکورس (discourse) کمزور معاشروں میں مزاحمت کے امکان کو بھی ختم کر دینے کا اصل ایجنڈا ہے۔ کیا وہ زمانہ بہت دور کی بات ہے جب ویتنام کی جنگ کے دروان میں مشرق بعید دہشت گردی کے ایسے ہی واقعات کا بڑا مرکز تھا جو اب افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں روز کا معمول ہیں؟ جونہی سرمائے اور طاقت کا خونیں سرکس وہاں سے پسپا ہوا، دہشت گردی کے واقعات بھی ختم ہو گئے۔ غاصب سیاسی قوت کے ایجنڈے کو نظرانداز کر کے دہشت گردی کو مقبوضہ معاشروں کے مذہب یا ان کے کسی تصور سے وابستہ کرنا صریح بد دیانتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */