خلافت کے نام پر بچھایا ہوا جال - محمد عامر خاکوانی

پاکستان کے دونوں اطراف میں آگ سلگ رہی ہے، اس سے کیسا قیامت خیز شعلہ نکلے گا، اس کا ابھی صرف اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ بھڑکتی آگ کے شعلے اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ افغانستان، پاکستان اور بھارت کے جبر کا شکار ہمارے مظلوم کشمیری بھائی۔ داعش کی سلگتی چنگاری سے ہم سب کو ہوشیار رہنا اور اس کا توڑ کرنا ہوگا۔

یہ خطرہ ایک طرف تو افغانستان کی پشتون بیلٹ میں ہے، دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقوں میں جہاں کشمیری عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ افغانستان کی پشتون بیلٹ میں طالبان کا گہرا اثرونفوذ اور مضبوط گرفت ہے۔ ننگرہار اور بعض دوسرے علاقوں سے اب داعش کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ پچھلے چند ماہ میں داعش نے کئی بڑی کارروائیاں کیں، گزشتہ روز کابل بم دھماکے نے پورے افغانستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس حملہ میں سو کے قریب افغان ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر عام شہری تھے۔یہ افغان خانہ جنگی کا نیا فیز ہے، زیادہ لہو رنگ اور بھیانک۔

افغان طالبان کی گوریلا جنگ کے مختلف فیز ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ مزاج، کیفیت اور سٹائل رہا۔ ملا عمر کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت اور قبضے کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔ ملا عمر اور ان کے افغان طالبان کی جدوجہد کو اگر نکال دیا جائے تو پھر افغانستان کی عجیب وغریب صورت نظر آتی ہے۔ افغانستان کے تاجک، ازبک، ہزارہ وغیرہ اور شمالی اتحاد کی تمام تر قیادت نہ صرف امریکہ کے سامنے سرنڈر ہوگئی بلکہ انہوں نے ایک طرح سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ افغانستان نہ چھوڑے اور اس ملک کو اپنا غلام بنائے رکھے۔ انہیں خدشہ تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ امریکہ چلا جائے اور پھر طالبان دوبارہ لوٹ آئیں۔ جدید عہد میں شاید ہی کوئی قوم ایسی ہو، جس نے غیر ملکی قبضے کا ایسے والہانہ انداز سے استقبال کیا۔ افغان قوم کی غیرت، حمیت اورقابض قوتوں کے خلاف اس کی جدوجہد کا دنیا بھر میں شہرہ رہا ہے۔ ٹائن بی جیسے مؤرخ نے افغانستان کو عالمی قوتوں کا قبرستان قرار دیا۔ یہ سب کچھ بیکار اور غیر متعلق ہوجاتا، اگر افغان طالبان امریکیوں کے خلاف اپنی مزاحمتی گوریلا جنگ شروع نہ کرتے۔ دوسری صورت میں دنیا حیرت سے دیکھتی کہ افغانستان بھی فلپائن کی طرح امریکی فوج اور عسکری اڈوں کا مسکرا مسکرا کر خیر مقدم کر رہا ہے۔ چند ماہ پہلے ایک افغان صحافی سے بات ہو رہی تھی، اسے جب میں نے یہ بات کی تو پہلے تو وہ بھونچکا رہ گیا، پھر اسے تسلیم کرنا پڑا کہ واقعتا افغانستان میں غیر ملکی افواج کے قبضے کی صرف افغان طالبان ہی نے مزاحمت کی، ورنہ کرزئی حکومت سے لے کر شمالی اتحاد کی تمام تر ازبک، تاجک، ہزارہ قیادت نے تو امریکیوں کی خوشامد، چاپلوسی اور غلامی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ملاعمر نے اپنی گوریلا تحریک کو منظم کیا اور بھرپور لڑائی لڑی ۔ ملاعمر نے ایک اور احتیاط یہ کی کہ افغانستان کو نسلی یا مسلکی خانہ جنگی سے بچایاجائے۔ عراق میں القاعدہ کے ابومصعب الزرقاوی نے شیعہ سنی تقسیم کی سرخ لکیر کھینچ دی اور شیعہ آبادی کو ایسی بے رحمی سے نشانہ بنایا کہ عراق کا سوشل کنٹریکٹ پرزے پرزے ہوگیا۔ ملا عمر نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ تاجک، ازبک یا ہزارہ قیادت کو نشانہ نہیں بنایا اور عام شہریوں کو بھی اپنی کارروائیوں سے دور رکھا۔ ان کے تمام تر حملے فوجی اڈوں یا اعلیٰ سرکاری اہلکاروں پر تھے۔ ملا عمر کی زیر قیادت افغان طالبان نے کلاسیکل جنگ لڑی۔ اپنے سے کئی گنا بڑی اور ہزاروں گنا زیادہ وسائل والی امریکی فوج کو چھوٹے چھوٹے زخم لگا کر بے حال کیا اور جنگ کو کامیابی سے اتنا لمبا کھینچا کہ امریکی واپس جانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور نے بھی یہی حکمت عملی جاری رکھی۔ ملا منصور کو تب دھچکا لگا، جب اچانک ملا عمر کی وفات کی خبر عام ہوگئی۔ ملا منصور پر یہ الزام تھا کہ امریکیوں کے ساتھ عجلت میں امن مذاکرات کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ تاثر دور کرنے کے لیے یا شاید اپنی قوت کا سکہ جمانے کے لیے ملا منصور نے کئی بڑی کارروائیاں کیں، جن میں افغان شہری بھی نشانہ بنے، فٹ بال سٹیڈیم میں بم دھماکے کرانے سے لے کر بڑے ہوٹلوں اور سکول بسوں تک کو نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کی ذمہ داری بھی قبول کر لی گئی۔ یہ نہایت افسوسناک تھا۔ گوریلا تحریکیں اپنی اخلاقی حمایت اور اخلاقی برتری پر زندہ رہتی اور فتح پاتی ہیں۔ افغان طالبان کے اس دوسرے فیز کو بہت سے لوگوں نے پسند نہیں کیا۔ پاکستان میں بعض حلقے جو افغان طالبان کی گوریلا تحریک کے حامی رہے، مگر اب انہوں نے خود کو فاصلے پر کر لیا۔ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے دور میں بھی وہی پالیسی چل رہی ہے۔ یہ پالیسی تباہ کن ہے۔ افغان طالبان کو تو شہریوں کے لیے نجات دہندہ کا کردار ادا کرنا چاہیے، جس نے غیر ملکی افواج سے جنگ لڑی اور جو داعش کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

