"تصویر کا دوسرا رخ" - خدیجہ افضل

آج رفیق کو گھر آنے میں کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی۔ وہ کتنی ہی بار دروازے تک جا کر گلی میں جھانک آئی تھی مگر کہیں دور تک اس کا نام و نشان نہ تھا۔ مایوس ہو کر پھر اندر پلٹ آئی اور صحن میں پڑی جھلنگا سی چارپائی پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ شہر کے پسماندہ علاقے میں ایک چھوٹے سے کوٹھڑی نما کمرے اور ہتھیلی بھر صحن والا یہ مکان اپنے مکینوں کی خستہ حالی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ سیلن اور کائی زدہ دیواروں سے اب دھوپ ڈھل چکی تھی ۔

اس ماچس کی ڈبی جتنے گھر میں سکینہ اپنے بوڑھے شوہر ، ایک بیوہ بہو سمیت دو یتیم پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتی تھی ۔سکینہ اور رفیق کا جوان اکلوتا بیٹا چنگ چی چلاتے ہوئے ٹرک کی ٹکر سے جاں بحق ہو گیا تھا اور اپنی بیوی اور یتیم بچوں کا بوجھ بوڑھے باپ کے کمزور کندھوں پر ڈال گیا تھا۔

وہ منتظر نگاہوں سے لکڑی کے بوسیدہ دروازے کو دیکھ رہی تھی ۔ مغرب کی اذان میں کچھ ہی وقت باقی تھا اور رفیق کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ پوتا کاشی بھی ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ شہر کے حالات بھی تو خراب تھے ۔ "ہائے اللہ خیر ہو" اب تو اس کا جی بہت گھبرا رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر سے اٹھ کر دروازے تک آئی اور کنڈی کھول کر گلی میں جھانکا۔ پھر مایوس ہو کر دروازہ بند کر کے اندر آ گئی۔ "اتنی دیر تو رفیق نے کبھی نہ لگائی تھی ،" یہ کہتے ہوئے اس نے بہو صائمہ کو آواز دی کہ روٹی ڈالنا شروع کرے افطاری کا وقت ہونے ہی والا تھا۔

صائمہ جو کہ بخار میں پھنکتی سات سالہ رابعہ کے سر پہ بھیگی پٹیاں رکھ رہی تھی ، ساس کی آواز پہ کمرے سے نکل کر لکڑیوں کا چولہا جلانے لگی ۔ کافی دیر تک پھونکنے کے بعد آگ بھڑکی تو وہ توے پر روٹیاں پکانے لگی ۔ سکینہ نے گھڑونچی پر رکھے گھڑے کو ہاتھ سے چھو کر پانی کے ٹھنڈا ہو نے کا اطمینان کیا ۔ اسی وقت دروازے پر آہٹ ہوئی تو وہ جلدی سے لپکی ۔ "آج بڑی دیر لگا دی تو نے کاشی؟" پسینے میں تر ، میلی قمیض کے دامن سے منہ پونچھتا 11 سالہ کاشی اندر آ کر چارپائی پر ڈھے سا گیا ۔ "دادی آج بہت کام تھا دکان پر ، صاحب نے چھٹی ہی دیر سے دی"

"ارے ہاں میں تو بھول ہی گئی ، عید جو آ رہی ہے،" سکینہ نے جھریوں بھرے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔

"دادی یہ لوگوں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ پتہ ہے عید کے سارے سوٹ پانچ ہزار سے شروع ہوتے ہیں اور لوگ دھڑا دھڑ خریدے جا رہے ہیں،" وہ ایک کپڑوں کی دکان پر ملازم تھا۔

"بس پتر ، رب سوہنے کی دین ہے یہ تو "سکینہ نے حسرت بھری آواز میں کہتے ہوئے آسمان کو دیکھا ۔

"تو دادا کے پاس سے ہو کر نہیں آیا؟ اس نے کوئی سبزی پیسے کچھ نہیں دیا تجھے؟" اچانک یاد آنے پہ وہ کاشی سے رفیق کے متعلق پوچھنے لگی ۔

کاشی چھٹی کے وقت دادا کی ریڑھی کے پاس سے ہوتا ہوا آتا اور رفیق دیہاڑی کے حساب سے اسے ہانڈی کے لیے پیسے یا اپنے کسی ساتھی ریڑھی والے سے سستے داموں خرید کر رکھی گئی تھوڑی باسی سبزی کا تھیلا دے دیتا۔ مگر آج تو کاشی بھی دیر سے آیا تھا۔

"دادی! چاچا کرم دین کہہ رہا تھا کہ تیرا دادا تھوڑی دیر ہوئی یہاں سے چلا گیا ہے اور وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ آج کچھ زیادہ بکری نہیں ہوئی،" کاشی نے دادی کو اطلاع دی ۔

سکینہ اب مزید پریشان ہو گئی تھی۔ تبھی دروازہ بجا تو وہ لپک کر کنڈی کھولنے گئی ۔ بوڑھا رفیق سر پہ پرانی میلی سی چادر رکھے ، پسینے میں بھیگا ہوا داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا ۔" آج بڑی دیر لگا دی تو نے؟" سکینہ دروازہ بند کرتی اس کے ساتھ اندر آ گئی۔

"صائمہ پتر ! یہ آم کاٹ لے روٹی کے ساتھ ، کاشی کے لیے"رفیق نے لفافہ صائمہ کو پکڑایا جس میں ایک گلا ہوا آم تھا ۔ وہ کبھی کبھار ایسا کوئی پھل اپنے پوتے کے لیے بچا لاتا تھا۔ ورنہ کچھ وہ گاہک بھی تھے جو سستے داموں پر ایسے پھل بھی خرید کر لے جاتے تھے۔

"ہاں بس آج کچھ زیادہ دیر ہوگئی ،" وہ اب صحن میں لگا ہاتھ کا نلکا چلاتا ہوا سکینہ سے مخاطب تھا۔

"کاشی بتا رہا تھا آج زیادہ بکری نہیں ہوئی؟" سکینہ نے اگلا سوال پوچھا۔

"ہاں، وہ اصل میں لوگوں نے فروٹ لینا بند کر دیا ہے، تین دن کے لیے ۔ آج بھی مشکل سے چار پانچ گاہک ہی آئے جن میں سے دو کو پڑھے لکھے بابو لوگوں نے سمجھا کر فروٹ لینے سے منع کر دیا۔ دو مجبوراً لے گئے ۔" رفیق اب منہ ہاتھ دھو کر چارپائی پہ آ بیٹھا تھا۔

"پر منع کیوں کر دیا انہیں؟" سکینہ منہ پہ ہاتھ رکھے حیران بیٹھی تھی ۔

"اوہ بھلیے، وہ کہتے ہیں کہ ہم فروٹ مہنگا بیچتے ہیں ، لوگ نہیں لیں گے تو ہمیں سستا کرنا پڑے گا،" رفیق نے اسے سمجھایا۔

"احتجاج کرنا ہے تو منڈی والوں اور آڑھتیوں کے خلاف کریں ۔ جب تم ادھر سے ہی مہنگا لاتے ہو تو سستا کیسے بیچو گے؟" سکینہ پریشانی سے بولی ۔

"پر دادا ! عید کے لیے پانچ سے دس ہزار روپے کا ایک سوٹ خریدنے والوں کو فروٹ ہی کیوں مہنگا لگتا ہے؟" کاشی جو دادا دادی کی باتیں سن رہا تھا ، چپ نہ رہ سکا۔

"بس پتر! مار ہم جیسے غریبوں کو ہی پڑتی ہے ۔ چاہے خریدار ہوں یا دوکاندار، امیر دوکاندار اور خریدار دونوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔"

رفیق نے بات مکمل کی ہی تھی کہ مسجد کے مائیک میں ہلچل کی آوازیں آنے لگیں ۔

وہ تینوں اٹھ کر چولہےکے گرد آ بیٹھے، جہاں آج افطاری میں گھڑے کا ٹھنڈا پانی ، سوکھی روٹی ، ایک رکابی میں سالن کے نام پر پانی میں گھلی ہوئی سرخ مرچ، کٹی ہوئی پیاز اور ایک گلا ہوا آم تھا ۔

"اماں ، میں نہیں کھاؤں گا یہ مرچ کے ساتھ روٹی ، پیٹ میں جلن ہوتی ہے میرے" کاشی نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

"ایسے نہیں کہتے پتر ، تو آم کے ساتھ کھا لے،" صائمہ نے نرمی سے کاشی کو ٹوکا ۔

"بس پتر دو دن اور ہیں، دو دن مرچ اور پیاز سے کھا لے۔ پھر اللہ نے چاہا تو کام چل پڑے گا" رفیق نے بھیگی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