تنہا ہوتا انسان – محمد جمیل اختر

صاحبو، زندگی اتنی بھی دکھی یا اداس نہیں جتنی کہ ہمیں محسوس ہوتی ہے یا جتنی کہ ہم دوسروں کو بتاتے ہیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک مشکل دور ہے، نفسانفسی کا عالم ہے، ٹیکنالوجی نے ایسے فاصلے کم کیے ہیں کہ اب کوئی فاصلے رہے ہی نہیں، سو اب کسی کو کسی کی پرواہ نہیں۔ یہ بھی ایک عجب حقیقت ہے کہ فاصلے تھے تو خیال بھی تھا، لوگ کئی دن ایک دوسرے کے خط کا انتظار کرتے، فون کی گھنٹی بج اٹھنے سے سارا گھر چونک اٹھتا، گاؤں کے چوپال پر لوگ دن بھر کے قصے سنتے سناتے، یہ دراصل ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس بھی تھا۔ بڑے بوڑھے بچوں کو کہانیاں سناتے گویا یہ بھی تربیت کا حصہ تھا اور روایات یونہی سینہ بہ سینہ نسلوں میں منتقل ہوتی تھیں۔ لیکن وقت نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا، شاید انسان بھی۔

اب کس کے پاس وقت ہے کہ وہ خط لکھے یا کسی کے خط کا انتظار کرے، فون کی گھنٹی کا انتظار اب چہ معنی دارد کہ ایک بٹن موبائل کا دبائیں اور رابطہ ہوگیا۔ کہانیاں سننے کا اب وقت کہاں کہ یہ بچے اکیسویں صدی کے بچے ہیں جو سپر ہیروز کی فلمیں دیکھتے ہیں اور انہیں وہی پسند ہیں۔ پرانے قصے اب قصہِ پارینہ ہیں۔

آج کے بچوں کے پاس بھی اب بالکل وقت نہیں ہے۔ یہ بچے بچپن ہی سے مصروف ہیں کیوں کہ انہیں گھنٹوں فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب وغیرہ پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ چند گھنٹے انٹرنیٹ نہ آئے تو ان کی سانسیں ڈوبٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار سے ان کی زندگی سلو موشن میں چلنے لگتی ہے۔ افسوس کہ یہ بہت مجبور اور مشینی بچے ہیں اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنہائی پسند بچے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ یہ اکیلے خوش رہ سکتے ہیں حالانکہ یہ مشینیں بھی نہیں ہیں۔ یہ مشینوں سے محبت کرنے والے بچے ہیں، یہ وہ روبوٹ نسل ہے جو احساس سے عاری بھی ہوسکتی ہے۔ شاید آنے والے زمانے میں یہ بھی چیک کیا جائے کہ انسان میں احساس کا درجہ کتنا ہے یا شاید یہ کہ کیا احساس ہے بھی یا مکمل روبوٹ کی سی کیفیت ہے۔

سو اس بدلتی دنیا میں فاصلے بظاہر تو کم ہوگئے ہیں لیکن انسان، انسان سے دور ہوگیا ہے۔ لوگوں کی اِس بھیڑ میں لوگ تنہا ہیں۔ ہر شخص ایک کندھے کی تلاش میں ہے کہ جس پر سر رکھ کر وہ اپنے دکھ درد سنا سکے۔ لیکن یہاں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ کوئی کسی کے دکھ درد سنے۔ شہروں میں لوگ سالوں ایک گلی میں رہتے ہوئے اپنے پڑوسی کو بھی نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔

تو صاحبو، زندگی اتنی تنہا نہیں کہ جتنی ہم نے بنالی ہے۔ ہمارے پاس کسی کے لیے کوئی وقت نہیں ہے اور یہ بہت دکھ کی بات ہے۔ زندگی کوئی بہت طویل دورانیے کا قصہ نہیں، یہ تو بہت مختصر سا لمحہ ہے۔ سو اس مختصر لمحے میں جو آسانیاں ہم بانٹ جائیں گے وہی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انسان اگر کسی کا مسئلہ حل نہیں کرسکتا تو کم ازکم چند گھڑی رک کر مسئلہ سُن تو سکتا ہے، دلاسہ تو دے سکتا ہے کچھ غم تو بانٹ سکتا ہے۔ سو اس تنہا ہوتے معاشرے میں لوگوں کو تنہا ہونے سے بچائیں، لوگوں کے پاس بیٹھیں لوگوں کے کام آئیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com