افغانستان میں داعش کا نمایاں ہونا ایک نیا فیکٹر ہے، یہ افغان خانہ جنگی کا نیا فیز ہے۔ داعش کی جڑیں افغانستان میں نہیں ہیں، یہ مصنوعی پودا ہے، مگر تیزی سے درخت بن رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے جنگجو داعش کا حصہ بن چکے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان لوٹنے کی آپشن نہیں رہی۔ داعش کا نمودار ہونا اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ ایسی چنگاری ہے، جس سے ہمیشہ امریکہ کو فائدہ پہنچا۔ جہاں یہ چنگاری گرتی اور آگ بھڑکاتی ہے، وہاں امریکہ کے لیے مداخلت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ افغانستان کا منظرنامہ بدلنے والا ہے، افغان طالبان روس اور چین کے تعاون سے مذاکرات کے عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ گلبدین حکمت یار اپنی برسوں کی روپوشی ترک کر کے واپس منظر عام پر آ چکے ہیں۔ حکمت یار کا واپس آنا معمولی بات نہیں، اگر چہ ان کی اہمیت اب افغان طالبان کی نسبت خاصی کم ہو چکی ہے۔ اس کے امکانات ہیں کہ روس، چین اور پاکستان کے تعاون سے ہونے والے مذاکرات آگے چل کر طالبان کو افغان حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بنانے کا موجب بنیں۔ افغان طالبان کو مگر داعش سے خبردار رہنا پڑے گا۔ داعش کا خاتمہ ضروری ہے ورنہ تباہ حال افغانستان عراق اور شام کی طرح بالکل ہی کھنڈر بن جائے گا۔ داعش کا فتنہ مسلمانوں کو ہر اعتبار سے تقسیم کر سکتا ہے۔ خلافت کے نام پر داعش نے جو جال بچھایا، اس میں پھنسنے والی قوم اور ملک کی تقدیر پر سیاہی ازخود پھر جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جو دانشور خلافت یا شریعت کے نام پر داعش کو فکری توانائی مہیا کر رہے ہیں، ان کا کھیل بہت خطرناک ہے۔ یہ لوگ داعش کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

اسی طرح ایک بہت خطرناک بات مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں خلافت کے نعرے تلاش کرنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان جس شدت اور قوت سے بھارتی ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے، یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ یہ مقامی کشمیری ہیں، معروف گھرانوں سے ان کا تعلق ہے، ان کا کسی بھی طرح کا کوئی تعلق باہر کی کسی مسلح تنظیم یا طالبان یا داعش وغیرہ سے نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے سوشل میڈیا پر لکھنے والے بلاگرحضرات بار بار اس پہلو کو واضح کر رہے ہیں۔ اگر کشمیریوں کی تحریک کو داعش یا خلافت سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی، اس جدوجہد آزادی کو سیکولرازم کے خلاف لڑائی قرار دیا گیا تو اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوگا۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی سب سے زیادہ حمایت اروندھتی رائے جیسے سیکولر دانشور کر رہے ہیں۔ بھارتی شدت پسند ہندو ضرور اس کے مخالف ہیں۔ کشمیری صرف آزادی مانگ رہے ہیں، ان کے نعرے واضح، لڑائی صاف اور طریق کار ہر ایک کے سامنے ہے۔ خدارا اس تحریک کے حوالے سے کنفیوژن نہ پھیلایا جائے۔

یہ بات بھی اب سمجھ لینی چاہیے کہ خلافت اگر کبھی آئی تو اس بار اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپرسفر کرے گی۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کھڑا ہو کر بزعم خود خلافت کا اعلان کر دے اور نہ ماننے والوں کی گردنیں اڑانا شروع کر دے۔ یہ خلافت نہیں بلکہ فساد کی علامت ہے۔ آج باقی ماندہ مسلمان ممالک کو مضبوط بنانے اور تباہی سے بچانے کی ضرورت ہے۔ جب مسلم ممالک مستحکم، خوشحال اور مضبوط ہوں تو وہ اگلے مرحلے پر ایک دوسرے کے قریب آتے جائیں گے اور پھر مستقبل کے کسی موڑ پر خلافت کی شکل بھی بن سکتی ہے۔ اس وقت مگر خلافت کا نعرہ لگانا دراصل داعش کے سلگتے فتنے کو اپنی صفوں میں داخل کرنا ہے۔ اس سے ایسی آگ بھڑکے گی جو قوموں کی تباہی سے کم پر نہیں ٹل سکتی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.