"میچ" – احسان کوہاٹی

سوشل میڈیا سے پہلے کم از کم یہ سب اتنا آسان نہ تھا،اس کام کے لئے ہمارے دشمنوں کو ہماری صفوں میں میر صادق اور میر جعفر تلاش کرنے پڑتے تھے وہ میر جعفر اور میر صادق جن کے ہاتھ ہمارے قلعوں کے دروازوں کی چابیوں تک پہنچ سکتے تھے یہ ان تک پہنچ جاتے تھے ،ان سے راہ و رسم بڑھاتے مہنگے تحفے دیئے جاتے ،شیشے میں اتارا جاتا اورچمک دکھاکر آنکھیں خیرہ کر دی جاتیں تب ان میر جعفروں کو اپنے قلم کا سودا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوتی۔ پھرانہیں ڈائریکشن دی جاتیں بتایا جاتا کہ کیا لکھنا ہے کس بات کو اجاگر کر نا ہے اورکیا "ماحول" بنانا ہے۔ بدلے میں انہیں اس محنت کا پرکشش بھرپور معاوضہ دیا جاتا۔ اس معاوضے کی ادائیگی بھی بڑی دلچسپ انداز میں ہوتی۔ ان قلمکاروں کو بیرون ملک کسی اخبار میں کالم نگاری کی "نوکری" دلا دی جاتی ۔ یہ مہینے میں چار کالم لکھتے اور ان چار کالموں کاانہیں وہ شاندار معاوضہ دلوایا جاتاکہ ان کے سارے دلدر دور ہوجاتے۔ یہ معاوضہ دراصل اس محنت کا صلہ ہوا کرتی تھا جو وطن عزیز کے اخبارات رسائل میں یہ "ان " کی ہدایات کے مطابق لکھا کرتے تھے اور اب کیا سیلانی یہ بھی بتائے کہ وہ ہدایات، احکامات، دو قومی نظریہ ،استحکام پاکستان ،ملی یکجہتی کے خلاف الفاظ پرونے کی ہوتی تھیں ؟ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور قیام پاکستان کے حوالے سے بحث چھیڑ دینے کی ہوتی تھیں؟ معاشرے کے اساس پر سوال اٹھانے کے لئے کہا جاتا تھا؟ مذہبی منافرت اور مایوسیاں کاشت کی جاتی تھیں ؟ ناامیدی کے جھکڑ چلوائے جاتے تھے ؟

یہ کام ایسا آسان نہ تھا سب کے قلم برائے فروخت نہیں ہوتے تھے اور سب سب کچھ لکھنے پررضامند بھی نہ ہوتے تھے لیکن اب یہ کام سوشل میڈیا کے ذریعے بہت آسانی سے ہونے لگا ہے کہیں سے بیٹھے بٹھائے کچھ بھی گھڑ دیا جائے کچھ بھی پھیلا دیا جائے،کسی بھی سازش کے بیج بو دیئے جائیں ،مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی سے لے کر وطن عزیز کی نظریاتی سرحد وں پر توپیں داغنی ہوں یا روس کی اترن کی دستار بنانی ہوکوئی مسئلہ نہیں فیس بک حاضر ہے۔ فیس بک فتنوں کی آماجگاہ ہے اور سیلانی کے فیس بک کے احباب میں شامل وہ نوجوان بھی کسی فتنے کے جال میں پھڑپھڑاتا ہوا لگ رہا تھا اسے کسی "پیرکامل" نے نظریہ پاکستان کے خلاف پانی دم کرکے پلا دیا تھا۔ اس کی مثال کراٹے کے اس کھلاڑی کی سی تھی جو نئی نئی بلیک بیلٹ باندھنے کے بعد ہاتھ پاؤں چلانے کے لئے جھگڑے مول لیتا ہے۔

بات شروع ہوئی سیلانی کی کچھ تحریروں پر عجیب سے تبصروں سے ،ٹھیک ہے یہ کسی کا بھی حق ہے کہ وہ کسی چیز کو پسندکرے یا رد،کچھ لوگ سیلانی کی تحریریں پسند کرتے ہیں تو ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں یہ کیا قلابازیاں مارتا رہتا ہے کیا دقیانوسی باتیں کرتا ہے ۔ اس نوجوان نے پہلے پہل تو اپنے تبصروں کے ذ ریعے سینگ مارنے کی کوشش کی کامیابی نہ ہوئی ان باکس میں براہ راست بات کرنے لگا

