حدیث نبوی کے اِستعمال میں دو انتہائی رویے - عادل سہیل ظفر

اھل سنّت و الجماعت کے تمام مذاھب اور مسالک اِس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اللہ کے دِین کو جاننے کے دو بنیادی مصادر ہیں، ایک کتاب اللہ یعنی قران کریم اور دوسرا سُنّت رسول، قولی سُنّت (حدیث )، فعلی سُنّت (کام )، تقریری سُنّت (جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دیکھے سنے اور اُن کا اِنکار نہیں فرمایا )۔

اِس کے بعد قیاس و اجتہاد، جن معاملات میں قران و حدیث میں کوئی واضح نص مُیسر نہ ہو اُن کے لیے کِسی دُوسری نص پر قیاس کرتے ہوئے معاملے کا حل تلاش کرنا، لیکن عقیدے اور عِبادات کے معاملات میں قیاس و اجتہاد کی گنجائش نہیں۔

سُنّت رسول سے رُو گردانی کرتے ہوئے ہم اللہ کے دِین کے بہت سے مسائل میں حق تک نہیں پہنچ سکتے، مثلاً طہارت و پاکیزگی اختیار کرنے کے مسائل، حج و عمرے کے مسائل، مُردے کی تغسیل، تکفین و تدفین کے معاملات وغیرہ۔

حدیث شریف کے اِستعمال میں مرور زمانہ کے ساتھ ہم اِس وقت ایسے حالات تک آن پہنچے ہیں کہ ایک طرف تو بغیر کِسی تحقیق و تصدیق کے کِسی بھی روایت کو حدیثء رسول مان کر نشر کردِیا جاتا ہے اور مسائل اخذ کیے جاتے ہیں۔ اور دُوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو روایات حدیث کی تدوین اور تحقیق کے عُلوم سے دُور ہیں، حدیث کو محض اپنی عقل، سوچ و فِکر پر پرکھتے ہیں، اعتراضات کرتے ہیں، حتیٰ کہ صحیح اور ضعیف کا فرق جانے بغیر مطلقًا سب ہی احادیث کا اِنکار ہی کر دیتے ہیں۔ جب کہ یہ معروف ہے کہ صدیوں پہلے سے مُسلمانوں میں ضعیف روایات مروج کرنے کا کام شروع ہو چکا تھا، جِس کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں:

(1) لوگوں میں دِین کی رغبت پیدا کرنے کے لیے فضائل اور وعید پر مبنی روایات بنائی گئیں

(2) مُسلمانوں کو اُن کے دِین کےمسائل میں گمراہ کرنے، حق سے دُور کرنے کے لیے روایات بنائی گئیں

اور یہ بات محدثین کرام رحمہم اللہ کے لیے معروف تھی، اِسی لیے امام بخاری اور امام مُسلم رحمہما اللہ جیسے عظیم المرتبہ محدثین نے لاکھوں روایات میں سے چھان پھٹک کر، بڑی ہی باریک بینی سے تحقیق کر کے اپنی صحیح کتابوں میں صِرف صحیح روایات شامل کیں اور تقریباً سب ہی محدثین نے تمام روایات اسناد کے ساتھ نقل کیں تا کہ راویوں کی جانچ کے مُطابق کِسی روایت کے صحیح یا ضعیف ہونے کی پہچان کی جا سکے۔

روایات حدیث میں سے صحیح اور ضعیف کی تفریق کوئی ماضی قریب کی بات نہیں، بلکہ صدیوں پہلے محدثین کرام نے ضعیف روایات کو الگ الگ کتابوں میں جمع کرنے کا کام شروع کر دِیا تھا، مثلاً امام محمد بن طاھر المقدسی رحمہُ اللہ (متوفی 507ہجری) نے "تذکرۃ الموضوعات " لکھی۔ امام الحسین الجوزقانی رحمہُ اللہ (متوفی 543ہجری) نے "کتاب الاباطیل، الموضوعات من الاحادیث المرفوعات" لکھی۔ امام ابو الفرج عبدالرحمن ابن الجوزی رحمہُ اللہ (متوفی 597ہجری) نے "الموضوعات "لکھی۔

یہ صِرف چند مثالیں ہیں تا کہ قارئین کرام کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ صحیح اور ضعیف احادیث کا"شور"ماضی قریب کے کِسی "گستاخ"کی کاروائی ہے۔ بحیثت مُسلمان ہمیں اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہر بات دُوسروں تک پہنچانی چاہیے، کیونکہ ہمیں یہی ترغیب دی گئی ہے : بَلِّغُوا عَنِّی وَلَو آیَۃً، میری طرف سے( آئی ہوئی باتوں کی)تبلیغ کرو خواہ (تُمہارے پاس اُن میں سے ) ایک ہی بات کیوں نہ ہو(صحیح البخاری /کتاب الانبیاء /باب51) لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہی چاہیے کہ کِسی بھی روایت کو حدیث کے طور پر نہ تو ماننا چاہیے اور نہ ہی اُسے دُوسروں تک پہنچانا چاہیے۔

ذرا غور سے پڑھیے کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِس بارے میں کیا فیصلہ صادر فرما رکھا ہے : مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔ جِس نے مجھ پر جھوٹ منسوب کیا اُس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا(صحیح بخاری /حدیث/107کتاب العِلم/باب 38) إِنَّ كَذِبًا عَلَىَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ فَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ یقیناً مجھ سے جھوٹ منسُوب کرنا کسی بھی اور سے جھوٹ منسُوب کرنے کے جیسا نہیں، بلکہ جِس نے جانتے بوجھتے ہوئےمجھ سے جھوٹ منسُوب کیا(یعنی بلا تصدیق و ثبوت کوئی بات یا کام منسُوب کر دِیا)تو اُس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا(صحیح مُسلم/حدیث/5مقدمہ/باب 2)

اِس مفہوم کی صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ تقریباً حدیث شریف کی ہر کتاب میں موجود ہیں۔ میں نے صِرف صحیح بخاری شریف اور صحیح مُسلم شریف کی روایات پر ہی اکتفاء کیا ہے، کہ یہ دونوں کتابیں حدیث شریف کی تمام کتابوں میں سے سب سے زیادہ صحیح ترین اور قابل اعتماد ہیں۔

فقہ الأحادیث،شرح اور أحکام

ہمارے کئی مُسلمان بھائی بہنیں نیک نیتی ہی بِنا ءپر، ایسی روایات سناتے اور نشر کرتے رہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی، یا فعلی، یا تقریری سُنّت شریفہ کے طور ثابت نہیں ہوتیں۔ بلکہ اُن میں سے اکثر روایات تو ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی حوالہ، کوئی سند ہی نہیں ملتی، اور کئی ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں صدیوں پہلے محدثین کرام رحمہم اللہ یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ روایات لوگوں کی خود ساختہ مَن گھڑت روایات ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک سے ثابت نہیں ہوتِیں۔

جھوٹی، غیر ثابت شدہ روایات کو بطور حدیث و سنّت پھیلانے والوں میں ہمارے کچھ بھائی بہنیں مذکورہ بالا احادیث شریفہ میں سے لفظ " مُتَعَمِّدًا" کا معنی " اِرادۃً" کرتے اور سمجھتے ہیں، اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ "ہم جان بوجھ کر تو کوئی جھوٹ منسوب نہیں کرتے، ہم تو مختلف کتابوں میں مذکور روایات بیان کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ"۔ جب کہ اُن کا گمان نا دُرست ہے۔ یہ میرا ذاتی فہم نہیں، بلکہ ایک جلیل القدر صحابی أنس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کے فرمان کے مُطابق ہے۔

أنس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا ہے کہ"میں تُم لوگوں کو اِس لیے زیادہ حدیثیں نہیں سنُاتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ جِس نے بلا تصدیق کوئی بات مجھ سےمنسُوب کرنے کا اِرادہ کیا تو یقیناً اُس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا(صحیح مُسلم/حدیث/3مقدمہ/باب 2) أنس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کا یہ قول صاف صاف سمجھا رہا ہے کہ "مُتَعَمِّدًا، یا، تَعَمَّدَ " سے مُراد جھوٹ بنا کر منسوب کرنا ہی نہیں، کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ ُ کے بارے میں ایسا کرنے کا تصور بھی محال ہے بلکہ"مُتَعَمِّدًا، یا، تَعَمَّدَ" کا مفہوم "بلا تصدیق"ہے۔ پس ہمیں یہ یاد رکھنا ہی چاہیے کہ حدیث کی کسی روایت کو بلا تصدیق نہ ہی مانا جائے اور نہ ہی دُوسرے تک پہنچایا جائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.