رمضان ٹرانسمیشن، مذہبی اینٹرٹینمنٹ - رمشا اکبر

آمدِ رمضان کے ساتھ ہی معاشرے پر دین کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ ہر کسی کے معمولات میں کیسی واضح تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ نیکی کی دوڑ میں ہر چھوٹا بڑا سبقت لے جانے کی کوشش کرتا نر آتا ہے۔ تراویح اور دورس میں شرکت کے سلسلے ہوتے ہیں، دن اور رات کے اوقات میں محافل قرآن سجتی ہیں، جن میں سب اپنی کوشش سے ثواب حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں لیکن اسی دوران میڈیا کی ہرممکن کوشش ہوتی ہے کہ اپنے استاد 'ابلیس' کی کمی پوری کی جائے۔

سال بھر کا پیسہ کمانے کے لیے چینل مالکان نے رمضان کو ہدف بنا لیا ہے جہاں رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر مذہبی انٹرٹینمنٹ پیش کی جا رہی ہے۔ یعنی وہ مہینہ جس میں روزہ فرض ہے، اور مقصد تقویٰ کا حصول ہے لیکن اسی مہینے کے لیے خصوصی نشریات میں سے اللہ، رسول اور قرآن کو باہر کردیا گیا۔ ان کی جگہ اداکار ہیں، گلوکار، بھانڈ ، میراثی، گویے اور مسخرے ہیں جو رمضان ٹرانسمیشن کر رہے ہیں یعنی دین کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس نشریات کے معاشرے پر اور عوام پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ بہت مایوس کن ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس جہالت کا دفاع کرنے والے بھی اب میدان مین نظر آتے ہیں جیسا کہ رمضان نشریات کے کسی میزبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیا پتہ وہ اللہ کی نظر میں ہم سے بہتر ہو؟ حیرت ہے کہ جب صحت سے متعلق پروگرام کی میزبانی کروانی ہو تو کوئی ڈاکٹر اور قانون سے متعلق پروگرام میں کوئی اہم وکیل اور اسی طرح کسی بھی موضوع پر رائے لینی ہو تو اس کے ماہر کو طلب کیا جاتا ہے، لیکن جب معاملہ کسی دینی پروگرام کی میزبانی کا ہو تو کسی عالم یا شعائر اسلام پر عمل پیرا افراد کے بجائے اداؤں سے لبھاتے اداکار اور گاتے گنگناتے بھانڈ میراثی ملتے ہیں۔ یعنی مسئلہ بہتر اور بر موضوع پروگرام کرنا نہیں بلکہ اچھی ریٹنگ حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ اشتہار سمیٹنا اور جیبیں گرم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح ذخیرہ اندوز اور منافع خور سال بھر سے زیادہ رمضان میں کماتے ہیں، بالکل اسی طرح یہ چینلز بھی اس مہینے میں جیبوں میں خوب مال ٹھونستے ہیں۔

اس صورت حال میں تمام تر ذمہ داری سرکاری اداروں کےکاندھوں پر آتی ہے کہ وہ رمضان کے تقدس کی پامالی کو محسوس کرے اور اس کی بحالی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔ لیکن پیمرا نے رمضان سے قبل جو اصول و ضوابط جاری کیے تھے، ان پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ کسی پروگرام میں بغیر ہاتھ لگائے تربوز کھانے کا مقابلہ ہو رہا ہے تو کہیں بیویوں کو شوہر کے سر پر واٹر بال پھاڑنے کے لیے دیے جاتے ہیں؟ کیا پاکستان میں تفریح کا یہی "مہذب" انداز رہ گیا ہے؟ کیا رمضان کا مقصد یہی ہے کہ اس ماہ کی اہم راتیں انعامات کی لالچ میں لوگوں کو بھکاری بنا کر گزاری جائیں؟ سوچنےکی ضرورت ہے۔