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اکھنڈ بھارت کے سامنے ڈھال ہے - شمس الدین امجد

"سر! آپ کو نہیں لگتا کہ آپ جلتی پر تیل چھڑک رہے ہیں؟"

"مطلب؟" سیلانی نے پوچھا

"میں کافی عرصے سے آپ کی فرینڈلسٹ میں ہوں تین برس تو ہوگئے ہوں گے۔ اس عرصے میں آپ کو سطحی اِشوز پر لکھنے والا پایا ہے ،معذرت چاہتا ہوں اگر میری بات بری لگی ہو"

"نہیں بھئی معذرت کیسی؟ یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے کہ آپ نے بہرحال مجھے قلم کار قبیلے میں تو رکھا ،سطحی موضوعات پر لکھنے والا ہی سہی"

"سر! اب وقت وہ نہیں ہے۔ انگلینڈ اور فرانس کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان دو نوں قوموں کے درمیان کیا خونریز لڑایاں ہوچکی ہیں؟ دونوں نے ماضی دفن کرکے آگے بڑھنے کا سوچا اور اب دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں سے ہیں"

"بھائی !کہنا کیا چاہ رہے ہو ؟ ذرا کھل کر کہو" سیلانی اس کی لمبی تمہید سے چڑگیا

"جرمنی نے کس سے سینگ نہیں پھنسائے تھے اور تو اور امریکہ نے ایٹم بم مار کر جاپان کی کمر توڑ ڈالی تھی۔ اگر جاپان وہی انتقام کی آگ جلائے رکھتا تو آج جاپان کا یہ مقام ہوتا؟" اس نے سیلانی کی جھنجھلاہٹ نظر انداز کر دی تھی ۔ اب سیلانی اسکا مقصد سمجھنے لگا تھا وہ آہستہ آہستہ سیلانی کے گرد گھیرا تنگ کر رہا تھا۔

"آپ یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ ہمیں بھارت کی جانب مکّا تاننے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے"

"بالکل سر!سب کچھ بدلا جا سکتا ہے، مذہب بھی، لیکن ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔ آپ دیکھیں ناں ،ہمارے ملک میں غربت کا کیا عالم ہے، نصف آبادی پیٹ بھرکر کھانا نہیں کھا پاتی اور یہ میں نہیں اقوام متحدہ کہہ رہی ہے ۔ یہاں حال یہ ہے کہ اسپتالوں میں ہمارے لئے بستر نہیں ہیں، اسکول کالج نہیں ہیں اور ہم جنگی جنون میں عوام کا پیٹ کاٹ کاٹ کر بارود کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ تقسیم ہی انگریزوں کا کھیل تھی۔ ہندو مسلم صدیوں سے یہاں رہ رہے تھے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ساتھ رہ لیتے اور ہم بہت اچھے خوشحال ہوتے۔ ذرا سوچیں کہ پاکستان اور بھارت کا دفاعی بجٹ ہم پر لگ رہا ہوتا۔ آپ نے کبھی کیلکولیٹ کیا ہے دونوں ملکوں کا دفاعی بجٹ کتنے کھرب ڈالر کا بنتا ہے؟"

