وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر - مجاہد بخاری

ایک زمانہ تھا کہ لڑکیاں تعلیمی اداروں میں گھروں سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔ انہیں درسگاہوں تک لے جانے اور گھر واپس لانے والے رکشہ ڈرائیور سے لے کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے اساتذہ تک سب ہی اپنی جان سے زیادہ عصمتوں کی حفاظت کرتے تھے۔ اکتوبر 99ء کے بعد حکمرانوں نے 'روشن خیالی' کے نام پر ملک کو عریانی کے دقیق صحرا میں پھینک دیا۔ مخلوط تعلیمی سرگرمیاں وبال بن گئیں۔ سیمیسٹر سسٹم نے اساتذہ کو فرعون سے بڑا بازیگر بنا دیا۔ اس سسٹم نے کئی پاکباز بچیوں کو درندگی کی ہوس پہ چڑھا دیا۔ ہم روشن خیال ہوگئے مگر قوانین کو بہتر نہیں کیا گیا۔ ہم کوئی TV ڈرامہ اکٹھے بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے، ھمارے ٹی وی ڈرامے محبت، فراق، زیست، شادی، حمل اور اسقاط حمل کے گرد گھومتے ہیں۔

ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس میں دشمن کی ماں، بیٹی اور بہن حرمت تک کی گئی ہے۔ حاتم طائی کی بیٹی کو جب اس کے ملک واپس بھیجا گیا تو اس کے ساتھ دو اصحابہ کو بھی روانہ کیا گیا۔ وہ اپنے ملک پہنچی تو اپنے بھائی عدی بن حاتم کو کہا "آؤ اس دین میں داخل ہوتے ہیں جس کے ماننے والے ایسے ہیں کہ سات دن کے سفر میں مجھے یوں لگا کہ جیسے میں اندھوں اور بہروں کے ساتھ محوِ سفر ہوں۔ انھوں نے آنکھ اٹھا کر میری طرف نہیں دیکھا۔" یہ روایات اور اقدار ہیں جو اسلام نے ہمیں ورثے میں دی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ میڈیا آزاد ہوا لیکن یہ بھی مشکوک بات ہے۔ میڈیا پر بھی دباؤ ہے کہیں سیاسی دباؤ ہے، کہیں معاشی، کہیں اقتصادی اور کہیں معاشرتی دباؤ ہے، جس کی بدولت میڈیا وہ کردار ادا کر ہی نہیں پا رہا جو کہ اسے ادا کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مکمل طور پر آزادی رکھنے کے باوجود آزادی کو مکمل محسوس نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنے اصل سے دوری۔ وہ سبق، جو اسلام نے ہمیں سکھایا، ہم اس کو بھول بیٹھے ہیں۔ اب وقت ہے اس سبق کو پھر سے یاد کرنے کا۔ بقول علامہ اقبال

یہ بھی پڑھیں:   اقرا خالد کا بہاولپور سے کینیڈین پارلیمنٹ تک کا سفر

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر