عروج آدم خاکی - ڈاکٹر یونس خان

آج میرے اسمارٹ فون میں اینڈروئیڈ کا ورژن اپ ڈیٹ ہونا شروع ہوا۔ میں تقریباً ایک سال سے موجودہ ورژن استعمال کر رہا تھا اور اسی کا عادی ہو چکا تھا۔ لیکن نئے ورژن نے تو پورا منظر ہی تبدیل کر کے رکھ دیا، حتی کہ اس میں پہلے سے انسٹالڈ ایپلیکیشن کے بھی انداز و اطوار بدل گئے۔ ہر چیز میں نیا سلیقہ اور نیا اسلوب جھلکنے لگا۔ سب کا کام کرنے کا انداز ہی بدل گیا۔ اس حیرت کدہ تغیر و تبدل نے میری سوچ کے پرسکون ساگر میں ہلچل سی مچا دی اور میری فکر کے بہت سے دریچے وا کر دیے۔

انسانی شخصیت بھی شاید سسٹم سوفٹ وئیر کی مانند ہے۔ جیسے جیسے اس میں مطالعے، مشاہدے، اور مہارتوں کی اپڈیٹس آنا شروع ہوتی ہیں ویسے ویسے اس کے افکار و افعال بدلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ پہلے سے موجود سنی، سمجھی، پڑھی اور یاد کی ہوئی چیزوں (گویا پرانی ایپلیکیشن) کا مفہوم اپ گریڈ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ بچپن میں یاد کی ہوئی دعائیں ہوں، چھوٹی چھوٹی نظمیں ہوں، قصے کہانیاں ہوں، اقبال کی لب پہ آتی ہو یا پھر قومی ترانہ کے مصرعے، سب ہی کچھ نئے معنی اختیار کرلیتا ہے۔ اور یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں بلکہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ بالکل ان ندیوں کی مانند جو جنت کے دامن میں ازل سے رواں دواں ہیں۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھ پر بچپن اور بے شعوری میں یاد کی گئی آیات، دعاؤں، کلمات، نظموں، اشعار اور حکایات کی اہمیت اب منکشف ہوئی ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے گھر کی ایک دیوار پر ایک فریم آویزاں تھا جس پر خوبصورت خطاطی میں ایک آیت لکھی ہوئی تھی "ان اللہ مع الصبرین"۔ میں اس فریم کو آتے جاتے دیکھتا رہتا تھا۔ یہ آیت مجھ پر عجب طرح سے اثر کرتی تھی۔ آج بھی بیماری میں، کسی تکلیف یا غم میں یہ آیت میری روح میں اجالا کر دیتی ہے۔ میری رگ جاں میں بجلیاں سی بھر دیتی ہے۔ مجھے جینے کا پیغام اور آگے بڑھنے کی امنگ دیتی ہے۔ میں کتنا ہی دکھی، مجبور یا لاچار ہوں یہ میری ہمتوں کو مہمیز کرتی ہے۔ اور میرے تمام مسائل حل ہونے کا مژدہ سناتی ہے یا ان کی ناگزیریت کے ساتھ عمر بسر کرنے کا ہنر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

آقائے دو جہاں نے قرآن کریم کی بابت یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اس (قرآن حکیم) کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور اہل علم اس سے کبھی سیر نہیں ہوں گے۔ قرآن پاک کی ہر آیت پر جتنا غور کریں ایک نئی پرت کھلتی چلی جاتی ہے اور ہمارے علم و فہم و فراست کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان آیات کے مفاہیم کے بھی نئے نئے خزانے ہاتھ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ ساری بحث ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ حصول علم کے ساتھ ساتھ تفکر، تدبر اور مسلسل غور و فکر کس قدر معنی رکھتا ہے۔ یہی وہ ندیاں ہیں جو انسان کی فکری جنت ارضی کے دامن میں رواں دواں رہتی ہیں۔ اور اسے تازگی و ٹھنڈک سے سرشار کرتی ہیں۔

اب یہاں اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی سماج میں عام افراد خصوصا نوخیز نسل کے شخصیتی محاسن کو کیونکر اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے؟ وہ کیسے ٹھہرے ہوئے تالاب کی مانند نہ بننے پائیں بلکہ علم و حکمت و دانائی کا بہتا دریا بن جائیں؟ راقم کی رائے میں اس کا واحد حل ہے 'رحجان ساز تعلیم' ہے۔ ایسی تعلیم جو طالبعلم کے رحجان میں دو عناصر پیدا کرے۔ اول ذوق مطالعہ اور دوم شوق مشاہدہ۔ اور ان دو عناصر کے نتیجے میں اس میں غور و فکر اور تفکر و تدبر کی صلاحیت بیدار کرے۔

اس ہدف کے حصول کے لیے ہمارے تدریسی اداروں کو صرف اس قدر ہی کرنا ہے کہ ہر ممکن طریقے سے بچوں میں مطالعے کا ولولہ پروان چڑھائیں۔ اور یہ کام زبانی نہ ہو بلکہ عملی ہو اور بچے میں مطالعے کی سچی لگن اس طرح بیدار کر دی جائے کہ وہ تاحیات مطالعے کے سحر میں جکڑے رہیں۔ اور شوق مشاہدے کی ترویج کے لیے بہت سے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر تعلیم یافتہ فرد اپنے خاندان کے افراد کے علاوہ کم از کم ایک بچے یا بالغ فرد میں ایسا ہی ذوق و شوق پیدا کر کے اس کی شخصیت کو تب و تاب جاودانہ عطا کر دے۔ یاد رکھیے کہ یہی ہماری ذہنی انحطاط، بے جا خوش گمانیوں، فکری غلامی اور مرعوبیت اقوام عالم کا مداوا ہے۔