"او بھائی ایک منٹ ایک منٹ!یار یہ ساری دانشوری جھاڑنے کے لئے آپ کو رمضان کا مہینہ اور میں ہی ملا تھا؟ہم ہندوستان میں محکوم بن کر نہیں رہ رہے تھے، اعلٰی ظرف حاکم تھے ،ہندوؤں کو حکومت کا موقع ملا تو ان کی اعلٰی ظرفی دیکھ لی۔کل ہی نیوز چینلز پر رپورٹ چل رہی تھی کہ بھارت میں ایک مسلمان خاتون ایمرجنسی میں اپنے شوہر کو اسپتال لے کر گئیں تو اسے کوئی وہیل چیئر دینے والا نہیں تھا۔ وہ مجبوراً شوہر کو گھسیٹ کر لانے لگی تو بھی کوئی اس کی مدد کو نہیں آیا۔ دیکھو دوست! تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ تقسیم کے بعد جارحیت پاکستان نے نہیں بھارت نے کی تھی۔ کشمیر پر روس یا ایران نے فوج نہیں چڑھائی تھی یہ ہمارا پیارا پڑوسی بھارت ہی تھا۔ پہلے ایٹمی دھماکا بھی اسی پڑوسی نے کیا تھا اور یہ جو آپ فرما رہے ہیں نا کہ ہندو مسلمان ساتھ ساتھ رہتے آئے تھے مزید بھی رہ لیتے تو ذرا بھارت میں مسلمانوں کا حال دیکھ لو ۔ کارخانوں میں مسلمانوں کے ٹفن کھول کھول کر چیک کئے جاتے ہیں کہ گوشت بکرے کا ہے یا گائے کا ؟ منافقت دیکھئے کہ متحدہ عرب امارات کو سب سے گؤ ماتا کو گوشت بھی ہندوستان سے ہی ایکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ مذہبی منافرت دیکھنی ہے تو بھارت کا ویزا لگوائیں اور سمجھوتہ ایکسپریس پر جا بیٹھیں واہگہ پار ہوتے ہی پہلے اسٹیشن پر ہندو پانی مسلم پانی ،ہندو چائے مسلم چائے کی آوازیں سنائی نہ دیں تو آکر میرے کان پکڑ لینا ۔ بھائی وہاں توچائے اور پانی بھی ہندواور مسلمان ہے ۔ مسلمانوں کو علیحدہ کپ گلاس میں چائے ملتی ہے اور ہندو کو الگ ۔ ہندوؤں کے کپ کو مسلمان چھو بھی نہیں سکتا کہ ان کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے اور آپ بات کر رہے ہو کہ دونوں ساتھ رہ لیتے؟ "

یہ بھی پڑھیں:   67 لاکھ 50 ہزارکروڑ نہ لینا! یہ کیسی دردمندی ہے؟ صادق رضا مصباحی

"لیکن یہ اس مسئلے کا حل تو نہیں،ہم دونوں ملکوں کی عوام خط غربت۔۔۔"

"بھاڑ میں گیا یہ خط اور غربت کی لکیر! دیکھو بھائی ! آج ہم بھوکے ننگے ہیں مگر ہیں تو سہی۔ اگر ہمارا دفاع کمزور ہوتا توسوا ارب کی آبادی کا بھارت ہمیں کب کا ہضم نہ کر چکا ہوتا؟ ہم آج بھوک سے پریشان ہیں تو کل اس پریشانی سے نکل سکتے ہیں۔ کل پیٹ بھر کر کھا بھی سکتے ہیں لیکن دفاع کمزور ہوا تو بنیا ہمیں کھا جائے گا۔ وہاں جا کر مسلمانوں کا حال دیکھو،مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں کروڑوں میں ہیں اور سرکار ی ملازمتوں میں حصہ صرف ڈھائی فیصد کوٹہ ہے ۔ بھارتی فوج میں مسلمانوں کو لیتے ہی نہیں۔ نیوی، آرمی اور ائیر فورس کے ساتھ ساتھ پیراملٹری فورس کو بھی ملا لو تو انتیس ہزار مسلمان فوجی بھی جمع کر پاؤ گے۔ ان کے ساتھ آپ رہنے کی بات کر رہے ہو بیٹا!تصویر کے دونوں رخ دیکھا کرواور پھر فیصلہ کیا کرو ۔"

سیلانی کا ارادہ اس نوجوان کی مزید دھلائی کا تھا مگر اس نے کنی کتراتے ہوئے کہا

"سیلانی بھائی! میچ شروع ہو گیا ہے؟"

"کون سا؟"

"چیمپئنز ٹرافی ،انگلینڈ میں پاک بھارت کا میچ ہو رہا ہے "

"تو ہونے دو ،تم ایک منٹ میری بات سن لو"

"سیلانی بھائی ! پھر بات ہو گی پاک بھارت میچ روز روز تو نہیں ہوتے"

"بالکل یہی ،بالکل یہی۔۔۔یہی فرق تو اس ہمسائیگی کا فرق ہے جو آپ میں بھی ہے۔ میچ تو ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن پاک بھارت کے میچ کی بات ہی کیا ہے ،ہے ناں! یہی بات تو میں سمجھا رہا تھا" اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور انباکس میں ایک لہراتا ہوا ہاتھ چھوڑ گیا جسے مسکراتے ہوئے سیلانی دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.