امن کا سورج - محمد جمیل اختر

میری اور آپ کی ہی نہیں‌ بلکہ شاید ہم سب کی یہ خواہش ہو کہ ایک روز زمین پر مکمل امن کا دن دیکھیں۔ کوئی ایسا دن، کوئی ایسا لمحہ کہ جس میں کوئی کسی کے ساتھ دست و گریباں نہ ہو، یہ دن رات آگ اگلتی بندوقیں اور توپیں رحم کا سانس لینے کے لیے زرا دیر خاموش ہوں اور ایک دن کے لیے ہی سہی بدلے کے بجائے رحم کا جذبہ لوگوں میں جاگ اٹھے۔ لوگ پہلے سے لڑائی جھگڑوں میں ہونے والے زخمیوں کو اٹھائیں، ان کی مرہم پٹی کریں اور انہیں گلے سے لگائیں۔ کم ازکم ایک دن کے لیے وہ ایک دوسر ے کو معاف کردیں۔ پوری انسانی تاریخ، جو ناجانے کتنے ہزار سال پر محیط ہے، میں اب تک کتنی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اس تاریخ میں کہتے ہیں کہ صرف 234 سال ایسے نظر آتے ہیں کہ جن میں کسی جنگ ia قتل و غارت کی کوئی خبر نہیں ملتی۔ ورنہ ہر سال اور ہر دن ایسا ہے کہ انسان انسان کے مقابل ہے۔ یہ بات قابلِ افسوس ہے، لیکن حقیقت بھی ہے۔

اس دور میں تمام انسان اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے کسی بات پر متفق نہیں ہونا۔ پوری دنیا کے حالات بتارہے ہیں کہ انسان کو بقا کا خطرہ لاحق ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہہ انسان کو انسان ہی سے خطرہ ہے۔ اخبار میں خبریں پڑھ لیجیے یا ٹی وی پر خبریں دیکھ لیجیے، ہر طرف مار دھاڑ اور تشدد ہی تشدد کی باتیں ہیں۔ گاؤں گاؤں، شہروں شہروں اور ملکوں ملکوں حالات چاہے مختلف ہیں لیکن واقعات ایک سے ہیں۔ کہیں لوگ گتھم گتھا ہیں، کہیں بندوقوں اور ٹینکوں کی زد میں ہیں اور کہیں جہازوں سے بم گرا کر انسانوں کو تلف کیا جا رہا ہے۔ یہ مرنے والے کوئی کیڑے مکوڑے نہیں، کوئی بے جان نہیں، بلکہ انسان ہی ہیں۔ جیتے جاگتے ہنستے بولتے انسان۔ تباہی صرف بڑے شہروں میں نہیں کہ بم دھماکے ہوگئے، جنگیں چھڑ گئیں، انفرادی سطح سے لے کے اجتماعی سطح کی دشمنیاں ہیں۔ گاؤں دیہات کی خبریں ہی سن لیں، فلاں نے فلاں پر تیزاب پھینک دیا، کسی غریب کے گھر کو کسی با اثر جاگیردار نے آگ لگادی، ڈاکوؤں نے کسی کی عمر بھر کے جمع پونجی لوٹ کر اُسے قتل کردیا وغیرہ وغیرہ۔ ہر روز اخبار ایسے ہی واقعات سے بھرے پڑے ہیں تو امن کا سورج کب طلوع ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یومِ امن اور کشمیر و فلسطین - ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

انسان، کائنات کا سب سے بڑا راز، تمام مخلوقات سے اشرف ہے لیکن انسان کی اپنی ہی نظر میں دوسرے انسان کی کوئی وقعت ہی نہیں۔ ماضی گواہ ہے اور حال چیخ رہا ہے کہ مستقبل میں بھی انسان کسی بات پر متفق نہ ہوں گے۔ ایسے میں امن ہماری خواہش تو ہو سکتی ہے، ہمارا خواب تو ہوسکتا ہے لیکن تعبیرشاید کہ کوئی دیکھے۔

ملکی سطح کے فیصلے تو وہ لوگ کریں کہ جن کو ملکوں کی بھاگ ڈور دی گئی ہے۔ ہم انفرادی طوری پر تو ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیں۔ ایک پڑوسی بھی اگر اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کرنے لگے تو کم از کم دو گھروں میں تو سکون آ سکتا ہے۔ انفرادی تبدیلیاں ہی اجتماعی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ بڑے خواب اور ان کی تعبیر ممکن نہیں تو آئیں ہم چھوٹے چھوٹے خواب اور چھوٹی چھوٹی تعبیریں دیکھتے ہیں۔ امن کا سورج طلوع ہونے میں دیر ہے تو ہم امن کے دیے روشن کرلیتے ہیں کہ مکمل تاریکی سے یہ زرا سی روشنی بہتر ہے۔