ریلوے سٹیشن - محمد جمیل اختر

"جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟" جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے سٹیشن پر اترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔

"جناب، پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہوگیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اسے لے کے اس سٹیشن پر آئے گا۔ "

" اس کے علاوہ اور کوئی متباد ل حل نہیں کیا؟ "

"نہیں جناب، یہی حل ہے"

"اچھا کتنا وقت لگے گا؟ "

"دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے " ٹکٹ چیکر نے کہا

"دوگھنٹے ؟؟؟" میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔

دوگھنٹے اب اس سٹیشن پر گزارنے تھے مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے اور کچھ کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔

راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا۔ ایک عرصے بعد میں اس راستے سے گزرا تھا اور اس سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔

مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے ان دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اترتے تھے۔ کیسے دن تھے؟ نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر؟ ادھر راولپنڈی سے بیٹھے اور ادھر ملتان سٹیشن۔

میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں۔ ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آنا پڑاہے، اب ملتا ن جارہاہوں۔ کچھ روز وہاں رہ کے کراچی جانے کا ارادہ ہے۔

میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے۔ یہ وقت بھی عجیب ہے، گزارنے پر آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پر آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔

"جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔" ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے۔ میرے ہم عمر ہی ہوں گے شاید۔ مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بینچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔

چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔

"سنیے محترم! میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں" میں نے ان صاحب سے کہا۔

"اچھا"، جواب ملا

چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے غور سے دیکھا۔ ایسا لگا میں نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہو۔ شاید اس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے انہیں دیکھا ہو۔ مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟؟؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آ کر بیٹھ گیا۔

"مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے؟" میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:   پرسکون زندگی کا اہم اصول - حنا صدف

"آپ کہیں جارہے ہیں ؟" ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا۔

"جی ریلوے سٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں۔" میں نے کہا

"نہیں سب لوگ نہیں جارہے ہوتے۔" ان صاحب نے جواب دیا

"اچھا" میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے سٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام، یہ نام؟ کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔

"کیسے کیسے ہم جماعت تھے؟ کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حال ہے کہ نام تک یاد نہیں۔ شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی۔"

میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا۔ اوہ ہاں یاد آیا! بشارت علی نام تھا اس کا۔ اور یہ سٹیشن، اب یہ گتھی سلجھی تھی۔ بشارت علی اسی سٹیشن پر اترا کرتا تھا۔ میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے؟ اس سٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اس کا گھر تھا۔

دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں میں دستک دینے لگی تھیں۔

"آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ " وہ صاحب پھر بولے۔

"ملتان۔" میرا جواب مختصر تھا۔ میں ان سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

ہاں، تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ سٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اسے اس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے۔ پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔

وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔

ہم تھرڈ ائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھناچھوڑدیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اس نے کیوں کیا؟ وہ پڑھائی میں اچھا تھا، پھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا جانے اس کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اس سے اس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم اسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے۔ اسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارے ایسا کہنے سے اسے کچھ اطمینان ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔

مجھے یاد ہے اس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔ ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اس کی خیریت پوچھنے گئے۔ گوکہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے؟

یہ بھی پڑھیں:   پرسکون زندگی کا اہم اصول - حنا صدف

مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں ضروراس سے کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویے نہیں بدلنے چاہئیں۔ اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرزکودیکھا۔ سب دیکھا دیکھا تھا کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟

"کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟"

"آپ غالباً راولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟" سلسلہ پھر روک دیا گیا

"جی ہاں، میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے۔" میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔

"آپ شاید برامان گئے میرے سوال پر؟"

"نہیں ایسی کوئی بات نہیں" میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا۔ دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے۔

"کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے؟" یہ سوچتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوا۔ "ہاں! لیکن نہیں! میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتا تھا"

مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اس کے حالات نہ پوچھ سکا۔ مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا؟ دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔

انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔

"آئیں نا آپ بھی ؟" میں نے ان صاحب سے کہا

"نہیں، میں نے کہیں نہیں جانا۔ میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔"

"تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟" میں نے پوچھا

"جی ہاں"

"اچھا، تو آپ اس گاؤں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے۔" میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں تو ان سے ہی خیریت پوچھ لوں۔

بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔

"آپ اسے کیسے جانتے ہیں ؟"

"یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟"

"جی جانتا ہوں۔"

"آپ یہ بتا سکتے ہیں وہ اب کیسے ہیں؟ وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں۔ میں نے ان سے پوچھنا تھا انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا؟ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں؟" میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا، ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔ "وہ اب کیسے ہیں، ہم انہیں خط نہ لکھ سکے۔ شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے۔ کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں ؟"

"تم کمال احمد ہو شاید؟" ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا

"جی جی، میں کمال ۔۔۔۔۔ لیکن، لیکن آپ کیسے جانتے ہیں؟ کیا آپ ہی؟"

"دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیے جاسکتے۔ خدا حافظ!"

پھر تیس سال بعد میں بھاگ کر ریل گاڑی ميں سوار ہوا اور نظریں ریلوے اسٹیشن سے باہر جانے والے راستے پر تھیں، جہاں بشارت عصا ٹیکتا ہوا جا رہا تھا۔