سوشل میڈیا ناجائز کمائی کا ذریعہ - مفتی محمد وقاص رفیع

دنیا میں پیسہ واحد ایک ایسی جادو کی چھڑی ہے کہ جس کے بل بوتے پر انسان وہ سب کچھ کرسکتا ہے جو کسی اور ذریعہ سے ممکن نہ ہو۔ دولت کے حصول اور زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے میں پوری دنیا آج کل جس طرح پاگل اور دیوانہ وار پھر رہی ہے وہ محتاجِ بیاں نہیں۔ روپیہ پر روپیہ اور پیسہ پر پیسہ کمانے کی ہوس ناک دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے سے آگے بڑھنا تقریباً ہر شخص کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اور اس کا جنون اس خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس کے حصول کی خاطر انسان کچھ بھی کرسکتا ہے۔ وہ دوسرے انسان کی قیمتی جان بھی لے سکتا ہے، اپنا ایمان بھی بیچ سکتا ہے، دوسرے کا ہنستا بستا گھر بھی اُجاڑ سکتا ہے، کسی پاک دامن کا دامن داغ دار بھی کرسکتا ہے، جنسی بے راہ روی کا شکار بھی کرسکتا ہے، ڈاکہ مارسکتا ہے، ظلم ڈھا سکتا ہے، دوسروں کے بچوں کو داغِ یتیمی دے سکتا ہے، کسی کی خوش دامن کی زندگی کو بیوگی کا پیوند لگاسکتا ہے، الغرض وہ گراوٹ اور پستی کی ہر ایسی سر حد عبور کرسکتا اور ہر ایسی پستی میں جاسکتا ہے جہاں نہ کسی کی عقل جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کی سوچ پہنچ سکتی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب سے جدید ٹیکنالوجی نے کروٹ لی ہے، دنیا نے اپنے خفیہ بستہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے، اور سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ساری دنیا کو گلوبل ویلج بنا ڈالا ہے، تب سے انسان کی دسترس میں وہ سب کچھ آچکا ہے جس کا گزشتہ ادوار میں کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر محض ایک بٹن دبانے سے آج انسان وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے باآسانی مشاہدہ کر سکتا ہے جس کی مثال آج سے پہلے تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ مشہور ہے کہ فارس کے بادشاہ جمشید کے پاس “جام جمشید” نامی ایک ایسا پیالہ تھا کہ جس میں وہ پوری دنیا کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کرسکتا تھا، لیکن اتنی بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کل کے جدید دور میں “جام جمشید“ کو انٹرنیٹ سے اتنی مناسبت بھی نہیں کہ جتنی ایک طفل دبستان کو افلاطون سے ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا (فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر وغیرہ) اور سب سے بڑھ کر موبائل اور کمپیوٹر یہ سب چیزیں فی نفسہٖ اچھی اور اللہ تعالیٰ کی بے بہا نعمتیں ہیں، لیکن اس وقت ان کا استعمال تقریباً 90 فیصد غلط طور پر ہورہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو یقیناً بے جا نہ ہوگا کہ اینڈروئیڈ موبائل نے جلتی پر تیل کا کام دیا ہے۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو اپنے صارف کو وہ سب کچھ ہر جگہ مہیا کرسکتا ہے جو کوئی بھی دنیا کی دوسری چیز اسے ہرگز مہیا نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کی بنائی دنیا - محمد عامر خاکوانی

چند روز قبل ہندوستان کی ریاست حیدر آباد کی ایک رہائشی عورت نے اپنے شوہر کے خلاف کیس درج کرایا۔ عورت کا مؤقف تھا کہ اس کے شوہر نے ہم دونوں میاں بیوی کی مباشرت کی ویڈیو بنائی ہے اور اسے سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے۔ پولیس نے اس کے شوہر کو گرفتار کیا اور اس کے موبائل کا چیک اپ کیا تو اس سے اس ویڈیو کے علاوہ دوسری کئی ویڈیوز بھی سامنے آگئیں۔ پولیس نے جب اپنی تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا تو معلوم ہوا کہ واقعی سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ پر اس شخص کی سرگرمیاں مشکوک ہیں، بلکہ بہت ساری فحش ویب سائٹس کے ساتھ اس کے کافی گہرے اور دیرپا روابط بھی موجود ہیں اور اس نے اپنے آپ کو ان فحش ویب سائٹس پر باقاعدہ رجسٹر بھی کروا رکھا ہے۔ پولیس نے جب اس کا بینک اکاؤنٹ چیک کیا تو پتہ چلا کہ ڈالرز اور پاؤنڈز میں پیسے بھی ٹرانسفر کیے گئے ہیں۔ متاثرہ بیوی کا کہنا تھا کہ اسے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ میرے گھر میں ہورہا ہے، بلکہ ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ اس کی ایک سہیلی نے اسے اپنے گھر بلایا اور اس کے سامنے اس کی فلم چلا دی تب جا کر اس کی آنکھیں کھلیں۔

اس واقعہ کے بعد حیدرآباد پولیس خوب الرٹ ہوگئی اور اس نے تفتیش کرتے ہوئے مزید ویب سائٹس چیک کیں تو معلوم ہوا کہ ہندوستان میں صرف یہ ایک شخص ہی نہیں بلکہ درجنوں لوگ اس مکروہ اور گندے دھندے میں ملوث ہیں۔ یہ ملک کی نوجوان لڑکیوں، بیوہ عورتوں اور نئے نئے ابھرتے نوجوان لڑکوں کو ورغلا کر یا بہلا پھسلا کر اس طرح کی ویڈیوز بنا کر فحش ویب سائٹس پر اپلوڈ کررہے ہیں اور اس کے عوض لاکھوں کروڑوں کما رہے ہیں۔ یہاں تک دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ خود میاں بیوی باہمی رضامندی سے اپنی ازدواجی زندگی کی اس طرح کی ویڈیوز بناکر فحش ویب سائٹس پر اپلوڈ کرتے ہیں اور دھڑا دھڑا پیسے کما رہے ہیں۔

ضروری نہیں کہ اس قسم کا مکروہ دھندا نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی باہمی رضا مندی سے ہی پروان چڑھ رہا ہو بلکہ ایک مخصوص گروہ بھی سرگرم ہے جو ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے یہ مکروہ دھندا چلا رہا ہے۔ ان میں سے بہت سارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں لاعلمی اور غفلت میں ورغلا کر اس قسم کے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات اس طرح سے ورغلائے اور بہلائے پھسلائے گئے پاک دامن نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس لیے بھی تھانہ میں جاکر پولیس کے سامنے ان لوگوں کے خلاف شکایت درج نہیں کرواتے کہ کہیں وہ ان کی جنسی زیادتی والی ویڈیوز انٹرنیٹ اور دیگر فحش ویب سائٹس پر اپلوڈ ہی نہ کردیں۔ تاہم کئی ایسے واقعات اور مشاہدات بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ ان تمام تر خطرات کو پش پشت ڈالتے ہوئے کئی ایک متاثرہ لڑکیوں نے اس قسم کا مکروہ دھندا چلانے والے گروہ کے خلاف تھانے میں شکایت درج کروائی ہے اور اپنے لیے انصاف مانگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

یہ صرف ہندوستان کے حالات نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں بھی کئی ایک واقعات اس طرح کے سامنے آچکے ہیں۔ قصور میں جنسی زیادتی کا ایسا ہی ایک واقعہ سنہ 2015ء میں پیش آیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ وہاں ایک گروہ ہے جو نوجوان لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور پھر ان کی ویڈیوز کو فحش ویب سائٹس پر اپلوڈ کرکے لاکھوں اور کروڑوں روپے کماتا ہے۔ اس بات کا علم جب میڈیا کو ہوا تو انہوں نے اس مکروہ دھندے کی خبر کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا اور لوگوں کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔

چند سال قبل اسلام آباد میں بھی اسی قسم کے ایک گروہ کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ ایک عورت اپنی سربراہی میں ایسا ہی ایک مکروہ دھندا چلانے میں ملوث ہے، جو مختلف قسم کی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لاتی اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور جاتے ہوئے انہیں اس طرح بلیک میل کرتی کہ نہ تو تم نے ہمارے اس دھندے سے کسی کو مطلع کرنا ہے بلکہ آئندہ کے بعد ہر ایک لڑکی نے ایک خاص مقررہ مدت تک ہمیں مزید دس دس لڑکیاں بھی مہیا کرنی ہیں، اس طرح یہ دھندا خوب پھلتا پھولتا رہا اور حوا کی بیٹیوں کی عزتیں دن دیہاڑے لٹتی رہیں۔

یہ تو گنتی کی چند ایک مثالیں تھیں جو بطورِ نمونہ کے پیش کی گئی ہیں ورنہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اس وقت جنسی بے راہ روی جیسے ناسور میں جس بری طرح سے عالم انسانیت عموماً اور عالم اسلام خصوصاً پھنس چکا ہے اس سے خلاصی کے دُور دُور تک کوئی امکانات نظر نہیں آرہے۔ اس لیے اقبال کے شاہین بچوں اور بچیوں کے والدین سے میری یہ برادرانہ التماس ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنی اولاد پر کڑی نگاہ رکھیں، ان کے تابناک مستقبل کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھیں۔ بری جگہوں اور گندی مجالس میں اُٹھنے بیٹھنے سے بچوں کو منع کریں۔ انٹرنیٹ، کیبل، ڈش، موبائل فون اور اس قسم کے دیگر تمام حیا سوز آلات سے ان کی زندگی کو داغ دار ہونے سے بچائیں کہ کل کے درخشاں اور تابناک مستقبل کے حقیقی معنوں میں معمار اور سرمایہ یہی ہمارے شاہین بچے ہیں جو ابھی عقل کے کچے ہیں۔